Monday, March 2, 2026
spot_img
HomeMuslim Worldعہدہ ملنے پر بدل کیوں جاتے ہیں لوگ

عہدہ ملنے پر بدل کیوں جاتے ہیں لوگ

mravadhnama@gmail.com 

9807694588

اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

احتشام الحق آفاقی

ہم نے اکثر یہ سنا ہے کہ کسی بھی شخص کو جب کوئی عہدہ ملتا ہے تووہ بدل جاتا ہے اور ان کے رویوں میں ایک بڑی تبدیلی دیکھنے کو ملتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ، یہ بات اپنی جگہ صد فیصد درست اور مبنی برحق ہے۔ گذشتہ دنوں کی بات ہے ایک کلاس فیلو سے فون پر گفتگو ہوئی ۔جہاںبہت سے مسائل پر تبادلہ خیال ہوا وہیں ہم نے پوچھ لیا کہ مولانافلاں کیسے ہیں اور ان سے آپ کی ملاقات یا بات چیت ہوتی ہے،یا نہیں۔وہ برجستہ کہنے لگا ارے بھائی تم کس کے بارے میں پوچھ رہے ہو ۔ وہ جب سے مہتمم بنے ہیں کسی کی طرف نظر اٹھا کر دیکھتے بھی نہیں۔ مولانا پہلے سے بہت بدل چکے ہیں ۔ مہتمم بننے سے قبل مولانا کس قدر ملنسار تھے۔ لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ اب تو وہ سیدھے منھ کسی سے بات بھی نہیںکرتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں اپنے دوست کی یہ باتیں سن کر قدرے متعجب ہوا۔ نہیں ایسا نہیں ہو سکتا ۔ پھر میں ایک لمبی سوچ میں مستغرق ہوگیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ممکن ہومولانا بدل گئے ہوں۔ کیوں کہ جب انسان پر ذمہ داریاں بڑھتی ہیں تو رویوں کا بدل جانا لازمی اور فطری بات ہے۔ چونکہ اب وہ شخص پہلے سے کہیں زیادہ ذمہ دار ہو جاتا ہے۔ ہر طرح کے لوگوں سے ان کا ملنا جلنا رہتا ہے۔ آپسی گفت و شنید ، باہمی تبادلہ خیال ، اپنے سے اعلی عہدیدار کاپاس لحاظ ، سطحی ملازمین کے ساتھ میانہ روی کا معاملہ، بھانت بھانت کے مسائل کا حل، چھوٹوں کے پریشانیوں سے نبرد آزما ہونا ، اکیڈمک امور کے انتظا و انصرام ان کے لئے ضروری بن جاتا ہے ۔ اس لئے وہ پہلے سے کہیں زیادہ انٹلیکچول ہو جا تا ہے۔
اب اگر ہم اپنے بڑوں کو ہمیشہ ایک ہی طرح سے دیکھنا چاہیں تو یہ کیسے ممکن ہو سکتاہے۔ بسا اوقات ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی باوقار عہدے پر فائز ہوا ہے اور اس عہدے کے اعتبار سے ان میں تبدیلی واقع نہیںہو ئی ہے تو ہم خود ہی ان کو بیوقوف سمجھتے ہیں ۔ اور ہم نے یہ کہتے ہوئے بھی سنا ہے کہ’’ یار یہ شخص کتنا بڑا جاہل ہے ، اتنے بڑے عہدے پر فائز ہونے کے بعد بھی ویسے کا ویسا ہی ڈھیٹ قسم کاہے۔ نہ توباتوں میں کوئی کمی بیشی ، رہن سہن بھی وہ بدؤو ں والا،ہر کسی سے ایک ہی سُر میں ملنا جلنا ۔‘‘ وغیرہ وغیرہ ۔
دنیامیں اچھے لوگ وہی ہوتے ہیں جو موسم اور حالات کو دیکھ کر خود کو بدل لیتے ہیں ۔ عہدہ ملتے ہی Behaviorبدل لیتے ہیں ۔ کیونکہ اب ان کے پاس ایک اعلیٰ ذمہ داری ہوتی ہے۔ ایسے وقت میں سب کیلئے ایک رویہ روا رکھنا ان کے لئے اچھی بات نہیں ہوتی ہے۔ ہر طرح کے لوگوں اور ہر سطح کے اشخاص سے ایک ہی طرح کا برتاؤ کرنے سے بعضے وقت ان کی شخصیت مجروح ہوتی ہے۔ اور لوگ انھیں عزت و وقار سے نہیں نوازتے، بلکہ وہ ان کو اس قدر ذلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے جتنا کہ کسی عا م انسان کوبھی نہیں دیکھاجاتا ۔
میرے نزدیک عہدہ حاصل کرکے اپنے رویوںمیں تبدیلی لانے والا اور لوگوں سے الگ الگ موڈ میں برتاؤ کرنے والا شخص امانت داراورقابل مبارک باد ہے ۔
7060695172
محمد علی جوہر یونیورسٹی، رامپور ،یوپی انڈیا
٭٭٭٭

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular