9807694588
اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں

(محمد علیم اسماعیل، ناندورہ)
1948 کی بات ہے جب سعادت حسن منٹو کا پہلا افسانچوں کا مجموعہ ’سیاہ حاشیے‘ منظر عام پر آیا۔ اس وقت خود منٹو بھی نہیں جانتے تھے کہ وہ اردو میں ایک نئی صنف کا آغاز کر رہے ہیں۔ اور ایک ادنیٰ سا بیج بو رہے ہیں جو ایک دن گھنا درخت بن جائے گا۔ منٹو نے فسادات سے متاثر ہو کر یہ افسانچے تحریر کیے۔ اس وقت اسے منی افسانہ، منی کہانی وغیرہ کہا جاتا تھا۔ منٹو کے بعد جوگندر پال نے اس صنف کو استحکام بخشا اور ’افسانچہ‘ ایک خوبصورت نام سے سرفراز کیا۔
ڈاکٹر محمد عظیم الدین نام، ڈاکٹر عظیم راہی قلمی نام اور تاریخ پیدائش ۹۱ جون۸۵۹۱ ہے۔ بی ایس سی (ریاضی)، ایم۔ اے (اردو) مرہٹواڑہ یونیورسٹی اورنگ آباد سے اور پی ایچ ڈی،کی تعلیم سنت گاڑگے بابا امرا¶تی یونیورسٹی، امرا¶تی سے حاصل کی۔ بحیثیت جونیئر ٹیلیکام آفیسرمحکم مواصلات، اورنگ آباد سرکاری ملازمت سے سبکدوش ہو چکے ہیں۔
’پھول کے آنسو‘ (افسانچے) 1987، ’اگلی صدی کے موڑ پر‘ (افسانے) 1996، ’درد کے درمیاں‘ (افسانچے) 2002، اردو میں افسانچہ کی روایت (تنقیدی مطالعہ) 2008، محبوب و نذیر: فن کار بے نظیر 2013، اپنے دائرے کا آدمی (افسانے)2014، اردو افسانچے کی مقبولیت اور پیش رفت(ایک مطالعہ) 2015، آب اور آگ (مضامین اور تبصرے)2016، چہرہ چہرہ پہچان (افسانے) 2017 وغیرہ ان کی تصانیف ہیں۔ ادبی حلقوںمیں ان تصانیف کی مقبولیت اپنی اہمیت کا پتہ دیتی ہے۔مرہٹواڑہ یونیورسٹی کی جانب سے افسانہ ”جاگتی آنکھوں کے خواب“ کو اول انعام سے نوازہ گیا۔ مہاراشٹر اسٹیٹ اردو اکیڈمی کی جانب سے افسانوی مجموعہ ”اگلی صدی کے موڑ پر“ کو اوّل انعام سے سرفراز کیا گیا۔ اسی کے علاوہ موصوف کو غالب کلچر اکیڈمی بنگلور سے کرشن چندراعزاز، اسباق پبلی کیشن پونا سے اسباق ادبی ایوارڈ 2019، سہ ماہی بھیونڈی سے مشتاق مومن فکشن ایوارڈ، انجمن ترقی اردو ہند مالیگا¶ں شاخ سے وقارِ ادب ایوارڈ سے نوازہ جا چکا ہے۔ موصوف پر عثمان آباد یونیورسٹی اور سینٹرل یونیورسٹی حیدرآباد میں ایم۔فل کے مقالات بھی لکھے گئے ہیں۔ و ہ ایک حقیقی فنکار ہے۔ ان کی فنی عمارت سنی سنائی باتوں پر نہیں بلکہ ذاتی مشاہدات پر کھڑی ہیں۔ پروفیسر عتیق اللہ ڈاکٹر عظیم راہی کے متعلق لکھتے ہیں:
”عظیم راہی افسانے ہو کہ افسانچے، انھوں نے اپنے آپ کو ایک مسائلی افسانہ نگار کی حیثیت سے پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔اس معنی میں وہ ایسے حقیقت پسند فنکار ہے جو چیزوں کو اپنی نظر سے دیکھتے ہیں اور تاثر قبول کرتے ہیں۔“
ڈاکٹر عظیم راہی اردو افسانچے کے پہلے تنقید نگار ہیں۔ ان کی کتاب ’اردو میں افسانچہ کی روایت – تنقیدی مطالعہ‘ افسانچے کی سب سے پہلی تنقیدی تصنیف ہے۔ یہ کتاب ڈاکٹر عظیم راہی کا ایک ایسا کارنامہ ہے جس نے افسانچے کی تنقید میں انھیں زندہ جاوید کر دیا ہے۔ افسانچے کی مجموعی صورتحال پر اس کتاب میں مختلف ابواب میں روشنی ڈالی گئی ہے۔ جس میں انھوں نے پاکستان اور بنگلہ دیش میں شائع ہوئے افسانچے اور ان کے لکھنے والوں کا بھی احاطہ کیا ہے۔ کتاب کے آخر میں 1948 سے 2006 تک شائع افسانچوں کے مجموعے کی فہرست، زیر تربیت مجموعوں کی فہرست، رسائل کے افسانچہ نمبر کی فہرست بھی دی گئی ہے۔ یہ ایک تحقیقی و تنقیدی تصنیف ہے۔ جو ڈاکٹر عظیم راہی کی تقریباً 24 سالوں کی تحقیق و محنت کا نتیجہ ہے۔ 1984 سے انھوں نے اس پر کام شروع کیا، 2006 میں کام مکمل ہوا۔ اور 2008 میں کتاب شائع ہوئی۔ جوگندر پال موصوف کی مایاناز کاوش کے متعلق لکھتے ہیں:
”عظیم راہی کی یہ کتاب افسانچے کے مطالع میں پہلا باقاعدہ تنقیدی باب ہے، اور یہ تنقیدی باب اتنی سرگرم ذمہ داری سے لکھا گیا ہے کہ اس کی ستائش میں بخل سے کام لینا کوتاہی کے مترادف ہو گا۔“
ڈاکٹر عظیم راہی نے باقاعدہ تحقیق کر کے اپنی بات کو مدلل انداز میں پیش کیا ہے۔ اور اپنے موقف کے اظہار میں دلائل کے ساتھ مختلف مقتدر اہل قلم کی آراءکو اہمیت دی ہے۔ عام طور پر افسانچے پر جو سوالات اٹھائے جاتے ہیں ان سوالات کے مدلل انداز میں جوابات دیے ہیں۔ ساتھ ہی ان سوالوں اور بحثوں سے مثبت پہلو اور تعمیری راہ نکالنے کی کوشش کی ہے۔ افسانچے کی ابتدا اور ارتقائ، افسانچے کی تعریف اور فنی لوازمات، موضوعات، مہاراشٹر میں افسانچے کی مقبولیت اور صورتحال، ملک کی دیگر ریاستوں میں افسانچہ کی صورتحال، برصغیر، مشرق وسطی اور مغربی ممالک میں افسانچے کی صورتحال اور افسانچے کے مستقبل پر تحقیق کی روشنی میں موصوف نے کھل کر اظہارِخیال کیا ہے۔ انھوں نے افسانچے کی تعریف کچھ اس طرح کی ہے :
”افسانچہ زندگی کے کسی چھوٹے لمحے کی تصویر دکھا کر ایک مکمل کہانی قاری کے ذہن میں شروع کردینے کا نام ہے۔“
عظیم راہی کہتے ہیں کہ ’افسانچہ‘ یہ ایک نہایت خوبصورت نام ہے جو ہمیں جوگندر پال نے دیا ہے۔ اب اسی نام کو قائم و دائم رکھا جائے نہ کہ افسانچے کو مختلف ناموں اور مختلف خانوں میں تقسیم کردیا جائے۔ وہ ا فسانچے کی ترقی کے لئے ہمیشہ کوشاں رہتے ہیں۔ افسانچے کے نام پر لطیفے اور اقوال پیش کرنے والے اور افسانچے کو مختلف خانوں میں تقسیم کرکے اس صنف کو نقصان پہنچانے والوں سے وہ دکھی ہیں۔ وہ کہتے ہیں، افسانچہ کے فن میں لطیفہ پن کی بالکل گنجائش نہیں ہے۔ لیکن کسی فن پارے میں ایک لطیف سے خیال و حسن سے انکار بھی نہیں کیا جاسکتا۔ ہاں، اس لطیف سے احساس میں طنز کا عنصر مل جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ ڈاکٹر عظیم راہی ایسے افراد میں سے ہیں جن میں فروغِ افسانچہ کا جذبہ اس قدر بسا ہوا ہے کہ لوگ انھیں بابائے افسانچہ کہنے لگے ہیں۔ نورالحسنین لکھتے ہیں:
”ڈاکٹر عظیم راہی ایک عرصے سے اردو میں افسانچہ کی روایت کو مستحکم کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ اپنی افسانچہ نگاری کے دوران ہی انہوں نے اُس کے فن کو سمجھنے کی کوشش کی، اُن اصولوں پر غور کیا جو محترم جوگندر پال نے بیان کیے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے سلام بن رزاق سے لے کر عارف خورشید تک لکھی ہوئی افسانچہ کی تعریف کو بغور پڑھا اور پھر اپنی ایک رائے قائم کی، وہ اس موضوع پر مسلسل مضامین، خطوط لکھ رہے ہیں، انہوں نے افسانچوں کے کئی مجموعوں پر تبصرے بھی لکھے ہیں اور کئی افسانچہ نگاروں نے اپنی کتابوں پر ان سے پیش لفظ بھی لکھوائے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے بعد افسانچہ لکھنے والوں کی بڑی تعداد اب انہیں بابائے ’افسانچہ‘ کہنے لگی ہے۔“
کچھ لوگ افسانچے پر سوال اٹھاتے ہیں، اعتراضات کرتے ہیں، اس کی اہمیت کو ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ اس ضمن میں میں ایک بات کہنا چاہوں گا کہ پہلے گھروں میں ٹیلیفون (لینڈ لائن) ہوا کرتے تھے، اب ان کی جگہ اینڈرائڈ موبائل آگئے ہیں۔ کیوں؟یہ تو ایک مثال ہے۔ایسی کئی چیزیں ہیں جو وقت کی نذر ہوگئی ہیں۔آج اینڈرائیڈموبائل کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ نئے زمانے کے تقاضے بھی نئے ہی ہوتے ہیں دوستوں۔ آج انسانی زندگی کے فرصت کے وہ لمحات جس میں وہ بڑی بڑی داستانوں اور ناولوں کا مطالعہ کرتا تھا، اینڈرائڈ موبائل، انٹرنیٹ، فیس بک اور ٹوئٹر وغیرہ کی نذر ہوگئے ہیں۔ آج انسان کے پاس وقت نہیں۔ چھوٹا ہو یا بڑا سبھی کے فرصت کے لمحات رنگین اسکرین کے لمس میں الجھ کر رہ گئے ہیں۔ اس ضمن میں ڈاکٹر عظیم راہی نے سلام بن رزاق کی رائے رقم کی ہے:
”آج زندگی کے ہر شعبے میں رفتار کے ساتھ اختصار پسندی کا رجحان بھی عام ہے۔ فکشن میں پہلے مختصر افسانہ اور اب منی افسانہ بھی آج کے عہد کی تیز رفتاری اور اختصار پسندی کی ہی عطا ہے۔“ (اردو میں افسانچہ کی روایت، ص 45)
اسی تعلق سے ڈاکٹر عظیم راہی نے نثار اعظمی کی رائے اس طرح پیش کی ہے:
”جس طرح داستانوں کے بعد ناول، ناول کے بعد مختصر افسانہ وقت کی ضرورت ثابت ہوئے اسی طرح منی افسانہ بھی افسانہ کے بعد موجودہ دور میں زندگی کی ایک ضرورت اور حقیقت کی حیثیت رکھتا ہے۔“ (اردو میں افسانچہ کی روایت، ص 45)
سن 2015 میں افسانچے کی تنقید پر موصوف کی ایک اور کتاب”اردو افسانچے کی مقبولیت اور پیش رفت: ایک مطالعہ“ شائع ہوئی ہے۔ جس میں موصوف کا فکر و فن اور زیادہ نکھر کر سامنے آیا ہے۔ مجموعی طور پر وہ بیک وقت ایک افسانہ نگار، افسانچہ نگار اور تنقید نگار ہیں ۔ یہ بات کہنے میں ذرا تامل نہیں کہ ڈاکٹر عظیم راہی نے افسانچے کی تنقید کی بنیاد ڈال کر افسانچہ نگاری کو استحکام اور وقار بخشا ہے۔ انھوں نے اپنی تنقیدی، تحقیقی، تجزیاتی، تفصیلی گہری نظر اور پوری لگن و محنت سے افسانچے کے ان حقائق کو اُجاگر کیا جن تک رسائی ممکن نہ تھی۔ اردو افسانچہ نگاری کا باب ا©©ن کے ذکر کے بغیر مکمل ہی نہیں ہو سکتا۔ افسانچے کو فروغ دینے اور وسعت بخشنے میں انھوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی بلکہ اسے اپنی جاں سے پیارا سمجھتے ہوئے عمر عزیز کا ایک حصہ اس کے لیے وقف کردیا۔





