Friday, February 27, 2026
spot_img
HomeMuslim Worldمشتاق احمد یوسفی کو ایک خراج عقیدت کچھ انہی کے انداز میں

مشتاق احمد یوسفی کو ایک خراج عقیدت کچھ انہی کے انداز میں

مصباحی شبیر

طنزومزاح کے عظیم استاد یوسفی کے اس دار فانی سے رحلت کی خبر جب موجودہ زمانے کے بارسوخ ذرائع یعنی فیس بک و واٹس ایپ سے ملی تو یقین کریں مجھے اتنا ملال اس شخص کے انتقال سے نہ ہوا جتنا اس طرز ِتحریر کے انتقال کا ملال ہوا، میرا دل نہیں دماغ کہنے لگا کہ اب وہ زہر قاتل ہمیں کون پلائے گا جس کے پینے سے مختصر وقت کے لیے ہی صحیح ہماری ذات سماجی حقیقت کو پہچان کر اپنی نظروں سے گر ندامت و پشیمانی سے چلو بھر پانی میں ہی ڈوب کر مر جاتی تھی اب یہ الگ بات ہے ان کا بیانیہ ختم ہوتے ہی ہم پھر اس بد روح کی طرح زندہ بھی ہوجاتے تھے جو اور روحوں کی طرح صرف بھٹکتی نہیں ہے بلکہ دنیاوی معاملات میں مداخلت بھی کرتی ہے۔ آپ ہمارے درمیان ایسے تھے جیسے کشمیر کی درگاہوں و مزاروں میں پانی چھیڑکنے والے بابا لوگ کہ جیسے ہی سماج کسی برائی میں مبتلا ہوکر خواب ِبھالو میں مبتلا ہوجاتے آپ پانی چھڑک کر ہمیں بیدار کرتے تھے۔۔ اور طرزِ تحریر بھی آپ کا ایسا تھا کہ برے سے برے طنز کو بھی ہم خطیب ِجمعہ کے وعظ کی طرح برداشت کرتے تھے کہ چلو ان کی عادت ہی ایسی ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ بہت سارے آپ کے جملوں کے وسیع مفاہم ہم آج بھی نہ سمجھ سکے جیسے کہ ہم عوام کو جمعہ کا خطبہ سمجھ نہیں آتا کہ عربی میں ہوتا ہے۔۔ مرحوم جی میں نے اپنی زندگی میں لکھاری بہت دیکھے تھے لیکن جس قدر سماج کی دکھتی رگ پکڑ کر آپ لکھتے ہیں کبھی کبھی تو گمان ہوتا ہے کہ آپ لکھاری کم رگوں کے ڈاکٹر زیادہ تھے۔۔۔ کبھی کبھی من کرتا ہے آپ کی تمام تحریریں جمع کرکے آگ لگا دوں کہ اس ننگے و بے قدرے سماج میں ناصح، ٹوکنے والا ، اور رگیں ٹٹولنے والے کی حاجت کوئی محسوس نہیں کرتا تو تو اخباروں و کتابوں میں وہ تحریریں بھی زندہ رہ کر کیا کریں گی، وہ صرف کچھ لوگوں کو احساس ندامت دلاتے رہیں گی اور ان بے چاروں کی حالت ان تحریروں کے خیال سے ’’رکتے تو سفر رہتا جاتے تو صنم رہتا‘‘والی ہوجاتی ہے کہ کچھ اس سماج کے مزے لینے کا سوچیں کی مشتاق یوسفی کی تحریر یاد آتی کہ ایسا ہے، ویسا ہے۔۔۔ میں آپ کی تحریر میں جب تبلیغ، پندو نصیحت کے ابواب جمع کرتا ہوں تو آپ کو جنتی کہے بنا نہیں رہ سکتا کیونکہ آپ نے وہ کام کیا جو ائمہ کرام مساجد کی محراب ِمبارک میں بیٹھ کر تے ہیں، یہ الگ بات ہے کہ اب آپ کی لکھی بہت ساری باتیں اپنے عمل میں الٹی ہوگی ہیں جیسے آپ لکھتے ہیں ”مسلمان صرف انہی جانوروں کو پالتے ہیں جن کا گوشت کھانا جائز ہے” اب یوسفی صاحب مرحوم ایسا نہ رہا مسلمان اب ایسے جانوروں کو بھی زیادہ ہی پالتے ہیں جن کا گوشت حرام ہوتا ہے۔وہ کیا ہے کہ اب ہم صرف لمحوں کے مسلمان رہے، صدیوں کے نہیں رہے، اسی طرح آپ کو کراچی کی گلیوں کی تنگی کی شکایت تھی ہمیں مکانوں کی اونچائی سے شکایت ہے وہاں گلیوں کی تنگی سے نکاح کی گنجائش رہتی تھی یہاں سب سے اوپری منزل سے واپس آنے تک نکاح فاسد ہونے کا خطرہ منڈلاتا ہے۔ ہاں یہ بھی بتادوں کہ انسان اب اپنا زہر صرف دل میں نہیں رکھتا ہے سوشل میڈیا میں بھی رکھتا ہے، جن دوستوں کو کسی بھی نام سے پکاریں آپ کو گلوں کی خوشبو آتی تھی وہ دوست آپ سے پہلے ہی مرحوم ہوگئے ہاں اب کسی کسی دشمن کے گھر سے حلوہ کی خوشبو ضرور آتی ہے۔ ایک بات یہ بھی ہے مرحوم کہ اب مرض کے مقابلے کے لیے لذیذ کھانے کی نہیں بلکہ لذیذ پیسے کی ضرورت پڑتی ہے۔ غریب لوگوں کو اب لحاف سے زیادہ موبائل کی ضرورت ہے کہ جتنا سستا چائنیز موبائل ہوگا وہ اتنا ہی گرم ہوا خارج کرتا ہے، ویسے بھی اب غریب اتنے پڑھے لکھے نہیں رہے جو منٹو یا مشتاق احمد کو پڑھ سکیں فقط اردو کی بات کررہا ہوں باقی تو سارے بے روزگار و غریب طبقہ پڑھا پڑھالکھا ہی ہے جن کو منٹو یا شیکسپیئر کوپڑھنے کی ضرورت بالکل نہیں ہے چولبل حسیناؤں کی آو بھگت کرتے کرتے وہ خود بہت بڑے ادیب بن گئے ہیں، اب میں زیادہ کیا لکھوں آپ کے سامنے میری لب کشائی یہ سورج کو چراغ دیکھانا جیسے نہیں بلکہ چراغ کو سورج دیکھانا کے مانند ہوجائے گا۔
آج آپ ہمارے درمیان نہ رہے، ویسے یہ درمیان والی بات مجھے کچھ ہضم نہیں ہوتی ہے، خواہ مخواہ کی جملہ بازی ہے، بہرحال آپ نہیں رہے تو اس سے ہمارے سماج میں یا خود ہم پر کچھ خاص فرق نہ پڑھے گا کیونکہ یہ وہ سماج ہے جو مردوں پر زیادہ خرچ کرتا ہے زندؤں کو تو لاکھ مجبوری پر بھی ایک روٹی نہیں کھلاتا ہے، خدا خیر کرے آپ کے ساتھ یہ میری دعا ہے کہ آپ نے خیر القرن کا زمانہ پایا کہ مذہبی و مسلکی تفرقے سے انسان خود کو نہیں معلوم کہ میں تین میں ہوں یا تیرہ میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جہاں تک بات آپ کے انتقال سے جو خلاء ادبی دنیا میں پیدا ہوا ہے اللہ کے فضل سے اس کا علم صرف انہی لوگوں کو ہے جو ادبی زمین اور اس کے خلاء کی علمیت رکھتے ہیں، باقی جو چند مقروض ادیب ہیں ان کو تو یہ ایک فرد کی موت ہے بس۔۔۔۔
مصباحی ؔ شبیر
دراس کرگل جموں و کشمیر
8082713692

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular