Friday, February 27, 2026
spot_img
HomeMuslim World"اردو اور ہندی کا لسانیاتی رشتہ"

“اردو اور ہندی کا لسانیاتی رشتہ”

عارفہ مسعود
لسان کے معنی زبان کے ہیں، اس ناطے لسان اس علم کو کہتے ہیں جس کا موضوع زبان اور زبان کے مسائل ہیں ۔زبان کیا ہے زبان کیوں کر بنتی ہے، زبان اپنی ارتقائی منزل کس طرح طے کرتی ہے ان تمام باتو ں کے بارے میں علمِ لسانیات ہم کو بتاتا ہے، ہماری زبان کے لسانیاتی پہلوؤں پر بہت کم تحقیقات کی گئی ہے اور جو کچھ کی گئی ہے وہ دوسری زبانوں میں قلم بند ہے ۔سوائے پروفیسر حافظ محمد شیرانی کی کتاب پنجاب میں اردو کے اس موقع پر کوئی حکمیاتی اور قابلِ توجہ کام نہیں کیا گیا ہے،ہندوستانی تہزیب و ثقافت کی جس حسین ترین لسانی تخلیق کو ہم اردو، ہندی، ہندوی اور۔ہندستانی کے نام سے جانتے ہیں جنوبی ایشیائی خطّہ میں سب سے زیادہ بولی جانے والہ زبان ہے رسم الخط اور لفظیات کو بنیاد بناکر اگرچہ اس زبان کی تقسیم برسوں پہلے ہندی اور اردو کے نام سے عمل میں آ چکی ہے، اور آج دونوں زبانوں کی تحریریں ادبی تخلیقی لحاظ سے اپنا الگ وجود اور الگ شناخت رکھتی ہیں لیکن عوامی سطح پر انہیں ایک ہی زبان کے طور پر قبول کیا گیا ہے ملک کی تقسیم کے بعد اس عمل کو گہرا دھکہ لگا اور دونوں زبانوں میں دوریاں تقریباً ہرسطح پر بڑھنے لگی تھیں، لیکن جیسے جیسے فاصلوں کی گرد نیچے بیٹھتی گئ دونو زبانوں کے بڑھتے ہوئے خد وخال زیادہ بہتر طور پر ایک دوسرے پر واضع ہوتے گئے ۔اسی دوران ان زبانوں نے تخلیقی رجحان اور بول۔چال کی سطحوں پر جو کچھ اخذ کیا گیا تھا اسے نہ صرف بانٹنے کے عمل کی نہ صرف تجدید ہوئی بلکہ نئ اطلاعاتی ٹیکنالوجی اور کمپیوٹرائزیشن کے ذریعہ اوردو اور ہندی کو ایک بار پھر قریب لانے کہ کوشش بھی کی گئی، اس عمل میں  سب سے اہم بات یہ ہے کہ اردو کے مشاعرہ اور غزل گائیکی کو ٹیلیویژن ایف ایم ریڈیو کے ذریعہ پیش کیا گیا اور اردو اور ہندی کے مضبوط مگر حساس اور نازک رشتوں کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ۔مشرف عالم ذوقی جیسے تخلیق کاروں نے ادبی اور تخلیقی سطح پر اس کے بہت سے پہلوؤں کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے، زبان ذریعہِ اظہار ہے، گریسن کے مطابق ہندوستان میں 544بولیاں بولی جاتی ہیں اسی وجہ سے ہندوستان کو زبانوں کا۔عجایب گھر کہا جاتا ہے ان میں وہ زبانیں بھی شامل ہیں جو محدود علاقے میں بولی جاتی ہیں۔ امر واقعی یہ ہے کہ ایک عرصہ تک ہندوستان کی ادبی ثقافتی اور مذہبی زبان سنسکرت رہی ہے ان میں ضمنیات اور ادبیات کا ذخیرہ موجود ہے مگر وہ زوال پزیر ہو گئی اور اس کی جگہ  پالی پر اکرتوں نے لے لی، اور پالی پراکرتوں کی جگہ اپبھرنشوں نے لے لی، اپ بھرنشوں کے بطن سے متعدد ہند آریای زبانیں وجود میں آئیں ۔، اردو اور ہندی زبانوں کے الاوہ اودھی، چھتیس گڑھی ،بنگالی،قنوجی ،ہریانوی ،پنجابی مراٹھی وغیرہ۔زبانیں فروغ میں آئیں ان میں وہ زبانیں بھی شامل ہیں جو ملک کے محدود علاقے میں بولی جاتی ہیں اور وہ بھی جو ملک کے  طول وعرض میں۔ ،نہ صرف یہ اردو ہندی زبانوں کا حلقہءاثر ایک ہے بلکہ انکی  ترقی  ایک ہی علاقے میں ہوئ ہے جس وجہ سے یہ زبانیں ایک جیس لگتی ہیں اور ہمیشہ ایک دوسرے سے  استفاده کرتی رہی ہیں ،ایک  نے دوسرے کو متاثر کیا ہے اور ایک دوسرے سے متاثر ہوئی ہیں ۔ان سے ملنے والی مماثلتوں کے پیشِ نظر انہیں سگی بہنیں بھی قرار دیا جاتا رہا ہے بلکہ سرسید نے انہیں ایک حسین دوشیزہ کی دو خوبصورت انکھوں سے تشبیه دی ہے۔ ہندی کی ترقی میں اردو کی ترقی مضمر ہے ۔مگر تقسیم کے بعد کے تیس چالیس برس اردو کے لئے بہت مشکل کے تھے بعض ریاستوں کے نصاب سے اردو کو نکال دیا گیا نتیجہ یہ ہوا کہ ریاستوں کی اردو بولنے والی دو نسلیں اردو رسم الخط سے نابلد رہ گئیں وہ لوگ کاروبار اور عام بات چیت تو اردو زبان میں کرتے رہے مگر جب لکھنے کی بات آئی تو اردو رسم الخط سے نا آشنا ہونے کی بات کرتے تھے۔، خیر ادبار کا وہ موسم گزر گیا اور اردو آج اپنی تمام تر دلکشی، اور شگفتی کے ساتھ اپنے بولنے والوں کے دلوں پر راج کر رہی ہے ۔زبان کی سیاست کرنے والوں نے اردو اور ہندی زبانوں میں دوری پیدا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی بہتوں نے اسے غیر ملکی زبان قرار دیا اور تقسیمِ ہند کے اسباب میں ایک سبب بتایا مگر انہیں منھ کی کھانی پڑی،
ع: جو یہ کہتے ہیں غیروں کی زباں ہے اک بہانا ہے
زبانِ ہند ہے یہ اس سے واقف کل زمانہ ہے
یہ اردو کیا ہے گویا سب زبانوں کا خزانہ ہے
یہ ملکِ ہند کی ایک داستاں ہے ایک فسانہ ہے
یہ وہ دریا ہے جس میں سب زبانیں ہو گئی شامل
بہے یہ رہتی دنیا تک نہ اس کا خشک ہو ساحل۔
لسانی اعتبار سے اردو اور ہندی نہ صرف ایک خاندان کی زبانیں ہیں بلکہ ان میں بہت مماثلتیں ہیں رسم الخط کے فرق کو نظر انداز کر دیں تو دونوں زبانیں ایک جیسی لگتی ہیں انکا آغاز ان کی پرورش و پرداخت سب ایک سر زمین ایک فضاء ایک ماحول میں دکھائی دیتی ہیں ان دو زبانوں کی تاریخ دراصل ہندوستان کے ہزار سالہ دور کی تاریخی، سیاسی اور ثقافتی تاریخ ہے اسی وجہ سے یہ زبانیں عام بول چال میں ایک جیسی لگتی ہیں اور ہندی، ہندوی اور
ہندستانی کے نام سے جانی جاتی ہیں،
زبانِ ہند ہے یہ زبان ہندو مسلم کی
مٹاےء۔سے کبھی اردو زباں اب مٹ نہیں سکتی
یہ اپنا روز مرہ ہے یہ دن رات کی بولی
مخالف جس قدر چاہیی کرے بیداد اور سختی
