Tuesday, February 24, 2026
spot_img

غزل

mravadhnama@gmail.com 

موسی رضا۔  9807694588

اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔


تیمور احمد خان

چند گلیوں میں بند رہتے ہیں
امیدوں سے قند رہتے ہیں
لوگ نہ سمجھیں ہار گئے ہیں
کوہ کے ہم مانند رہتے ہیں
جاگ ہی جائے گا اک دن کو
آخر محوِ پند رہتے ہیں
مار ہی دیں گی ساری سوچیں
مثلے یونہی چند رہتے ہیں
سستے داموں بِک جائیں گے
ہم کتنے پابند رہتے ہیں
ماں نے سمجھا ہوگا میں ہوں
سب دروازے بند رہتے ہیں
مان ہی جاؤں سب ہیں اپنے
دل میں لیکن چند رہتے ہیں
تیمور و تدبیر مرکب
ہر دم ثروت مند رہتے ہیں

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular