HomeMuslim Worldمحبت کے ہر رنگ کی شاعرہ پروین شاکر

محبت کے ہر رنگ کی شاعرہ پروین شاکر

mravadhnama@gmail.com 

9807694588

اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

 

 

شمیمہ صدیق شمی
چک سید پورہ شوپیان

اردو شاعری کے گلزار میں رنگ رنگ کے پھول کھلے ،جن کی خوشبو اس وقت تک پھیلی ہوئی ہے انہیں میں سے ایک پروین شاکر جو اپنے رنگ میں یکتا ہے ۔ اگر دیکھا جائے تو اردو شاعری میں سب سے پہلے ہل چل مچانے والی شاعرہ پروین شاکر ہیں ۔جنہوں نے اردو شاعری کو نسائی لہجہ عطا کیا ۔اور ان کی آواز کبھی تانیثی شکل میں تو کبھی نسائی آواز بن کر ابھری ۔پروین شاکر نہایت حساس جزبے کی مالک تھیں ۔اپنے جزبات کے پامال ہونے اور دل کی گہرائی تک پہنچنے کا ہنر شاید ہی کسی اور شاعرہ میں ہو گا ۔انہوں نے اپنے جزبات کو اس قدر خوبصورتی سے بیان کیا ہے کہ ایک طرح تو عورت کے ٹوٹنے کا منظر سامنے آتا ہے دوسری طرف جینے کا ہنر سکھاتا ہے ۔
کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیاہے اس نے
بات تو سچ ہے مگر بات ہے سوائی کی پروین شاکر کی شاعری میں ایک نسل کی نمائندگی ہوتی ہے اور ان کی شاعری کا مرکزی نقطہ عورت رہی ہے ۔ان کے اشعار کو غور سے پڑھنے پر احساس ہوتا ہے کہ ان میں زندگی کے مختلف موڑوں کو انہوں نے ایک ربط دینے کی کوشش کی ہے ۔ان کے اشعار میں ایک لڑکی کو بیوی ،ماں اور آخر میں ایک عورت تک کے سفر کو صاف دیکھا جاسکتا ہے ۔وہ ایک بیوی کے ساتھ ساتھ ماں بھی تھی ۔ان کی شاعری میں لڑکی پن کچھ زیادہ ہی نظر آتا ہے ۔ لڑکیوں کے دکھ عجیب ہوتے ہیں سکھ اس سے عجیب ہنس رہی ہیں اور کاجل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ وہ جس کی ایک پل کی بےرخی بھی دل کو بار تھی اسے خود اپنے ہاتھ سے لکھا ہے مجھ کو بھول جا بقول نظیر صدیقی لڑکی یا عورت کے محسوسات و معاملات جس حد تک جتنی خوبصورتی کے ساتھ اور جتنے دلکش انداز میں پروین شاکر کی بدولت غزل میں آگئے ہیں ۔اتنے کسی اور شاعرہ کی بدولت کبھی نہیں آئیے ،، محبت کے ہر رنگ کی یہ شاعرہ 1952ءمیں کراچی میں پیدا ہوئی ۔ایک کار حادثے میں ان کی موت واقع ہوئی ۔ان کی بےوقت کی موت سے پوری اردو دنیا کو نقصان ہوا ۔اس مختصر سی زندگی میں پروین شاکر نے اردو دنیا کو پانچ شعری مجموعے دئیے ۔ان کا پہلا مجموعہ کلام ”خوشبو ،،دوسرا مجموعہ کلام “صد برگ ،،تیسرا مجموعہ کلام “خود کلامی ،،اور چوتھا مجموعہ کلام “انکار ،،ان کی زندگی میں ہی شائع ہوئے ۔پروین شاکر کا نہ صرف کلام حسین ہے بلکہ ان کا اسلوب اور ترنم بھی بڑا حسین ہے یہی وجہ ہےکہ انہوں نے ایک بہت بڑے ادبی حلقے کو متاثر کیا ۔ پروین شاکر اپنی تانیثی آواز میں ایک منفرد پہچان اور مقام رکھتی ہیں ۔ ان کی شاعری میں ایک جانب مسرت بھری آواز ہے تو دوسری جانب دکھ درد اور یاس و حسرت میں ڈوبی صدائے بازگشت سنائی دیتی ہے ۔وہ اپنے جزبات وہ احساسات کو اس عمدگی سے بیان کرتی ہیں کہ قاری دیر تک محوے حیرت رہ جاتا ہے ۔ عورت کی آواز اس کی حسیت اور نسائیت کو جس منفرد اسلوب اور لہجے میں پروین شاکر نے بیان کیا ہے وہ بہت کم شاعرات کرپائی ہیں ۔ پروین شاکر کی انفرادیت محض اس بات میں نہیں ہے۔

، انہوں نے نسائی جزبات کی کامیاب عکاسی کی ہے یا عورتوں کے ساتھ برتے جانے والے امتیازات کو اجاگر کیا گیا بلکہ انکی شاعری کی سب سے بڑی خصوصیات الفاظ کی سادگی اور پرکاری بھی ہے جس کے متعلق ڈاکٹر آفتاب احمد لکھتے ہیں ۔ “پروین شاکر کی شاعری کی ایک پہچان ان کی سادگی وپرکاری ہے ان کے یہاں الفاظ وتراکیب کے انتخاب و استعمال میں ایک خاص رکھ رکھاؤ اور احساسِ حسن پایا جاتا ہے ،، پروین شاکر کی شاعری میں محبت کا ہر رنگ ملتا ہے ۔اس نے اپنی شاعری میں روحانی جزبوں کی ایک ایسی رنگین دنیا بسائی ہے جہاں ہر عمر کے مردوزن سکون اور آسودگی کی تلاش میں داخل ہوتے ہیں اور تھوڑی دیر کے لئے خود کو گم کردیتے ہیں تجھے مناؤں کہ اپنی انا کی بات سنو الجھ رہا ہے مرے فیصلوں کا ریشم پھر پروین شاکر انتہائی حساس جزبے کی شاعرہ رہی ہیں ۔ان کے کلام میں منافقت نام کی کوئی چیز نہیں ہے وہ جو کچھ بھی دیکھتی ہیں محسوس کرتی ہیں اسے اپنے تجربے اور مشاہدے کی روشنی میں ہو بہو بیان کرتی ہیں ۔وہ عورت کو اعتدال وتوازن کی زندگی بسر کرنے پر زور دیتی ہیں وہ عورت کو نہ اس قدر آزاد دیکھنا چاہتی ہیں کہ تمام گھریلو سسٹم درہم برہم ہو جائے اور نہ ہی عورت کو ایسے ماحول میں دیکھنا چاہتی ہیں جہاں اسے سانس لینا بھی دشوار ہو جائے اور اس پر طرح طرح کی سماجی ومحاشی پابندیاں عائد ہوں ۔پروین شاکر کی شاعری میں نہ تو انتہا پسندی ہے اور نہ ہی بالکل سناٹا ہے بلکہ وہ میانہ روی کے تحت اپنی روح کی تلاش میں سپنوں کے نگر آباد کرتی ہیں ۔ان کی وجود پر صرف خوابوں کے لباس ہیں اور تار تار ہیں ۔نامیدی کو امید میں بدلنے کی کوشش میں ان کے کجرارے بھیگتے نین امیدوں کی قندیل سے روشن ہیں ۔عورت کی اسی بےبسی اور مجبوری کو پروین شاکر نے اپنی غزلیہ شاعری میں کس قدر خوبصورت الفاظ میں ڈھالا ہے ۔ میں برگ برگ اس کو نمو بخشتی رہی وہ شاخ شاخ میری جڑیں کاٹتا رہا وہ تو خوشبو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا جہاں تک پروین شاکر کی نظمیہ شاعری کا تعلق ہے ان کی نظمیں بھی کافی معیاری ہیں جو گہرے تخلیقی تاثر میں ڈوبی ہوئی ہیں اور ان کی عظمت کے اثبات کے لئے کافی ہیں ۔۔پروین شاکر کی وہ نظمیں جو تانیثی جزبات ومحسوسات کی حامل ہیں ۔ان میں “گیلے بالوں سے چھنا سورج ،، “ورکنگ وومن،، “بےپناہی،،اور سجدہ مثال کے طور پر پیش کی جاسکتی ہیں ۔۔محبت کے ہر رنگ کی یہ شاعرہ اگرچہ آج ہمارے درمیان نہیں ہے مگر ہمارے دلوں میں زندہ ہے

Previous article
Next article
RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular