Saturday, May 23, 2026
spot_img
HomeLucknowہندوستانی خواتین: تعلیم اور معاشی شرکت کے تناظر میں ایک سماجیاتی...

ہندوستانی خواتین: تعلیم اور معاشی شرکت کے تناظر میں ایک سماجیاتی مطالعہ(NEP 2020کے حوالے سے)

پروفیسر عذرا عابدی
صدر، شعبۂ سماجیات

جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی، بھارت

ہندوستانی معاشرہ ایک پیچیدہ اور کثیرالجہتی سماجی ڈھانچہ پیش کرتا ہے جس میں صنفی تعلقات، طبقاتی تفاوت، علاقائی ناہمواری اور ثقافتی تنوع ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ اس تناظر میں خواتین کی تعلیم اور معاشی شرکت کو سمجھنا نہایت اہم ہے کیونکہ یہی دو عوامل خواتین کی سماجی حیثیت، خودمختاری اور بااختیاریت کے بنیادی ستون تصور کیے جاتے ہیں۔ جدید ہندوستان میں ریاستی پالیسیوں، بالخصوص نیشنل ایجوکیشن پالیسی (NEP 2020)نے خواتین کی شمولیت، مساوات اور بااختیاریت کو فروغ دینے کے لیے ایک جامع فریم ورک پیش کیا ہے، جس کا مقصد ایک زیادہ شامل (inclusive)، منصفانہ اور ترقی یافتہ معاشرہ تشکیل دینا ہے۔
تعلیم کو ہمیشہ سے سماجی تبدیلی کا ایک بنیادی ذریعہ سمجھا گیا ہے، اور خواتین کے لیے یہ اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے کیونکہ تعلیم نہ صرف ان کی ذاتی ترقی کو ممکن بناتی ہے بلکہ انہیں سماجی، معاشی اور سیاسی میدان میں فعال شرکت کے قابل بھی بناتی ہے۔ ہندوستان میں گزشتہ چند دہائیوں کے دوران خواتین کی تعلیمی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، اور کئی سطحوں پر خواتین نے مردوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، خاص طور پر اعلیٰ تعلیم میں داخلے کے حوالے سے۔ تاہم، اس مثبت پیش رفت کے باوجود ایک بنیادی تضاد برقرار ہے، جہاں تعلیم میں اضافہ معاشی شرکت میں اسی تناسب سے اضافہ نہیں کر سکا۔
یہ تضاد اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے۔ حالیہ لیبر سروے کے مطابق ہندوستان میں مردوں کی لیبر فورس شرکت تقریباً 77 فیصد ہے جبکہ خواتین کی شرکت صرف تقریباً 34 فیصد کے قریب ہے۔ یہ فرق اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تعلیم کے باوجود خواتین کو معاشی میدان میں مکمل شرکت کے مواقع حاصل نہیں ہو پاتے۔ مزید برآں، 2017–18 میں خواتین کی لیبر فورس شرکت 23.3 فیصد تک گر گئی تھی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ معاشی ترقی کے باوجود خواتین کی شرکت میں مستقل مزاجی نہیں رہی۔
یہاں NEP 2020 کی اہمیت سامنے آتی ہے، جو نہ صرف تعلیم کو فروغ دینے بلکہ اسے صنفی مساوات اور شمولیت کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کرتی ہے۔ NEP 2020 کا ایک بنیادی مقصد یہ ہے کہ تعلیم کو ایک ایسا ذریعہ بنایا جائے جو صنفی فرق کو کم کرے اور خواتین کو بااختیار بنائے۔ اس پالیسی میں “Gender Inclusion Fund” جیسے اقدامات شامل ہیں، جن کا مقصد پسماندہ اور محروم طبقات، خصوصاً لڑکیوں کی تعلیم کو فروغ دینا ہے۔ اس کے علاوہ، NEP 2020 نے کثیر الشعبہ (multidisciplinary) تعلیم، ہنر مندی (skill development) اور پیشہ ورانہ تربیت (vocational education) پر بھی زور دیا ہے تاکہ خواتین کو صرف تعلیم تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ انہیں روزگار کے مواقع سے بھی جوڑا جائے۔
NEP 2020 کا وژن اس لحاظ سے منفرد ہے کہ یہ تعلیم کو محض نصابی علم تک محدود نہیں رکھتا بلکہ اسے عملی زندگی، مہارتوں اور روزگار کے ساتھ جوڑتا ہے۔ اس پالیسی کے تحت ابتدائی سطح سے ہی ہنر مندی کی تعلیم کو شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے، تاکہ لڑکیاں کم عمری سے ہی معاشی طور پر خودمختار بننے کی سمت میں آگے بڑھ سکیں۔ ماہرین کے مطابق اگر اس پالیسی کو مؤثر طریقے سے نافذ کیا جائے تو یہ خواتین کی لیبر فورس میں شرکت کو بڑھانے کا ایک اہم ذریعہ بن سکتی ہے۔
تاہم، ایک تنقیدی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو صرف پالیسی بنانا کافی نہیں ہوتا، بلکہ اس کے نفاذ (implementation) میں درپیش مسائل کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔ ہندوستان میں تعلیم اور روزگار کے درمیان ایک واضح خلا (gap) موجود ہے، جس کی کئی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ سماجی و ثقافتی رکاوٹیں ہیں، جہاں خواتین کو روایتی کرداروں تک محدود رکھا جاتا ہے۔ دوسری اہم وجہ روزگار کے مواقع کی نوعیت ہے، جہاں خواتین کو زیادہ تر غیر رسمی اور کم اجرت والے شعبوں تک محدود رکھا جاتا ہے۔ تیسری وجہ تحفظ (safety) اور سہولیات کی کمی ہے، جو خواتین کی نقل و حرکت اور کام کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے۔
اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ اگرچہ خواتین کی لیبر فورس شرکت میں حالیہ برسوں میں کچھ اضافہ ہوا ہے، لیکن اس میں سے بڑی تعداد غیر اجرتی یا کم اجرتی کاموں پر مشتمل ہے، جیسے گھریلو صنعت یا خاندانی کاروبار میں مدد- اس کا مطلب یہ ہے کہ خواتین کی معاشی شرکت کو محض مقداری (quantitative) لحاظ سے نہیں بلکہ معیاری (qualitative) لحاظ سے بھی جانچنا ضروری ہے۔
NEP 2020 کے تناظر میں “شمولیت” (inclusion) کا تصور نہایت اہم ہے۔ اس پالیسی کا مقصد صرف تعلیم تک رسائی فراہم کرنا نہیں بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ ہر طبقے، خصوصاً خواتین، دیہی علاقوں کی لڑکیاں، اور اقلیتی برادریوں کی خواتین، تعلیم کے ذریعے ترقی کے مواقع حاصل کر سکیں۔ اس کے لیے ریاست نے مختلف اقدامات کیے ہیں، جیسے اسکالرشپس، رہائشی سہولیات، اور ڈیجیٹل تعلیم کو فروغ دینا۔ تاہم، ڈیجیٹل تقسیم (digital divide) اب بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے، کیونکہ دیہی علاقوں میں خواتین کو انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی تک محدود رسائی حاصل ہے۔
معاشی شرکت کے حوالے سے بھی ریاست نے مختلف اسکیمیں متعارف کرائی ہیں، جیسے سیلف ہیلپ گروپس (SHGs)، اسکل ڈیولپمنٹ پروگرامز، اور مائیکرو فنانس اسکیمیں، جن کا مقصد خواتین کو معاشی طور پر خودمختار بنانا ہے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں کچھ مثبت تبدیلیاں بھی دیکھنے میں آئی ہیں، خاص طور پر دیہی علاقوں میں خواتین کی شرکت میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم، یہ اضافہ اکثر مجبوری کے تحت ہوتا ہے، جیسے معاشی دباؤ یا گھریلو آمدنی میں کمی، نہ کہ حقیقی بااختیاریت کے نتیجے میں۔
سماجیاتی نظریات کے تناظر میں دیکھا جائے تو خواتین کی تعلیم اور معاشی شرکت کے درمیان تعلق ایک پیچیدہ عمل ہے۔ “U-shaped hypothesis” کے مطابق ابتدائی سطح پر تعلیم میں اضافہ خواتین کی لیبر فورس شرکت کو کم کر سکتا ہے، لیکن اعلیٰ تعلیم کے بعد یہ شرح دوبارہ بڑھ جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف تعلیم کافی نہیں بلکہ معیاری روزگار کے مواقع اور سماجی تبدیلی بھی ضروری ہیں۔
مزید برآں، حالیہ مطالعات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ خواتین کی تعلیم میں اضافہ ہونے کے باوجود ان کی پیشہ ورانہ میدان میں نمائندگی کم ہے، خاص طور پر اعلیٰ عہدوں اور تکنیکی شعبوں میں۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ تعلیم اور روزگار کے درمیان موجود خلا کو پر کرنے کے لیے مزید جامع اقدامات کی ضرورت ہے۔
اختتامیہ کے طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہندوستان میں خواتین کی تعلیم اور معاشی شرکت ایک متضاد مگر امید افزا تصویر پیش کرتی ہے۔ ایک طرف NEP 2020 جیسے اقدامات خواتین کی شمولیت، مساوات اور بااختیاریت کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں، جبکہ دوسری طرف سماجی، ثقافتی اور ساختی رکاوٹیں اس عمل کو محدود کرتی ہیں۔ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ تعلیم میں اضافہ ضرور ہوا ہے، لیکن اس کا مکمل اثر معاشی شرکت میں نظر نہیں آتا۔
لہٰذا، ایک مؤثر حکمت عملی کے لیے ضروری ہے کہ:
تعلیم کو روزگار سے جوڑا جائے
خواتین کے لیے محفوظ اور سازگار کام کا ماحول فراہم کیا جائے
•ہنر مندی اور پیشہ ورانہ تربیت کو فروغ دیا جائے
•اور سماجی رویّوں میں تبدیلی لائی جائے
اسی صورت میں NEP 2020 کا وژن، جو ایک شامل، منصفانہ اور بااختیار معاشرے کی تشکیل پر مبنی ہے، حقیقت کا روپ دھار سکتا ہے، اور خواتین نہ صرف تعلیم یافتہ بلکہ معاشی طور پر بھی خودمختار اور فعال شہری بن سکیں گی۔

7065184156

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular