Monday, April 20, 2026
spot_img
HomeMuslim Worldشــاید

شــاید

mravadhnama@gmail.com 

9807694588

اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

رمانہ تبسم

’’ میںاس گائوں میںہرگز نہیں رہوں گی ۔۔۔۔۔!‘‘
’’ابھی یہاں سے چلیں ۔۔۔۔۔پتہ نہیں اس گائوں کے لوگ اپنی زندگی کس طرح گزارتے ہیں،دور دور تک کھیت ہی کھیت۔۔۔۔۔ دس گھر کے بعد تب کہیں جاکر دوسرے کا گھر آتا ہے۔مارکٹ بھی یہاں سے چالس کیلو میٹر دور ہے۔ وہ بھی ہفتہ میں ایک بار لگتا ہے،اگر کبھی ایمرجنسی پڑا تو شہر جائو۔‘‘ اس وقت سویتا کا غصہ ساتویں آسمان پر چڑھا ہوا تھا ۔ وہ الماری سے کپڑے نکال کر بے ترتیب سے بیڈ پر پھینک رہی تھی ۔
’’ ڈارلنگ ۔۔۔۔۔اپنا غصہ ان کپڑوں پر کیوں نکال رہی ہو۔۔۔۔۔ کچھ مہینے کی بات ہے ابھی مجھے یہاں کا چارج شیٹ ملا ہے پھر یہاں سے میرا ٹرانسفر خود ہو جائے گا۔ تمہیں معلوم ہے کہ میں اپنی کاوشوں سے کسی بھی جگہ کی نگرانی تیسری آنکھ سے کرتا ہوں اور اس جگہ ایک نئی روشنی پھیلاتا ہوں۔ اس گائوں کے لوگوں کے ظلم تشدد کے بارے میں پتہ چلا ہے۔ بس اسے بھی اپنی کاوشوں سے دور کر دوں۔جہاں اتنادن برداشت کیا ہے ۔۔۔۔۔ کچھ مہینہ اور برداشت کر لو پلیز ۔۔۔۔۔ میری خاطر۔‘‘  سنیل نے سویتا کو سمجھاتے ہوئے کہا۔
’’میںکچھ سننا نہیں چاہتی ۔۔۔۔۔ میں نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ مجھے اس جنگلی علاقہ میں کسی بھی قیمت پر نہیں رہنا۔ جب تک آپ کا ٹرانسفر نہیں ہوتا ہے مجھے میکے بھیج دیں۔
’’ واہ بھئی کیا زمانہ آگیا ہے۔ ایک وہ زمانہ تھا جب شری رام ونواس کے لئے جا رہے تھے تو سیتا جی بھی ان کے ساتھ ونواس جانے کی ضد کرنے لگیں تھیں۔۔۔۔۔۔ اب اس اکیسویںصدی کی عورتوں سے تو بھگوان ہی بچائے۔‘‘ سنیل نے کنکھیوں سے سویتا کو دیکھتے ہوئے کہا۔ اس وقت سویتا کاچہرہ غصہ سے لال ہو رہا تھا۔
’’ میرا سورگ میرے پتی کی باہوں میں ہے لیکن مجھے اس گائوں میں بہت ڈر لگتا ہے کھڑکی بھی کھولتے ہیں تو گائوں کے لوگ گھور گھور کر دیکھتے ہیں ۔‘‘ سویتا نے سنیل کے شانے پر سر رکھتے ہوئے جذباتی ہو کر کہا۔
’’گائوں کے لوگ سیدھے سادھے اور خلوص مند ہوتے ہیں ۔ان سے کس بات کا خوف تم ایک ڈاکٹرہونے کے ساتھ ساتھ پولس آفیسر کی بیوی ہو، تمہیں تو بہادر ہونا چائے۔میری غیر موجودگی میں ان  کے پاس جاکر ان سے ملو، ان کے دکھ درد کو سمجھو ، اس گائو ںمیں تعلیم بالکل نہیں ہے انہیں تعلیم کی اہمیت کے بارے میں سمجھائو، چھوٹی عمر میں لڑکیوں کی شادی کر دیتے ہیں ۔انہیں کم عمر کی شادی کے نتائج کے بارے میں سمجھائو، انہیں جینے کا سلیقہ سیکھائو ۔۔۔۔۔اور ۔۔۔۔۔ میں یہاں کے جرائم کے گراف کو سدھاروں گا ،تاکہ جب میرا یہاں سے ٹرانسفر ہو تو لوگ مجھے یاد رکھیں۔‘‘ سنیل ابھی سویتا کو اپنے مشن کے بارے میں سمجھا رہا تھا کہ باہر گائوں والوں کے چلانے کی آواز آنے لگی۔
’’مارو حرام جادی (زادی)کو ۔۔۔۔۔! اسے اس گائوں سے نکالو، جب تلک (تک) یہ گائوں میں رہے گی ہم لوگ چین سے جی نہیں پائیں گے۔‘‘
سنیل نے کھڑکی کھول کر دیکھا تو باہر گائوں والوں کا ہجوم تھا۔کسی انہونی کا شبہ ہونے پر وہ جلدی سے گھر کے باہر نکلااوراس کے قدم بھیڑ کی جانب بڑھ گئے ۔ وہاں بھیڑ میں موجود سبھی کے ہاتھ میں ڈندا تھا اور غصہ سے سب کا چہرہ تمتما یا ہوا تھا۔ سنیل بھیڑ کو چیڑتا ہوا معاملہ کو جاننے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس کے قدم رک گئے ۔ بھیڑ کے بیچ پلنگ بچھا ہوا تھا ۔ اس پر چار پانچ عمر دراز لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کی آنکھیں بھی غصہ سے لال تھیں اور ان کی پلنگ کے پاس بے سدھ ایک عورت پڑی ہوئی تھی ۔ اس عورت کی حالت کو دیکھ کر سنیل پورے بدن سے کانپ گیا۔اس عورت کے سرکے بال آدھے تراشے ہوئے تھے۔ ہاتھ اور پائوں کے ناخن اجڑے ہوئے تھے۔ خون سے وہ لہولہان ہو رہی تھی اور ہڈی چمڑا جسم کو میلی چھتری ساڑی جس میں جگہ جگہ سے پیوند لگا ہوا تھا ۔ اپنے جسم کو چھپائی ہوئی تھی نہ پائوں میں چپل تھی ۔۔۔۔۔ گائوں والوں کے مارکی وجہ سے اس پر نیم بے ہوشی چھائی ہوئی تھی۔تبھی بھیڑ سے نکل کے ایک آدمی نے اس عورت کو اتنی زور سے پائوں سے دھکہ دیا کہ وہ سیدھا سنیل کے قدموں کے پاس آکر گڑی۔ یہ دیکھ کرسنیل کا دل مضطرب ہو گیا اوراسے اٹھاتے ہوئے گائوں والوں سے مخاطب ہو کر کہا۔
’’ایک کمزور اور لاغر عورت پر پورا گائوں ٹوٹ پڑا ہے یہ کہاں کی انسانیت ہے۔آپ لوگ اس بے چاری پر اتنا ظلم کیوں کر رہے ہیں، آخر اس کا قصورکیا ہے؟‘‘
’’ یہ کمزور ۔۔۔۔۔ اور لاغر عورت ہے شہری بابو۔۔۔۔۔ارے یہ ایک نمبر کی حرام جادی(زادی) عورت ہے ۔یہ ڈائن ہے حجور(حضور) ۔۔۔۔۔ ڈائن۔‘‘
سنیل نے چونک کر تعجب خیز نگاہوں سے بھیڑ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’ ڈائن۔۔۔۔۔!‘‘
’’ہاں شہری بابو۔۔۔۔۔ ای کلموہی کا سایہ جس انسان پر پڑتا ہے وہ برباد ہو جاتا ہے۔ آپ ای گائوں میں نئے آئے ہیں اس کی کالی سایہ سے بچ کر رہنا ۔‘‘
’’اسے اٹھا کر یہاں سے پھینک دو۔۔۔۔۔!!!‘‘
پلنگ پر بیٹھے بزرگوں نے اٹھتے ہوئے نفرت سے اس عورت کی طرف دیکھتے ہوئے دانت پیس کر کہا۔
’’ٹھہرو۔۔۔۔۔ اسے یہاں سے کوئی نہیں نکال سکتا۔۔۔۔۔‘‘
   ’’یہ تمہاری کیا لگتی ہے شہری بابو ۔۔۔۔۔ جو تمہیں اس پر اتنا دیا آرہا ہے۔۔۔۔۔ ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوا ہے ای گائو ں میں اور اس کلموہی سے رشتہ جوڑ لیا۔‘‘
’’آپ لوگ میرا اس عورت کے ساتھ رشتہ جاننا چاہتے ہیں۔‘‘سنیل نے غصہ سے گائوں والوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’ہاں شہری بابو جرا بتاوا (زرا بتائیں)تو۔۔۔۔۔ آپ کا اس کے ساتھ کا( کیا) رشتہ ہے ۔‘‘ بھیڑ میں موجود گائوں والوں نے ہم آواز میں کہا۔
’’اس عورت کے ساتھ میرا انسانیت کا رشتہ ہے،میں قانون کا رکھ والا ہوں۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔۔یہاں کا نیا ایس۔پی سنیل ورما۔‘‘
ایس۔پی۔سنیل ورما۔۔۔۔۔!‘‘گائوں والوں نے سنیل کو حیرت سے دیکھا ۔۔۔۔۔ تھوڑا جھجکے اور پھر سینہ تان کر اپنی مونچھے کھڑی کرتے ہوئے کہا۔
’’اس گائوں میں کتنے ایس۔پی آئے۔۔۔۔۔ اور گئے ۔۔۔۔۔ آپ بھی اپنا بوریا بستر باندھ لیں اور گائو ں کے معاملہ میں دخل اندازی نہ کریں۔۔۔۔۔ آپ کے لئے یہی بہتر ہوگا۔ اس گائوں میں کسے رہنا ہے۔۔۔۔۔ اور۔۔۔۔۔ کسے نہیں اس کا فیصلہ گائوں کی پنچایت کرے گی۔‘‘
’’آپ کی یہ پنچایت ۔۔۔۔۔ فیصلہ کرے گی ۔۔۔۔۔ جو عورت کی عزت کرنا نہیں جانتی۔‘‘ سنیل نے گائوں والوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
پنچایت کے بزرگ جو اپنا فیصلہ سنا کر جا رہے تھے ۔سنیل کی بات سنکر رک گئے اور دوبارہ پلنگ پر آکر بیٹھ گئے اور تھڑتھڑائے ہوئے دانت پیس کرکہا۔
’’ایس ۔پی ۔۔۔۔۔بابو ۔۔۔۔۔ پنچایت کا فیصلہ۔۔۔۔۔ بھگوان کا فیصلہ ہوتا ہے۔‘‘
’’اپنے غلط فیصلہ کو۔۔۔۔۔ آپ لوگ بھگوان کا فیصلہ کہہ رہے ہیں۔۔۔۔۔ کسی بھی عورت پر سر عام ظلم کرنا آپ لوگوں کی نظر میں بھگوان کا فیصلہ ہے۔آپ لوگوں پر ایف۔آئی ۔آر درج کروں گا ۔اس عورت کو ہوش میں آنے کا انتظار کیجئے۔۔۔۔۔اور پورا علاقہ پولس چھائونی میں تبدیل ہو گیا ۔سنیل نے اس عورت کو سہارا دے کر اٹھایا۔اس کے ہاتھ اور پائوں میں ضرب آیا تھا اور درد سے بے ہوشی کے عالم میں بھی کراہ رہی تھی۔ہسپتال گائوں سے کافی دور تھا اسے اٹھا کر اپنے کواٹر یہ سوچ کر لے آیاکہ سویتا تو خود ایک ڈاکٹر ہے اور اس وقت اس کا بہتر علاج کر سکتی ہے۔سویتا بھی اس عورت کی حالت کو دیکھ کر کانپ گئی۔اس نے اس کے زخم کی مرہم پٹی کی کچھ دیر کے بعد اسے ہوش آیا تو وہ درد کی شدت سے بیتاب ہو اٹھی اور پھر بے ہوش ہو گئی۔
’’میں کہتی تھی نا کہ اس گائوں کے لوگ ٹھیک نہیں ہیں دیکھئے ۔۔۔۔۔ ایک کمزور عورت پر سر عام کس طرح ظلم کیا ہے۔ گائوں والوں کو اسے اتنا مارنے کی کیا ضرورت تھی یہ ایسی ہڈی چمڑا ہو رہی ہے کہ صرف دھکہ دیتے تو یہ مر جاتی۔‘‘  اس کی حالت دیکھ کر سویتا سے برداشت نہیں ہوا اور بے اختیار سسک پڑی۔
’’سویتا !بھگوان سے پرارتھنا کرو کہ اسے کسی طرح ہوش آجائے۔‘‘سنیل نے کمرے کا فاصلہ طے کرتے ہوئے کہا۔
سنیل اور سویتا پوری رات اس کے ہوش میں آنے کا انتظار کرنے لگے۔صبح ہونے پر اس نے آہستہ آہستہ آنکھ کھولی ۔ ۔۔۔۔۔ لیکن ۔۔۔۔۔ خوف اب بھی اس کی آنکھوں میں جھلک رہا تھا۔اس نے کروٹ لینی چاہی لیکن درد کی شدت سے کراہ اٹھی۔ اسے ہوش میں دیکھ کر سویتا کا چہرہ خوشی سے چمک اٹھا۔
’’دیکھئے ۔۔۔۔۔ اسے ہوش آگیا۔۔۔۔۔‘‘
سنیل دوڑ کر اس کے پاس آیا اوراس سے کئی سوالات کرنے کو بیتاب ہو اٹھالیکن درد کی شدت سے اس نے دوبارہ آنکھ بند کر لی۔ سویتا نے محبت و شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
’’اب تمہاری طبیعت کیسی ہے۔۔۔۔۔‘‘سویتا کے منہ سے پیار کے دو میٹھے بول سنکر بے اختیار ہوکر سسک پڑی۔
’’ ڈرو نہیں۔۔۔۔۔تم یہاں پوری طرح حفاظت میں ہو۔‘‘میں ایک پولس آفیسر ہوں ۔تم مجھے اپنی پوری باتیں بتائو ۔۔۔۔۔  گائوں والوں نے تمہیں اتنی بے رحمی سے کیوں پیٹا ۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔وہ لوگ تمہیں ڈائن کیوں کہہ رہے تھے۔۔۔۔؟‘‘گائوں والوں کے خلاف ایف۔آئی۔آر درج کروں گا اور ان گنہگاروں کو سزا دلائوں گا جس نے تمہاری یہ حالت کی ہے۔
’’بابو جی۔۔۔۔۔ میں ڈائن نہیں ہوں۔۔۔۔۔!گائوں کے لوگ ہمرے اوپر غلط الجام(الزام)لگا رہے ہیں۔‘‘اس نے سرد آہ بھرتے ہوئے کہا۔لیکن کمزور ی کی وجہ کروہ اپنی بات صحیح سے نہیں کہہ پا رہی تھی۔۔۔۔۔ بولتے بولتے بیچ میں رک جاتی ۔۔۔۔۔ اورپھر۔۔۔۔۔ آہستہ آہستہ رک کر اپنی داستان سنانے لگی۔
بابو جی ہمار نام جگنی ہے،سادی(شادی) سے پہلے میں بہت ہی سندر تھی۔‘‘
سنیل اور سویتا نے ایک نظر اس پر ڈالی سچ جگنی ہڈی چمڑا ہونے کے باوجود اس کی آنکھوں میں اب بھی قدرتی زیبائش تھی۔
’’بابو جی۔۔۔۔۔میم صاحب۔۔۔۔۔ ‘‘ جگنی آہستہ سے بول کر بیچ میں خاموش ہو جاتی۔
’’ہاں۔۔۔۔۔‘‘ سنیل اور سویتا نے چونکتے ہوئے کہا۔
’’بابو جی دوسری لڑکیوں کی طرح میرے بھی سپنے تھے ۔۔۔۔۔آسمان میں اڑتے ہوئے پنچھی کو دیکھتی تھی تو ان کے ساتھ اڑ کر نیل گگن کے اس پار جانا چاہتی تھی۔۔۔۔۔لیکن۔۔۔۔بولتے بولتے  پھروہ خاموش ہو گئی۔
’’لیکن کیا۔۔۔۔۔؟‘‘سویتا نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا۔
’’اس گائوں میں لڑکیوںکو کھواب(خواب) دیکھنے کی اجازت نہیں ہے۔‘‘جگنی نے سسکتے ہوئے کہا۔جگنی کی آنکھ سے آنسو ٹپک کر سویتا کے ہاتھ پر گرنے لگے۔
’’کیوں۔۔۔۔۔؟‘‘اس گائوں کی لڑکیاں خواب کیوں نہیں دیکھ سکتی ۔۔۔۔خواب دیکھنے پر کسی نے بندش لگائی ہے۔سویتا نے جگنی کے آنسو اپنی انگلیوں سے صاف کرتے ہوئے کہا۔
’’میم صاب(صاحب)آپ شہرکی رہنے والی ہیں ۔۔۔۔۔آپ کیا جانے اس گائوں کے لوگوں کے اتیچار کے بارے میں ۔۔۔۔۔ اس گائوں میںلڑکیوں کو بارہ سال کے بعد گھر میں رکھنے کا رواج نہیں ہے۔۔۔۔۔ جب میں گیارہ سال کی ہوئی تو میری شادی اس گائوں کے برجو پاسوان کے ساتھ کر دی گئی۔۔۔۔۔برجو عمر میں مجھ سے دوگنا بڑا تھا۔گائوں والوں کا کہنا ہے کہ لڑکا لڑکی کی شادی کم عمر میں ہو جاتی ہے ۔۔۔۔۔اگرلڑکی مر گئی تو لڑکے کی شادی دوبارہ کم عمر کی لڑکی کے سے کرا دیتے ہیں۔‘‘ جگنی نے ایک تلخ مسکرہٹ لب پر لاتے ہوئے کہا۔
’’اگر لڑکا مر گیا تو ۔۔۔۔۔اس گائوں کے لوگ لڑکی کی شادی بھی دوبارہ کم عمر کے لڑکے کے ساتھ کرا دیتے ہوں گے۔‘‘سویتا نے جگنی کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
کبھی نہیںمیم صاب(صاحب)۔۔۔۔۔کبھی نہیں۔۔۔۔۔ بلکہ پتی کی مرتو (انتقال) کے بعد سسرال کے لوگ لڑکی پر جلم(ظلم) کرنا شروع کر دیتے ہیں۔۔۔۔۔ یہاں تک کے لڑکی کے میکہ سے بھی کوئی پوچھنے نہیں آتا ہے کہ ان کی لڑکی سسرال میں کس مصیبت میں ہے۔میکے والوں کا کہنا ہے کہ سادی (شادی)کے بعد سسرال میں لڑکی پر کتنی بھی مصیبت کاہے(کیوں) نہ آجائے اس سے میکے والوں کو کوئی لینا دینا نہیں۔‘‘جگنی نے آہ بھرتے ہوئے کہا اور دوبارہ اٹھنے کی کوشش کی لیکن درد کی وجہ کر وہ بیٹھ نہیں پائی اورلیٹ گئی اور بے شمار آنسو اس کی آنکھوں سے گرنے لگے۔گائوں والوں کی سنگدلی سنکر سنیل اور سویتا تڑپ اٹھے۔
’’بابو جی ۔۔۔۔۔!جب میں وداع ہو کر برجو پاسوان کے ساتھ اس کے گھر آئی تو اسی روز برجو کے پیٹ میں تیز درد اٹھا اور وہ مر گیا۔۔۔۔ برجو کے دیہانت کے بعد سسرال کے لوگ مجھ پر الجام(الزام) لگانے لگے کہ ہم ہی (میں نے ہی)اپنے پتی کو کھا گئی۔۔۔۔۔ جبکہ بابو جی برجو شروع سے سراب(شراب) کھوب(خوب) پیتا تھا اور اس کا دونوں گردا کھراب(خراب) تھا۔‘‘جگنی بولتے بولتے بے تحاشہ سر پیٹ پیٹ کر رونے لگی ۔سنیل اور سویتا خاموش نگاہوں سے جگنی کو دیکھتے رہے وہ آہستہ آہستہ اپنی بات پھر بتا نے لگی ۔
’’ساوتری یمراج سے۔۔۔۔۔جب اپنے پتی کا پران ۔۔۔۔۔ واپس لا سکتی ہے تو کوئی بھی عورت اپنے سہاگ کو کیسے کھا سکتی ہے۔برجو کے دہانت کے بعد سسرال والوں نے اتنی تکلیف دی کہ میں پاگل ہو جائوں ۔سسرال میں جس کوٹھری میں رہتی تھی ،اس پربھی میرے دیور،جیٹھ کی نظر تھی ان لوگوں نے کئی بار مجھ سے کوٹھری خالی کرنے کے لئے کہا، جب خالی نہیں کیا تو انہوں نے مجھے زبردستی ہاتھ پکڑ کر نکال دیااور مجھے مارا پیٹا ۔۔۔۔۔  دیوراورجیٹھ کی شئے پر بھری پنچایت میں گائوں والوں نے میرے سر کے بال کاٹ دئے،یہاں تک کے پنچایت کے لوگوں نے مجھے میلا(غلاظت) پلایا۔۔۔۔۔ بابو جی ۔۔۔۔۔ گائوں میں جس کی بھی طبیعت کھراب( خراب) ہوتی ہے سب لوگ مجھ پر ہے الجام(الزام) لگاتے ہیں کہ میں نے انہیں جادو کر دیا ہے۔بابو جی اس گائوں میں جب بھی کوئی عورت اپناحق مانگتی ہے تو اس کی یہ حالت کر دی جاتی ہے۔
جگنی کی درد بھری اور دل کو دہلادینے والی داستان سنکر سنیل اور سویتا ساکت ہو گئے ۔وہ دونوں بے حس حرکت ایک جگہ بیٹھے رہے۔دونوں کی آنکھوں میں زمین و آسمان تاریک ہو گئے۔ سنیل آہستہ آہستہ چلتا ہوا کھڑکی کے پاس آکر کھڑا ہو گیا اور باہر دیکھنے لگا۔ رات کی چادر آہستہ آہستہ پائوں پھیلا رہی تھی ۔آسمان پر بے شمار ستارے جھلملا رہے تھے اور اس پس منظر میں سب کچھ سیاہ دیکھائی پر رہا تھا اوروہ سوچ رہا تھا کہ آج ہم لوگ ایکسوی صدی میں پرویش کر چکے ہیں ۔عورتیں ہر فلڈ میں مردوں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل رہی ہے ۔۔۔۔۔ لیکن ۔۔۔۔۔ گائوں میں عورتوں کی حالت آج بھی بد سے بدتر ہے ۔انہیں خواب دیکھنے تک کی اجازت نہیں ۔۔۔۔۔ آج بھی گائوں کے لوگ اندھ وشواس میں جی رہے ہیں۔
گائوں کے اس حالت کے ذمہ دار ہم سبھی لوگ ہیں ۔جو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد گائوں کی بجائے بڑے بڑے شہروں اور ملکوں کی طرف ترقی کرنے کے لئے اپنا رخ کر لیتے ہیں۔ اگر اعلیٰ تعلیم یافتہ لو گ تعلیم حاصل کرنے کے بعد گائوں کی طرف رخ کرتے تو گائوں میں بھی عورتوں کی حالت اتنی خراب نہ ہوتی اور لوگ اند ھ وشواس میں نہ جیتے۔سنیل نے  پلٹ کربے تاب نگاہوں سے سویتا کی طرف دیکھا جو بیڈ پر سے کپڑے اٹھا کر الماری میں رکھ رہی تھی۔۔۔۔۔ اور سنیل کے پاس آکر آہستہ سے بولی۔
’’میں بھگوان سے پراتھنا کروں گی کہ اس گائوں سے آپ کا ٹرانسفر تب تک نہ ہو جب تک اس گائوں کے لوگوں کی سوچ نہ بدل جائے ۔اس گائوں کے گراف کو سدھارنے میں ،میںبھی آپ کے ساتھ کھڑی ہوں۔میں یہاں ایک ہسپتال کھولوں گی اور اس گائوں میں ایک نئی جیوت جلائوں گی۔۔۔۔۔ شاید میری اس جیوت سے گائوں کی عورتوں کی حالت سدھر جائے۔‘‘
سویتا کا فیصلہ سنکر سنیل کے ہونٹوں کے کنارے پر ہلکی سی مسکراہٹ دوڑ گئی اور سویتا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا۔
’’ہم دونوں ملکر ۔۔۔۔۔ اس گائوں کی عورتوں کی حالت ، کم عمر کی شادی اور گائوں میں پھیلے ہوئے اندھوشوکو دور کریں گے ۔۔۔۔۔سویتا آج تم نے ثابت کر دیا کہ تم ایک پولس آفیسر کی پتنی ہو۔۔۔۔۔ تمہارے اس فیصلہ کے لئے میں تمہیں سیلوٹ کرتا ہوں۔‘‘ ان کا فیصلہ سنکر جگنی کے چہرے پر گوتمی مسکراہٹ پھیل گئی۔
  
رابطہ۔9973889970
RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular