Tuesday, March 24, 2026
spot_img

غزل

mravadhnama@gmail.com 

9807694588

اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

 

 

 

عاشق رائے بریلوی

سجدے میں سر کٹانے کا اتنا اثر ہوا
نیزے پہ سر بلند ہمارا ہی سر ہوا
شاہوں میںایسی کوئی بھی ملتی نہیں دلیل
وو مفلسی میں پل کے بھی پیغامبر ہوا
اردو میں عاشقوں کے لہو کی ہے چاشنی
گرویدہ ٔغزل جو یہاں ہر بشر ہوا
جلوؤں میں کھو گیا تھا وہ حسن و جمال کے
یعنی کہ اپنی ذات سے بھی بے خبر ہوا
راہ حیات عشق میں جس نے گذار دی
دیدار یار اس کو ہر اک گام پر ہوا
آہن سے دل کو لمس سے سونا بنا گیا
’’پھر ایسا اتفاق کہاں عمر بھر ہوا‘‘
ضضض

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular