’’خوشبو‘‘

0
270

میں نے کتنی بار کہا ہےخوشبو مجھ کو بہت پسند ہے
خوشبو انسانوں کی
رنگوں کی خوشبو
رشتوں کی خوشبو
سچ مچ مجھ کو بہت
پسند ہے
کیا کہا تم نے
پھر سے بولو
کیا سچ مچ تم یہ
سچ کہتے ہو
تم کو بدبو آتی ہے
انسانوں سے
رشتوں سے
پیار میں بھی
بدبو مہکی تھی
تم کو
لونگ الائچی
بیلا چمیلی
سب میں تم کو
بدبو آتی ہے
سارے رنگ مٹیالے
لگتے ہیں
شفق دَھنک سب
دھند بھرے لگتے ہیں
مجھ کو
تم پر
ترس آتا ہے
کتنی آسانی سے تم نے
اچھائیوں میں
ڈھونڈھ نکالی ہیں
بدبوئیں اور
رنگ مٹیالے کہتے ہو
قوس قزح کے
کاش تم اپنے
اندر ڈھونڈو
نفرت کے سلگتے
شعلوں کو
جس نے تم سے
چھین لیا ہے
پہچان کی طاقت
رنگوں کی
خوشبوؤں کی
انسانوں کی
کاش کہ تم
بجھا سکو
نفرت کے
ان شعلوں کو
پھر زندہ
انسان بنو
تم بھی کہہ دو
ہاں مجھ کو خوشبو
بہت پسند ہے
خوشبو انسانوں کی
پیار کی خوشبو
رنگوں کی خوشبو
رشتوںکی خوشبو
سچ مچ مجھے بہت پسند ہے
’’ٹہرا پانی‘‘
چھل چھل کرتی
دھارا پانی کی
ذہن کو جیسے
آئینہ دکھائے
دم دم بڑھتی
جیون دھارا کا
بھرم بتائے
پر وقت جیسا
شیتل جل بھی
مٹھی میں سے
چھن جاتا ہے
خالی مٹھی
بھیگی بھیگی
یاد دلائے
شیتل جل کی
’’تم‘‘
سہمی سہمی
چپ چاپ کھڑی
میں تم کو تکتی رہتی تھی
تل تل دکھ پہنچانے والے
کاش ایک بار تو
سوچا ہوتا
دکھ پہنچانا
خوشیاں نوچنا
کام نہیں انسانوں کا
آکاش سے اتری
وِچ witch
پاتال سے آئے جن
جوڑنے دو اِن
دونوں کو سمبندھ

ڈاکٹر شمیم نکہت

Also read

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here