ہندی، ہندوی، اور ہندستانی اصطلاحوں میں دراصل اردو اور ہندی زبانوں کے لسانی ارتقاء کی تاریخ پوشیدہ ہے اور یہ ایک الگ محبث ہے فی الوقت اردو اور ہندی گرامر کے پس منظر میں دونو زبانوں کا اسلوبیاتی مطالعہ کرنے کے بعد یہ تحقیق سامنے آئ ہے کہ اس زبان میں پائ جانے والی مماثلتوں اور مغابرتوں کا تجزیہ خالص لسانی بنیاد پر کیا ہے
مماثلتیں:
1 :ہندی اردو زبان کے مصمنے، مصوتے، حروف، افعال، ضمایر جمع بنانے کے قاعدے، فعالی اور مفعولی الفاظ محاورے ایک ہیں  میں نے فیروز اللغات میں ‘س’ اور’ الف’ سے تشکیل پانے والے الفاظ محاورے اور ضرب المثال کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ اس مد میں 520 الفاظ ہیں  جس میں انگریزی اور دوسری زبانوں کے الفاظ شامل ہیں مگر ہندی کی مدد سے واضع ہونے والے الفاظ کی تعداد 225 ہے گویہ ادھے الفظ ضرب المثال ہندی امثال ہیں مسلَ سات پھیرے، سات سمندر ساتھ دینا، ساتھ چھوڑنا، ساٹھا تو پاٹھا،، سارا گھر سر پر ٹھا لینا، ساری خدائ ایک طرف جورو کا بھائ ایک طرف، ساڑو، ساس، چھوٹی بہو وغیرہ ۔
2:  اردو نے ہندی کی 14 آوازوں ٹ، ڈ ،ڑ،بھ،  پھ،تھ ٹھ جھ، چھ، کھ، گھ ڈھ، دھ،من، عن وغیرہ کو اپنا لیا ہے
3:  اردو کے تمام ضمائر، (غائب حاضر متکلم) سنسکرت اور پراکرت سے ماخوز ہیں اور ہندی اور ہندی دونوں زبانوں میں یکساں مقبول ہیں، مسلم تم، میں، آپ، ہم اس کے، اُس کے وغیرہ
4: ضمایر کی طرح اردو کے تمام افعال الاصل ہیں مسلم انا، جانا، کھانا، پینا، وغیرہ
5: اردو ہندی دونو زبانو میں بہت سے حروف ایک ہیں  مسلً کو، تک، پر، گر، مگر، کیونکہ، لیکن وغیرہ
6: اردو میں جمع بنانے کا وہی قاعدہ جو ہندی میں ہے یعنی مفترد الفاز کے آخیر میں دں، یاں، جوڑ دیتے ہیں
7:  اردو میں عربی و فارسی الفاظ میں ہندی سابقے جوڑ کر مرکب الفاظ بنائے جاتے ہیں، جن کا استعمال اردو اور ہندی دونو زبانوں میں ہوتا ہے مسلً گھوس خور، چور دروازہ، چور تالا، ست خسمی، دھوکے باز، وغیرہ
مغابرتیں: اردو ہندی زبانوں میں سب سے بنیادی فرق یہ ہے کہ اردو کا رسم الخط فارسی سے ماخوز ہے  ،البتہ اردو نے فارسی اور عربی زبانوں میں ملنے والی اوازوں پر زبان کی چودہ آوازوں کو اپنا لیا ہے مگر رسم الخط کا فرق بنیادی ہے، اور اسی وجہ سے اردو کے مخالفین اس پر غیر ملکی زبان کا الزام تراشتے رہے ہیں ۔۔۔۔
اردو اور ہندی کے اس روز افزوں اختلاف کو کم کرنے کی خاطر صوبہ متحدہ کی سرکات نے ایک اکیڈمی قایم کی ہے جس میں دونو زبانوں کے عالم فاضل، مفکر اور اہل قلم کام کر رہے ہیں مگر افسوس اج تک کوئی ایسی تدبیر نہیں بن پڑی جو یہ اختلاف دور ہو سکے
عنبر مراداباد
RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular