Monday, March 2, 2026
spot_img
HomeMuslim Worldہارےہوئےکوجیت دلاتی ہےکربلا

ہارےہوئےکوجیت دلاتی ہےکربلا

mravadhnama@gmail.com 

9807694588

اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

 

 

 

 

غلام غوث بارہ بنکوی

محرم الحرام کا مہینہ جیسے ہی جلوہ فگن ہوتا ہے تو وہ اپنی تما م تر رعنائیوں کے ساتھ کربلا کی یادوں کو اہل محبت کی بزم میں تازہ کردیتا ہے ہر شخص کی زبان پہ امام مظلوم کی حمایت ونصرت اور ان سے عقیدت و احترام کا جذبہ بیکراں منظوم اور کلام نثر دونوں شکلوں میں جاری ہوجاتا ہےیوں تو محرم الحرام کی اہمیت وفضیلت شہادت امام حسین علیہ السلام سے قبل اہل اسلام کی نگاہ میں مسلم ہے بہت سارے تاریخی واقعات اس ماہ کی دسویں تاریخ سے وابستہ ہیں مثلا ان میں سے چند کا ذکر قارئین کی بزم میں پیش خدمت ہے فقیہ ملت حضرت مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمۃ نے اپنی کتاب خطبات محرم میں محرم الحرام کی دسویں تاریخ کے اہم واقعات کا تزکرہ حضرت شیخ عبد الرحمن صفوی علیہ الرحمۃ کی مشہورہ زمانہ تصنیف نزہتہ المجالس سے نقل کیا ہے کہ اسی روز (عاشورہ) آسمان و زمین اور قلم کی تخلیق ہوئی .حضرت آدم وحوا علی نبینا علیہما الصلوۃ والسلام پیدا ہوئے اور آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی جودی پہاڑ پر لگی حضرت ابراہیم علیہ السلام مرتبہ خلت سے سرفراز کئے گئے چالیس سال بعد حضرت یعقوب علیہ السلام سے حضرت یوسف علیہ السلام ملے حضرت ادریس علیہ السلام آسمان پر اٹھائے گئے حضرت ایوب علیہ السلام صحتیاب ہو ئے. حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ سے نکلے. حضرت داؤد علیہ السلام کی توبہ قبول ہو حضرت سلیمان علیہ السلام کو سلطنت عطا ہوئی. حضرت عیسی علیہ السلام آسمان پر اٹھائے گئے. ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کاعقد خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے ہوا اور اسی روز قیامت بھی قائم ہوگی
حوالہ. خطبات محرم مفتی جلال الدین احمد صفحہ نمبر 459 سے 460 تک سن اشاعت بار اول 1988 ,ناشر کتب خانہ امجدیہ جامع مسجد. دہلی 6
امام عالی مقام سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت بھی یوم عاشورہ کو ہوئی ہے امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت سے اس ماہ کو بڑی شھرت ملی عالم یہ ہے کہ اس ماہ کو ذکر امام حسین کے لئے اہل محبت نے خاص فرمالیا ہے ہر جگہ اس ماہ محرم میں شھدائے کربلا کی یاد میں محفلیں و مجلسیں منعقد ہورہی ہیں جس کااندازہ آپ مختلف جگہوں پر دیکھکر بآسانی لگا سکتے ہیں کہ اس ماہ میں امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کی رفاقت میں اپنی جانوں کو قربان کر نے والوں کا ذکر کس قدر ہوتا ہے .
یزید جیسے فاسق وفاجر اور ظالم و شر پسند کی بیعت کا انکار کرکے نواسہ رسول جگر گوشہ بتول فر زند فاتح خیبر سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے آ نے والی نسلوں کی عزت و آبرو کی حفاظت کا جو کارنامہ انجام دیا ہے اُس کی مثال دنیا پیش کرنے سے کل بھی قاصرتھی اور آج بھی ان کی لازوال شھادت کی مثال انسانیت کے کسی بھی طبقے میں معدوم ہے
خاندان اہل بیت اطھار کے چشم و چراغ پر کربلا کی تپتی ہوئی دھرتی میں ظلم و ستم عدوان و شرکسی کا یزیدی فکر سے متاثر ذلیل افراد نے جو پھاڑ تو ڑا ہے اور تین روز بھوکے پیاسے رکھکر امام حسین اور اصحاب حسین پہ جو جفا کیا ہے اسسے انسانیت لزرہ بر اندام ہوگئی مگر ہوس پرست لالچی یزیدیوں کےقلب میں زرہ برابر رحم نہ آ سکا یزیدیوں کے اس ہلاکت خیز معرکہ کا مقابلہ امام حسین رضی اللہ عنہ نے ڈٹ کر کیا اور صبر و تحمل کا جو پیغام کربلا کے میدان سے امام مظلوم نے دیا اس سے دنیا نے سبق حاصل کیا کہ ظلم و ستم کو شکست فاش دینے کی طاقت صبر و تحمل اور برداشت میں ہی ہے کربلا کی زمین نے یہ آواز لگا ئی آج ظلم و ستم کے مقابلے میں صبر و تحمل کی جیت ہوگئی اور یہ جیت دنیا کے نقشے پہ بالکل منفرد اور یکتائے روزگا ر کی حامل بن گئی آج کوئی بھی یزیدیوں کا نام لینے والا باقی نہ رہا جبکہ امام حسین کا ذکر نہ صرف مجالس ومحافل تک محدود ہے بلکہ امام پاک سے عقیدت و احترام کا اظہار مساجد کے منبرو محراب سے بھی ہورہا ہے یہ مشاہدہ آج کی تاریخ میں بھی موجود ہے
شریعت مصطفی کی حفاظت کے لئے امام پاک نے صرف اپنی ہی جان نہیں قربان کی ہے بلکہ اپنے پورے کنبے کو راہ خدا میں پیش کر کے پوری انسانیت سے محبت کرنے کی داد تحسین حاصل کر لی ہے.
ہے کوئی ایسا جو دین اسلام کی بقا کے لئے اس طرح کاکارنامہ انجا م دیا ہو ؟
نہیں ہر گز نہیں
ایثار و قربانی کا یہ حسین منظر صرف کربلا کے میدان میں ہی دکھائی دیا ہے
فتح وشکست کے فلسفے کو کربلا کے سانحہ نے بالکل بدل دیا جو بظاہر جیتا دنیا نے اسے ہارا ہوا مانا اور جن کے سروں کو ان کے مقدس بدنوں سے جدا کردیا گیا خلق خدا نے انہیں جیت کا درجہ دیا ہے اس جگہ علامہ سلمان فریدی کا یہ شعر قابل ذکر ہے
*مفھوم بدل دیاہےفتح وشکست کا
ہارےہوئےکوجیت دلاتاہےکربلا
یو م عاشورہ کی اہمیت فضیلت واقعہ کربلا سے قبل اہل فکر کی نگاہ میں ضرور قابل تسلیم ہے تاہم محرم الحرام کی دسویں تاریخ کو شھرت کی جو لازوال دولت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت سے ملی اس کا کو ئی انکاری نہیں ہوسکتا ہے .کربلا کے میدان میں کئے گئے ظلم و جفا کی داستان جب بھی سنائی جاتی ہے تو لوگوں کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر جاتی ہیں اور امام حسین رضی اللہ عنہ سے بے لوث عقیدت و احترام کے جذبے کا اظہار ہونے لگتا ہے.
یہاں پر یہ واضح کرتا چلوں کہ کربلا میں ہوئی جنگ حق وباطل کی جنگ تھی ایک طرف باطل کا زور تھا تو دوسری طرف حق کی آواز بلند کرنے اور غلبہ پانے کی جد و جہد تھی .
حق کی نمائندگی کا فریضہ نواسئہ رسول جگر گوشئہ بتول سیدنا امام عالی مقام رضی اللہ عنہ انجام دے رہے تھے جبکہ باطل ذہنیت کی اشاعت اوریزیدی افکار کی ترجمانی کی ذمہ داری فریب کا لباس پہن کر یزیدیوں نے لے رکھی تھی یزیدیت کا پرچار کرنے کے لئے اور حق کے مقابل باطل کو فروغ دینے میں یزید پلید کی غلامی کا پٹہ ابن زیاد ابن سعد،شمر لعین، حارث خبیث، ودیگر زر خرید نا ہنجارو ں نے پہن رکھا تھا
ان لوگو ں کوشرم آنی چاہئے جو کہتے ہیںکہ کربلا کی جنگ دوشھزادو ں کی جنگ تھی اور یہ محض ایک سیاسی جنگ تھی ۔افسوس ہے اس طرح کی باتوں کو شائع کرنے والو ں پر یزید کی حمایت کرنا اور اسے امیر المومنین،ورضی اللہ عنہ جیسے الفاظ کا مستحق گرداننا توآتا ہے پر زکر حسین پہ ان کے منہ سے ایک لفظ بھی نہیں نکلتا ہے ایسے لوگ یزیدیت اور دہشتگردی کے تو نمائندے ہو سکتے ہیں لیکن امن پسند رسول اکرم صلی اللہ کے پیارے نواسے کے ہمدرد نہیں ہو سکتے ہیں
ریسر چ اسکالر دہلی یونیورسٹی، دہلی
رابطہ نمبر 7289849371

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular