محمد شکیب الدین
میرے ساتھ تیرے پیار کی خوشبو رہتی ہے
تجھ سے باتیں کرنے کی میری آرزورہتی ہے
تیری دید سے روحانی سکوں ملتا ہے
تیرے انتظار میں آنکھ کرتی وضورہتی ہے
کیا ایک خط لکھنے کی بھی فرصت نہیں
کیا کام ہے جس میں مصروف تورہتی ہے
تجھے پانے کی جوآرزو میرےدل میں ہے
میرے جسم میں وہ بن کر لہو رہتی ہے
یہ سب شکیب کے تخیل کا کمال ہے
دور ہو کر بھی میرےپاس تورہتی ہے
ریسرچ اسکالر شعبہ اردو مانو حیدر آباد
٭٭٭٭٭





