
ظلم کے خلاف ایک انکار کا نتیجہ ہے کربلا، جو امام حسین ؑ نے یزید جیسے فاسق و جابر حکمراں کے خلاف کیا اور رہتی دنیا تک بتادیا کہ ہم جیسا کبھی یزید جیسے کی بیعت نہیں کرسکتا اور کربلا کے میدان میں اپنے 72 ساتھیوں کو جمع کرکے دکھا بھی دیا کہ ہم جیسے ایسے ہوں گے جس میں یزیدی فوج کا سپہ سالار حر بھی شامل ہے۔ بس انہیں اور ان جیسے سبھی افراد کو لبیک یا حسین کہنے کا حق حاصل ہے ورنہ آج بھی امام حسین ؑ کہ صدائے استغاثہ ’’ہل من ناصرٍ ینصرنا‘‘ فضا میں گونج رہی ہے اور یزیدی فوجوں کی طرح آج ہمارے بھی کان بند ہیں کیونکہ ہم سب خاموش ہیں اسی لئے شاید سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گشت کررہا ہے جس میں یہ فرمایا گیا ہے کہ کل رات ہم نے خواب میں بھگوان شری رام کو روتے ہوئے دیکھا۔ شاید اس لئے کہ اڈوانی، سنگھل، توگڑیا، مودی جی، امت شاہ اور یوگی جی سے بھگوان رام کو اب اب کوئی اُمید نہیں رہی۔ اس لئے وہ بیچارے ان کے پاس آکر رو رہے ہیں۔ یہ حکومت کے قریب پہونچنے میں ایک دوسرے کو مات دینے کا نتیجہ ہے جب منبر کو حکومت کی مدح سرائی کے لئے استعمال کیا جانے لگا تو اس کے ردّعمل میں کچھ تو ہونا ہی تھا دوسری طرف یہی لبیک یا حسین کہنے والے کبھی مندروں میں آرتی اُتار رہے ہیں تو کبھی کوئی گائے کے راکھی باندھ رہا ہے اور کبھی کوئی اٹل جی کی مجلس سوئم کررہا ہے۔
دنیا میں جتنی بھی خرابیاں ہیں وہ برے لوگوں کی وجہ سے نہیں بلکہ اچھے لوگوں کے خاموش رہنے کی وجہ سے ہیں کیونکہ برے لوگ تو چند ہوتے ہیں اور اچھے لوگ بہت۔ یہی کربلا میں بھی تھا رسولؐ کی وفات کو ابھی کتنا وقفہ ہی ہوا تھا، مسلمانوں کی حکومت کئی ملکوں میں پھیل چکی تھی لیکن یزید کے مقابلے میں امام حسین ؑ کے ساتھ تھے صرف 72۔ آخر کیوں؟ صرف اس لئے کہ تمام افراد کی غلط کو غلط اور صحیح کو صحیح کہنے کی قوتِ گویائی ختم ہوچکی تھی اور اسی کو بتانے کے لئے امام حسین ؑ مدینے سے کربلا آئے تھے اور مدینے سے نکلتے وقت ہی واضح کردیا تھا کہ دیکھو میں کسی تخت و تاج کیلئے نہیں، کسی شرانگیزی کیلئے نہیں بلکہ نانا کی اُمت کی اصلاح کیلئے جارہا ہوں۔ افسوس آج امام حسین ؑ کے نام پر ہی کچھ ذاکر شرپسندی کرنے کو اپنا شیوا سمجھتے ہیں، تخت و تاج کیلئے اپنا ایمان بیچنے کی ایک ہوڑ ہے اور اصلاح کے نام پر آج بھی ہم قوتِ احساس سے محروم ہیں نہ ہمیں اس بات کا احساس ہے کہ ہم اپنے حقوق کیسے حاصل کریں نہ اس کا احساس ہے کہ ہم بگڑے ہوئے ماحول کو کیسے بدلیں اور نہ اس کی فکر ہے کہ قوم میں بے روزگاری اور جہالت کا خاتمہ کیسے کریں۔ بس اپنے میں مگن! نشیڑیوں کی طرح، کھایا پیا جانوروں کی طرح، کبھی یہاں منھ مارا کبھی وہاں منھ مارا، اور کسی طرح سے اپنے بچوں کی پرورش کرلی سوچا بہت بڑا کام کرلیا اس سے بے خبر کہ یہ صفت تو جانوروں میں بھی پائی جاتی ہے۔ جانور بھی صرف اپنے بچوں کی پرورش کے سوا کچھ نہیں کرتا۔
حکومتوں کی جھوٹی مدح سرائی کے بجائے ہم اس کے مددگار بنیں تو زیادہ بہتر ہوگا۔ آج کل اپنے صوبے کی حکومت 31 مارچ تک الیکشن کارڈ بنوانے انہیں درست کرانے کی ایک مہم چلا رہی ہے، ہمارا فریضہ ہے کہ ہم حکومت کی اس مہم میں نہ خود اس کا ساتھ دیں بلکہ اپنے ساتھیوں کو بھی حکومت کا ساتھ دینے پر آمادہ کریں کیونکہ حکومت کی یہ مہم 100 فیصد ہمارے ہی فائدے کیلئے ہیں۔
٭٭٭





