9807694588
اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔
ناہیدطاہر
عید کا دن تھا۔۔۔یتیم بچے،مُنو اور زینب ماں باپ کی یاد میں اداس بیٹھے آنسو بہارہے تھے۔۔۔۔چُنُّو قریب کی آبادی سے اونچی اونچی عمارتوں کے اونچے در پر دستک لگاتا ہوا زکوة میں چند سکے اکٹھا کیا۔۔۔۔ بسکٹ اورکچھ ٹافیاں خریدیں اورخوشی خوشی دوڑتا ہوا دنیا کا سب سے خوبصورت آشیانہ اپنی بوسیدہ جھونپڑی کی جانب آیا۔۔۔دیکھا سارے بھائی اپنی اکلوتی بہن زینب کے اطراف اداس بیٹھے ہوئے ہیں۔
” باہر آجاؤ۔۔۔۔دیکھو میں تم سب کے لئے کیا لایا ہوں؟
یہ سن کر سب باہر آگئے ۔چنو نے ٹافی کے ساتھ بسکٹ بانٹے۔تمام بھائی خوشی سے تالیاں بجانے لگے جبکہ زینب کے چہرے پر مسکان نہ چھائی ۔ چنو نے جب یہ دیکھا تو من ہی من بڑا اداس ہوا اور چپکے سے خود کی ٹافی بھی اس کی گیلی ہتھیلی پر رکھا ۔تب وہ بے اختیار ہنس پڑی۔اس کی ننھی سیاہ آنکھیں گیلی تھیں اور چہرے پر معصوم کھلکھلاہٹ۔۔۔شاید قوس قزح اسی کو کہتے ہیں !!!
“بھیا ماں ہوتیں تو کتنا اچھا ہوتا!
مجھے ماں کی بہت یاد آتی ہے۔اچانک وہ دوبارہ سے رونے لگی۔
” بہادر بچے روتے نہیں !!”ماں ہمیشہ یہی کہتی تھیں ناں ۔۔۔۔؟ چنو جلدی سے اس کی نم آنکھیں اپنی میلی کچیلی شرٹ کے دامن سے صاف کیا اور کہنے لگا۔۔۔”چلو ! آج ہم بھی امیر بچوں کی طرح “سیلفی” لیں گے !!!”
ہاں ، ماں کو بھیجیں گے !! زینب کھلے آسمان کی طرف دیکھتی ہوئی چہکی۔۔۔۔جسے یقین تھا کہ ماں آسمان میں ایک تارہ بن گئی ہیں۔
“لیکن موبائیل توہمارے پاس ہے نہیں ؟”پھر سیلفی کیسے لی جائے؟اس کے لہجے میں چھپی حسرت سب کو اداس کرگئی۔۔
چنو کچھ پل سوچتا رہا ۔ ایک بھائی کے پیر میں بوسیدہ سی چپل مسکرا رہی تھی ۔۔باقی تمام کے پیر تو ننگے تھے۔اس نے جھٹ سے بھائی کے پیر سے چپل حاصل کی اور گویا ہوا۔

“یہ رہاہمارا موبائیل !! یہ دیکھ کر سب کے اداس چہروں پر مسرت بھری مسکان
لوٹ آئی۔۔۔ آئیڈیا برا نہیں !
سب قطار بنا کربھائی کے پیچھے کھڑے ہوگئے۔
“یہ سیلفی، ماں اور باباکو بھیجی جائےگی!!!”چنو نے چپل کو خیالی موبائیل بناتا ہوافضاء میں ہاتھ اونچا کیا اور چیزززز کہا۔
بچوں نے خالی پیٹ پر ہاتھ پھیرا ۔اب اس کا کوئی غم نہ تھا انھیں ٹافی کی مٹھاس اور انوکھی سیلفی کی خوشی عجیب احساس بخش رہی تھی۔۔۔سب بچے کھلکھلا پڑے، معصوم کلیاں خوشی کے لمحاتی جھونکوں سے جھوم اٹھیں۔اب انھیں کانٹوں بھری زیست کا کوئی غم واحساس نہ تھا !!!





