Friday, February 27, 2026
spot_img
HomeMuslim Worldروزہ افطار آج شام 4:00 بجے؟

روزہ افطار آج شام 4:00 بجے؟

روزہ افطار آج شام 4:00 بجے؟

وقار رضوی
مشرا جی، شکلا جی، گپتا جی، تیواری جی، یادو جی، موریہ جی، شریواستو جی کو ہی جب روزہ افطار کے لئے بلانا ہے تو پھر وقت کی قید کیوں؟ اُن کا روزہ 6 بج کر 59 منٹ پر کھلے یا 4:00 بجے، کیا فرق پڑتا ہے؟ اُن بیچاروں سے تو جب آپ کہیں گے کہ روزہ کھولئے تو وہ فوراً سر پر ٹوپی لگاکر کندھے پر انگوچھا ڈال کر باقاعدہ کھجور کھاکر اپنا روزہ کھول لیں گے۔ اس لئے وہ حضرات جو روزہ افطار ان ہی حضرات کے ساتھ کرنے میں فخر سمجھتے ہیں یا انہیں اپنے یہاں بلاکر روزہ افطار کراتے ہیں اور پھر فخریہ اخباروں میں فوٹو بھی چھپواتے ہیں ان سے گذارش ہے کہ اگر روزہ افطار ان مشرا جی، شکلا جی کو ہی کرانا ہے تو اس کا وقت 4:00 بجے رکھ لیں تو کیا حرج ہے ایسے میں ان سب کو روزہ افطار کرانے کا مقصد بھی پورا ہوجائے گا اور حقیقی روزہ دار اپنا روزہ مسجد میں روزہ داروں کے ساتھ بھی کھول سکیں گے۔
اسلام کے یہ چار احکام نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ ہر مسلمان پر فرض ہیں۔ تیسرے درجے پر فائز حج کے مقام مکہ معظمہ میں کسی غیرمسلم کے آنے پر ممانعت ہے۔ پہلے درجے کی عبادت نماز میں ابھی تک ہم نے نہیں دیکھا کہ کسی غیرمسلم کو شامل کیا گیا ہو پھر روزہ افطار میں ہی سب اتنے سیکولر کیوں ہوگئے جبکہ روزہ بھی خالص عبادت ہے نماز اور حج کی طرح۔ رمضان اللہ کا مہینہ ہے۔ اس مہینے کی عبادت کا ثواب باقی مہینوں کی عبادت سے کہیں زیادہ ہے، بشرطیکہ آپ کی عبادت میں کوئی مکر شامل نہ ہو آپ کی عبادت دنیا کے لئے نہیں بلکہ خالص اللہ کے لئے ہو۔ روزہ داروں کو روزہ کھلوانا نہایت ثواب ہے آپ کے روزہ افطار پارٹی میں ہر وہ روزہ دار ہے جس کے بارے میں آپ کو یقین ہے کہ یہ روزہ دار نہیں ہیں جیسے مشرا جی تیواری جی۔ جب یہ ہماری دعوت پر ہمارے یہاں ہمارے ساتھ ہماری ہی طرح روزہ افطار کرتے ہیں تو دیکھنے والے دل ہی دل میںمسکراتے ہیں کہ میزبان اور مہمان اپنے دنیاوی فائدے کیلئے کیسے ایک دوسرے کو بے وقوف بنا رہے ہیں۔ سیاسی روزہ افطار شروع ہوگئے ہیں یہ سرکاری پیسے سے بھی ہوں گے جو پورے صوبے کی عوام کا پیسہ ہے اور یقینی طور پر اس میں ساری عوام کی رضامندی نہیں۔ ان سب سے بے خبر ہمارے تمام مولوی مسجدوں کو ویران کرکے ان کی محفلوں کو آباد کررہے ہیں۔
جس سماج میں ہم رہتے ہیں وہاں ایک دوسرے سے دور رہیں یہ ممکن نہیں، کاروباری ہیں، سیاست داں ہیں تو ایک دوسرے سے میل جول بڑھانا لازمی ہے، ایک دوسرے کی تقریب میں حصہ لینا بھی ضروری ہے، لیکن ہم ایک دوسرے کی کسی عبادت کا مذاق نہیں اُڑا سکتے، جیسے ہم اُن کے یہاں ہولی کی رات ہونے والی پوجا میں شامل نہیں ہوتے لیکن دوسرے دن ہولی ضرور اُن سے ملتے ہیں، دیوالی کی پوجا ساتھ نہیں کرتے لیکن دیوالی کی مٹھائی ضرور کھاتے ہیں ویسے ہی روزہ افطار ہم مسجدوں میں کریں، لیکن عید سب کے ساتھ منائیں۔ اے پی جے عبدالکلام نے اس کا آغاز کیا کہ راشٹرپتی بھون میں روزہ افطار نہیں ہوگا، مودی اور یوگی نے بھی اس روایت کی تعمیل کی یہ سب مبارکباد کے حقدار ہیں کہ انہوں نے اپنی سیاست چمکانے کا راستہ مذہب نہیں انتخاب کیا۔

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular