Tuesday, March 24, 2026
spot_img
HomeMuslim Worldآزادی

آزادی

mravadhnama@gmail.com 

9807694588

اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

 

 

 

 

عبدالمنان صمدی

لیکن جناب یہ کب چلتا رہے گا
تب تک، جب تک انسان خود آزاد تسلیم کرتا رہے گا
کیوں؟ کیا؟ انسان آزاد نہیں
ہرگز نہیں
وہ کیسے؟
انسان خدا کی وہ واحد مخلوق ہے جو ازل سے غلام ہے اور ابد تک رہے گی، اور انسان ہی وہ واحد مخلوق ہے خدا کی جو سراپا غلام ہے
آپ کی بات میری سمجھ سے باہر جارہی ہے
تخیلات کی زندگی بسر کرنے والوں کو حقائق کی باتیں آسانی سے سمجھ میں نہیں آتی
آپ کہنا کیا چاہتے ہیں
بس یہی کہ انسان ایک غلام مخلوق ہے
میں نہیں مانتی
مت مانو، لیکن ایک بات بتاؤ
کیا؟
کیا تم نے کبھی مور کو ناچتے ہوئے دیکھا ہے
ہاں دیکھا ہے
کیسا لگتا ہے؟
نہایت خوبصورت، یہ دیکھو میرے پاس اس کا ایک پنکھ بھی ہے، میں اسے ہمیشہ اپنی ڈائری میں رکھتی ہوں
اچھا،جی
تو پھر تم نے مور کے پیروں کو بھی دیکھا ہوگا
ہاں دیکھا ہے اور بارہا دیکھا
تو کیا کبھی اس کے پنجے رکھنے کا خیال دل میں نہیں آیا؟
کیسی ناسمجھی کی باتیں کر رہے ہو
مور کے بنجے بھی بھلا کوئی کبھی رکھتا ہے اپنے پاس
کیوں؟ کیا وہ اس کے جسم کا ایک اہم حصہ نہیں
بالکل، لیکن اسے کوئی نہیں رکھتا
انسان نے ابتدا سے تصورات کو اپنایا اور حقیقت کو نظر انداز کیا ہے،واہ جی واہ کیا کہنے اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ مور کے پنکھ اس کے جسم کا حقیقی حصہ نہیں مانتے
بالکل مانتا ہوں
تو پھر
لیکن
لیکن کیا؟
یہ پنکھ ضرور حقیقی ہیں لیکن جس وجہ تمہارے پاس موجود ہیں وہ تصوراتی
مطلب
سچ بتانا کیا تم یہ خواب نہیں دیکھتی کہ ایسے خوبصورت پنکھ تمہارے بھی لگ جائیں اور تم بھی مور کی طرح ناچو گاؤ
ہاں بالکل ہوتی ہے لیکن آپ کہنا کیا چاہتے ہیں؟
یہی کہ تم خدا کی اس مخلوق سے تعلق رکھتی جو ازل سے غلام ہے اور ابد تک رہے گی ،کیا تم مور کی طرح پنکھ اپنے جسم پر اگا سکتی ہو
نہیں
کیوں نہیں؟
کیونکہ میں اس پر قادر نہیں
مگر کیوں قادر نہیں؟
کیوں کہ خدا نے مجھے وہ قوت نہیں دی
مگر کیوں نہیں دی؟
مجھے اس کا علم نہیں
تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ تم غلام ہو اپنے خدا کی
ہاں ہوں
تو پھر آزادی کے خواب کیوں دیکھتی ہو، بھول جاؤ کہ تم آزاد ہو سکتی ہو، اور آزادی کے نعرے لگانا بند کرو
کسی مکان کی دیوار کی بنیاد اگر ٹیڑھی رکھی جائے تو دنیا کا کوئی کاریگر اس کی دیور سیدھی نہیں چن سکتا
خواہ اس نے اس سے قبل دنیا کے تمام عجائب کو ہی کیوں نہ اپنے ہاتھوں سے تعمیر کیا ہو
اس مثال کا مطلب
مطلب یہ کہ تم ابن آدم ہو
ہاں ہوں
اور ابن آدم شروع سے ہی غلام ہے
آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں جبکہ بابا آدم علیہ السلام کو اللہ نے وہ مرتبہ دیا جو پہلے کسی اور مخلوق کو نہیں دیا یعنی اشرف اور یہ مرتبہ نہ صرف ابا آدم علیہ السلام کو دیا بلکہ ان کی تمام اولاد دیا اور اشرف المخلوقات فرمایا
اور اس اشرف کے مرتبہ کے عوض غلامی مقدر میں لکھ دی
کیسی بیہودہ باتیں کر رہے ہیں آپ
کیوں یہ سچ نہیں، اگر اشرف ہی کہا تو ایک گندم کھانے کی وجہ سے اما حوا کو جنت ہی میں برہنہ کردیا، اور پھر جنت سے بھی نکال دیا، تم ایک مور کے پنکھ کو ہمیشہ حفاظت سے اپنی ڈائری میں رکھتی ہو جبکہ تم نے اسے تخلیق بھی نہیں کیا،
تو پھر اللہ نے اس مخلوق کو ذرا سی خطا پرکیوں جنت سے نکالا جس کو نہ صرف اس نے تخلیق کیا بلکہ اشرف کا لقب بھی دیا،
کیوں کہ اللہ بابا آدم علیہ السلام اور اماں حوا کو تلقین کی تھی اس طرف نہ جانے کی، لیکن وہ شیطان کے بہکانے میں آگیے اور گندم کھالیا پھر تو سزا ملنی ہی تھی
پھر مکمل آزاد کیسی؟
مطلب
تمہارے ہاتھ پیروں کی ملا کر کل کتنی انگلیاں ہیں
٢٠ کیوں پوچھ رہے ہو
اگر ان میں سے کسی ایک انگلی میں تکلیف ہوجائے تو کیا تم چین سے بیٹھ سکوگی
نہیں
تو پھر اللہ نے انسان سے یہ توقع کیسے کرلی کہ وہ تمام جنت میں آزادانہ گشت کرے بھی اور اس شجر کی طرف بھی نہ جائے، انسان بھلے ازل سے غلام رہا ہے لیکن ازل سے ہی اس نے ذہنی طور پر کسی کی غلامی کو قبول نہیں کیا پھر چاہے وہ اس کے خالق ہی کی کیوں نہ ہو،
تم سے بات کرنا تو اپنے دماغ پر ظلم کتنا ہے دماغ گھوما کر رکھ دیتے ہو اور میری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ تم اللہ کے اتنا پیچھے کیوں پڑے ہو
کیوں کہ وہ ازل سے ابن آدم کے پیچھے پڑا ہے
تھوڑا احتیاط سے کا لیجیے جناب ایسے جملوں کے سبب اپ کفریت میں داخل ہو سکتے ہے
تو کیا کفر انسان کیا کافر اللہ کی مخلوق نہیں
تم لگ رہا ہے تم نصابی کتابوں تک محدود ہوتی جارہی ہو
خدارا اب درسی اور خارجی کی بحث شروع کہ کیجیے گا، میرے پاس اتنا دماغ نہیں
کیا کہا تمہارے پاس نہیں
عورت ذات کے برابر تو شاید ہی خدا کی کسی اور مخلوق پر دماغ ہو
لیجیے جناب اب صنف نازک پر شروع ہوگئے، اچھا پھر بات ہوگی، رات بہت ہوگئ ہے
عالیہ نے گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،
اچھا، ٹھیک ہے
ارے روکو
اب کیا ہوا
یار تم نے اپنی فلسفیانہ باتوں میں اتنا الجھا دیا کہ اصل بات تو رہ ہی رہ جس کے لیے ویڈیو کالنگ (vedio calling) کی
کیا؟
ارے مجھے ایک مضمون لکھنا ہے آزادی پر پندرہ اگست کے پروگرام میں پڑھنا ہے
ابھی اتنی دیر گفتگو تو آزاد پر ہی ہوئ ہے اسی کو سنادینا
Oho very funny
But
مجھے مضمون ملک کی آزادی پر پڑھنا انسان کی نہیں
سمجھے آپ
سمجھے آپ
سمجھے آپ
عالیہ دو تین بار ایک سے ہی الفاظ دہرائے لیکن دوسری طرف سے کوئی جواب نہیں آیا اسے لگا کہ network problem ہے شاید تصور تو دکھائ دے رہی ہے لیکن آواز نہیں جارہی یہ سوچ کر اس نے فون کاٹ دیا
اور شیطان کو اتنی صلاحیت اور ہمت کس نے دے دی کہ وہ اللہ کی اشرف مخلوق کو بہکانے میں کامیاب ہوگیا
اللہ نے
مگر کیوں؟
مجھے نہیں معلوم
کیوں کہ اللہ نے انسان کی تخلیق سے قبل جنت اور دوزخ کو تخلیق کر لیا تھا لیکن اس کو پوشیدہ رکھا
پوشیدہ کہاں رکھا ارے جناب اپنے دماغ پر زور دیجیے انسان دنیا میں آنے سے قبل جنت میں ہی تھا اور آدم علیہ السلام کو جنت سے نکالا گیا تو پھر جنت کی تخلیق پوشیدہ کیسے ہوئے
اچھا
جی
یہ کب پتہ چلا کہ جس جگہ سے نکالا جارہا ہے وہ جنت ہے اور جہاں بھیجا جارہا ہے وہ دنیا
ہاں یہ بھی بات ہے
Plzz continue
اس نے ایسا اس لیے کیا کہ دنیا اس کو جانے پہچانے کہ اللہ کون ہے اور کیسی کیسی قدرت کا مالک ہے
اللہ کو جاننے کے لیے فرشتوں کی کوئی کمی نہیں ہے
لیکن ان کا دائرہ محدود ہے
وہ کیسے؟
فرشتے اس کے خلاف کوئی کام کر ہی نہیں سکتے، کبھی سنا ہے یا کہیں پڑھاہےکہ کسی پیغمبر کے پاس وحی لیکر حضرت جبرئیل علیہ السلام کی جگہ حضرت میکائیل علیہ السلام آئے تھے
نہیں،،،
دراصل اللہ نے انسان کو غلام تو بنایا ضرور لیکن اتنی طاقت بھی دے دی کہ وہ فرمانبرداری اور نافرمانی دونوں با آسانی کر سکے..
جس کی ابتدا ہمارے اباجان حضرت آدم علیہ السلام نے جنت میں کردی، شیطان کے بعد انسان ہی وہ پہلی مخلوق ہے جس نے آسمانی دنیا پر نافرمانی کرنے کی جسارت کی
لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ اللہ نے صاف صاف کہہ دیا
ترجمہ،، ’ہم نے انسان اور جنات کو فقط اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے‘
عبادت یعنی بندگی، بندگی یعنی غلامی، اتنے واضح اعلان کے بعد بھی انسان خود کو آزاد تسلیم کر لیتا ہے مجھے حیرت ہوتی ہے
لیکن اس نے سوچا کہ یوں اچانک گفتگو کا منقطع ہوجانا اچھا نہیں اس کو گفتگو کا یہ اختتام خلاف ادب لگا جبکہ یہ فعل غیر دانستہ طور پر عمل میں آیا تھا اس میں اس کی کوئی خطا نہیں تھی
اس نے سوچا کوئی نہیں دوبارہ کال کر لیتی ہو لیکن ویڈیو کال نہیں صرف کال، کال کی بھی کیا ضرورت ہے watsaap اللہ حافظ کا ایک message send کردیتی ہوں ،
اس سے پہلے کہ وہ کسی فیصلے پر پہنچتی دوسری طرف سے اس کے watsaap پر میسج آیا
آسماں والے یہ سن کر ہنس پڑے
آدمی آزاد ہونا چاہتا ہے
شاعر،،، اشک الماس،،،
علی گڑھ ،اتر پردیش، ہندوستان

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular