9807694588
اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

عاشق رائے بریلوی
سجدے میں سر کٹانے کا اتنا اثر ہوا
نیزے پہ سر بلند ہمارا ہی سر ہوا
شاہوں میںایسی کوئی بھی ملتی نہیں دلیل
وو مفلسی میں پل کے بھی پیغامبر ہوا
اردو میں عاشقوں کے لہو کی ہے چاشنی
گرویدہ ٔغزل جو یہاں ہر بشر ہوا
جلوؤں میں کھو گیا تھا وہ حسن و جمال کے
یعنی کہ اپنی ذات سے بھی بے خبر ہوا
راہ حیات عشق میں جس نے گذار دی
دیدار یار اس کو ہر اک گام پر ہوا
آہن سے دل کو لمس سے سونا بنا گیا
’’پھر ایسا اتفاق کہاں عمر بھر ہوا‘‘
ضضض





