عارفہ مسعود عنبر

چھوڑ جانا تھا اگر ہاتھ تو آئے کیوں تھے
پھول راہوں میں مری تم نے بچھائے کیوں تھے
زندگی جیسے گزرتی ہے گزر ہی جاتی
خواب آنکھوں میں نئے تم نے سجائے کیوں تھے
تیرگی راہ وفا میں تھی مقدر میرا
پھر چراغ اپنی محبت کے جلائے کیوں تھے
قصہءِ رسم وفا لکھنا جو ناممکن تھا
تم نے افسانے محبت کے سنائے کیوں تھے
بے وفا سے رہی امید وفا کیوں عنبر
غیر کو زخمِ جگر اپنے دکھائے کیوں تھے۔۔۔





