9807694588
اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

فراز رضوی
یُوں آفتاب کی حُرمت بچائے رکھتا ہے
وہ اک چراغ جو ہر شب جلائے رکھتا ہے
مرے عدو کو مری منزلت کا ہے عرفاں
وہ میرے سر کو سناں پر اُٹھائے رکھتا ہے
رگِ حیات میں رہتاہے ، جانتا ہے مجھے
وہ میرے عیبوں کو سب سے چھپائے رکھتا ہے
بلندیوں کی حقیقت کے خوف سے شائد
شجر زمین پہ سایا بچھائے رکھتا ہے
بڑے تپاک سے ملتا ہے مجھ سے میرا عدو
اور آستین میں خنجر چھپائے رکھتا ہے
دُرونِ ذات غم آلود ہے کوئی منظر
مگر وہ لب پہ ہنسی کو سجائے رکھتا ہے
وہ لفظ لفظ جھلس جاتا ہے خیال کے ساتھ
الاو دل کا اگر چہ بُجھائے رکھتا ہے
لہو سے کرتا ہے شعری علامتیں روشن
ادب میں اپنی اضافت بنائے رکھتا ہے
شبِ فراق کی ویرانیوں کے منظر سے
فراز تو بھی امیدیں لگائے رکھتا ہے





