Monday, March 2, 2026
spot_img

غزل

mravadhnama@gmail.com 

9807694588

اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

عارفہ مسعود عنبر مراداباد

گلابوں کو کتابو میں چھپایا اب نہیں جاتا
حسیں خوابوں کو پلکوں پر سجایا اب نہيں جاتا
خزاں میں پتیاں بکھری ہوئی پھولوں سے کہتی ہیں
ہمیں گلدان میں کیونکر سجایا اب نہیں جاتا
کبھی موجوں سے لڑتی ہوں کبھی ساحل سے لڑتی ہوں
کنارے دل کی کشتی کو لگایا اب نہيں جاتا
نظر بدلی ہوئی سی دوستوں کی دیکھتی ہوں میں
محبت کو ہی بس دل میں بسایا اب نہی جاتا
ہماری زندگی کے بھی عجب حالات ہیں عنبر
دکھایا اب نہيں جاتاچھپایا اب نہیں جاتا

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular