Wednesday, February 25, 2026
spot_img
HomeMuslim Worldاتحاد کی طاقت اور حکومت

اتحاد کی طاقت اور حکومت

حفیظ نعمانی

دہلی کے جن دُکانداروں پر سیلنگ کی مار پڑرہی ہے انہوں نے 13 مارچ کو دہلی بند کا نعرہ دیا تھا۔ اور 13 مارچ کو اعلان کیا گیا کہ دہلی کی سات لاکھ دُکانیں بند رہیں۔ دہلی میں سیلنگ کا وہ لوگ نشانہ بن رہے ہیں جو 70 سال پہلے مغربی ہندوستان کے اس حصہ سے آئے تھے جو اب پاکستان میں ہے۔ ہندوستان کی تقسیم کے وقت یہ فیصلہ ہوا تھا کہ پنجاب آدھا ہندوستان میں رہے گا اور آدھا پاکستان میں۔ ہندوستان میں جو پنجاب رہے گا اس کے اضلاع امرتسر، جالندھر، لدھیانہ، انبالہ اور جگادھری میں کوئی مسلمان نہیں رہے گا سب کو وہ چاہیں نہ چاہیں پاکستان بھیجا جائے گا۔ اور لاہور، راولپنڈی، بھاولپور وغیرہ میں کوئی ہندو نہیں رہے گا سب کو ہندوستان بھیجا جائے گا۔ جن بے ایمان لیڈروں نے اس فیصلہ پر دستخط کئے وہی لاکھوں کے قتل کے ذمہ دار ہیں۔
اس جبری تخلیہ کی وجہ سے جو لوگ ہندوستان آئے وہ صرف پنجاب میں نہیں پورے ہندوستان میں پھیل گئے۔ لعنت ہو ان لیڈروں پر جنہوں نے وطن چھوڑنے سے پہلے پوری منصوبہ بندی نہیں کی اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ حکومت برطانیہ دیوالیہ ہوچکی تھی اور وہ ہندوستان کے گورنر جنرل پر دبائو ڈال رہی تھی کہ جلد سے جلد واپس آئو اور لارڈ مائونٹ بیٹن یہ چاہتے تھے کہ سب دستخط کریں اور وہ جائیں۔ اسی عجلت کا نتیجہ تھا کہ بس حکم دے دیا کہ ہندوستانی پنجاب سے مسلمان جائیں اور پاکستان سے ہندو جائیں۔ اور یہ اُسی بدنظمی کا اثر ہے کہ ہندوئوں کی اکثریت دہلی میں آکر بس گئی اور جسے جہاں جگہ ملی اس نے ڈیرہ ڈال دیا۔ 1947 ء میں دہلی کی آبادی آٹھ لاکھ تھی جو اب ایک کروڑ 65 لاکھ ہے۔ دہلی ہی نہیں ہر بڑے شہر میں حکومت نے ان کے لئے کالونیاں بنائیں اور کاروبار کے لئے بازار بھی بنائے۔ ان میں جو کاروباری تھے انہوں نے اپنے مکان کے باہر والے کمرہ کو دُکان بنا دیا اور پھر چراغ سے چراغ اتنے جلے کہ پوری کالونی بازار بن گئی۔
کہتے ہیں کہ آج جو بہت بڑے بازار قرول باغ، لاج پت نگر، ڈیفنس کالونی وغیرہ وغیرہ ہیں وہ سب رہائش کے لئے دی گئی کالونیاں ہیں اور جو بازار ان کے لئے بنائے گئے تھے وہ بھی لے لئے اور کالونی کو بھی بازار بنا دیا۔ یہ بازار قانونی ہیں یا غیرقانونی اب ان کی عمر 70 برس یا کچھ کم ہوچکی ہے بڑے بڑے بازاروں سے وہاں زیادہ لوگ آتے ہیں اس لئے وہ کسی قیمت پر ان دُکانوں کو بند نہیں کریں گے۔ یہ بات تو سب نے دیکھ لی ہوگی کہ ان کی سب سے بڑی طاقت ان کا اتحاد ہے۔ وہ 70 برس سے ہندوستان کے شہروں میں آباد ہیں لیکن آج بھی آپس میں اپنی زبان میں بات کرتے ہیں اور ہم اپنے اس مشاہدہ کی بناء پر جو ہم نے 40 سال کیا اور صرف سندھیوں پنجابیوں میں رہ کر کیا یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ آج بھی شادی اپنوں میں ہی کرتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ کسی لڑکے نے یا لڑکی نے اپنے طور پر شادی کرلی ہو۔ اور ان کے اس اتحاد کا ہی نمونہ ہے کہ لکھنؤ کے سب سے مقبول اور اہم بازار امین آباد پر آج ان کا قبضہ ہے۔ جو بھی 70 سال سے اوپر کا ہوگا اسے یاد ہوگا کہ امین آباد پارک میں لکڑی کی عارضی دُکانیں رکھنے کی ان کو اجازت دے دی تھی اور اس کے بعد پارک کے تین طرف آباد مالکانِ مکان سے مقدمہ چلا، کارپوریشن سے چلا، حکومت سے چلا لیکن وہ ہارے یا جیتے دکانیں نہیں ہٹائیں اور آخرکار جھک مارکر حکومت نے پورا پارک انہیں دے دیا۔ اور اب سنا ہے کہ ہر دُکان تین منزلہ بن گئی ہے۔
لکھنؤ میں اس طرح کے نہ جانے کتنے بازار ہیں باغ گونگے نواب جہاں ہم چالیس سال رہے اور اس کے سناٹے کا یہ حال تھا کہ ہماری اہلیہ مغرب کے بعد بچوں کو نیچے نہیں اُترنے دیتی تھیں اس لئے کہ وہ ڈر نہ جائیں اسی مکان کو جب ہم نے 1990 ء میں چھوڑا تب بھی ہماری اہلیہ اپنے نواسوں کو مغرب کے بعد نہیں اُترنے دیتی تھیں کہ کہیں کسی گاڑی یا بائک سے چوٹ نہ کھاجائیں اور آج باغ گونگے نواب میں صرف پیدل کوئی جاسکتا ہے۔
آج حکومتوں کی سب سے بڑی کمزوری الیکشن ہے انہیں ووٹ چاہئے چاہے آپ کچھ بھی کریں اور جب لاکھوں کی تعداد میں پنجابی سندھی سرحدی بلوچی اعلان کردیتے ہیں کہ حکومت کو سبق سکھانا ہے تو بات صرف دہلی کی یا لکھنؤ کی نہیں رہتی بلکہ ہر وہ آدمی جو تقسیم کے وقت آیا ہے وہ اگر لکھیم پور کے جنگل میں بھی رہتا ہے تو ووٹ اسے دے گا جس کا فیصلہ ان کے بھائی بند کردیں گے۔ حکومت کی بنیادی غلطی یہ ہے کہ ابتدا میں مسلمانوں سے نفرت اور آنے والوں سے ہمدردی کے جذبہ نے انہیں من مانی کرنے کی چھوٹ دے دی اور اب جبکہ وہ مقامی باشندوں سے کہیں زیادہ خوش حال ہوگئے ہیں تو ماسٹر پلان انہیں دکھایا جارہا ہے ۔ وہ کسی ماسٹر پلان کو نہیں جانتے وہ صرف پیسہ کمانا جانتے ہیں اور جتنی محنت اور جیسی پابندی اور جتنی خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرتے ہیں اس نے انہیں اس کا پھل دیا ہے۔ ہم نے اسی امین آباد کے بازار میں پرانے دُکانداروں سے بار بار سنا ہے کہ دو تین قسم کا سامان دکھانے کے بعد کہتے تھے کہ یہ بتایئے آپ کو لینا ہے یا نہیں؟ اور پنجابی سندھی دُکانداروں نے ہمیشہ یہ کہا کہ یہ اور دیکھ لیجئے۔ منع کرنے کے بعد کہا کہ لیجئے گا نہیں مگر دیکھ تو لیجئے۔ اور اس برتائو نے کہ آپ کو لینا بھی ہے یا نہیں۔ والی دکانیں بند کرادیں اور ہر طرف لیجئے گا نہیں دیکھ تو لیجئے کہنے والوں کو آباد کردیا۔ دہلی کی سیلنگ کا مقدمہ سپریم کورٹ میں ہے اور ہم جانتے ہیں کہ بیوپاری ہاریں یا جیتیں بازار کوئی نہیں ہٹے گا اس لئے کہ 2019 ء کا الیکشن سامنے ہے۔

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular