9807694588
اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

از قلم-عرفان عابدی مانٹوی
دیکھو تو آسمان کو چھوتی ہے ارضِ ہند
سونے کی طرح کان سے نکلی ہے ارضِ ہند
لو کیوں اداس ہو گیا انگریز کا قیام
لگتا ہے جنگ جیت کے آیی ہےارضِ ہند
قربان میرے دیس کی خاطر جواں ہوئے
قربانیوں کے بعد ہی نکھری ہے ارضِ ہند
محبوب اس جہان کی ساری زمین ہے
میرے لئے تو چاند کے جیسی ہے ارضِ ہند
اے دشمنو نگاہ نہ کرنا مری طرف
رہ رہ کے حاسدین سے کہتی ہے ارضِ ہند
سچ ہے سیاہ کام سے میرے وطن میں آج
مفلس پہ ظلم دیکھ کے روتی ہے ارضِ ہند
مفلس غریب سوتے ہیں بےچین ہو کے جب
تادیر ان کو دیکھ کے روتی ہے ارضِ ہند
کیوں اب یہاں کی پاک فضائیں اداس ہیں
سرکار تیرے راج سے روٹھی ہے ارضِ ہند
عرفان کہہ دو پھول سے کچھ بھیک لیکے جا
عنبر کے جیسی آج مہکتی ہے ارضِ ہند
(+989100798147)
٭٭٭





