Monday, March 2, 2026
spot_img

غزل

محمد شکیب الدین

میرے ساتھ تیرے پیار کی خوشبو رہتی ہے
تجھ سے باتیں کرنے کی میری آرزورہتی ہے
تیری دید سے روحانی سکوں ملتا ہے
تیرے انتظار میں آنکھ کرتی وضورہتی ہے
کیا ایک خط لکھنے کی بھی فرصت نہیں
کیا کام ہے جس میں مصروف تورہتی ہے
تجھے پانے کی جوآرزو میرےدل میں ہے
میرے جسم میں وہ بن کر لہو رہتی ہے
یہ سب شکیب کے تخیل کا کمال ہے
دور ہو کر بھی میرےپاس تورہتی ہے
ریسرچ اسکالر شعبہ اردو مانو حیدر آباد
٭٭٭٭٭

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular