اطہر حسین

ادب اور سماج کا بہت گہرا رشتہ ہے ۔یہ ہمیشہ سے سماج کا ترجمان رہا ہے۔ناقدین فن کا یہ بھی خیال ہے کہ شعوری، غیر شعوری طور پر ادب زندگی کی حقیقتوں کا ترجمان ہوتا ہے کیونکہ کہ ادیب وتخلیق کار معاشرے ہی کا ایک حصہ ہیں۔ وہ معاشرے میں پلتا بڑھتا ہے اوریہاں ہونے والے واقعات وحادثات سے متأثر ہوتا ہے اور پھر اسی کو تخلیق کی شکل میں لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے ۔ ادیب جس دور میں سانس لے رہا ہے اس سے واقفیت کے لئے تاریخی حسّّیت بھی ضروری ہے۔کسی ادب پارے میں عصری آگہی دیکھنے کا مطلب ہے کہ اس میں سماج اور معاشرے کے مختلف پہلؤوں کا جائزہ لیا جائے اور ماضی سے ان کی وابستگی کو اجاگر کیا جائے۔ مشتاق احمد یو سفی بنیادی طور پر طنزومزاح نگار ہیں۔وہ اس پیرائے میں بہت کچھ کہہ جاتے ہیں ۔ان کی تحروروں میں سماجی شعور اور عصری آگہی کی غیر معمولی کار فرمائی ہے ۔پروفیسر صدیق الرحمن اسی پس منظر میں لکھتے ہیں کہ:
’’ادیب یا فنکار اپنے معاشرے میں رہ کر اس سے متأثر ہوتا رہتا ہے۔معاشرے کے حالات کے بارے میں اس کے ذہن میں کچھ سوالات پیدا ہوتے ہیں جب ادیب ان سوالات کے جوابات دینے کی کوشش کرتا ہے یا حالات سے نبردآزما ہونے کے لئے وہ کوئی لائحہ عمل تیار کرتا ہے تو وہ خود بخود کسی نظریہ یا نظام فکر سے وابستہ ہوجاتا ہے۔اگر وہ کسی نظرئے سے وابستہ نہیں ہونا چاہتا تو بھی کسی نہ کسیطرف جھکتا ضرور ہے۔یہ جھکاؤ ایک سے زیادہ بھی نظریوں کی طرف بھی ہوسکتا ہے۔ایک بات یاد رکھنے کی ہے کہ جہاں وابستگی ہے وہاں ایک طرح کی حدود ہے اور جہاں محض جھکاؤ ہے وہاں محدودیت نہیں ہے بلکہ تلاش وجستجو ہے اور ایسے ادیب و فنکار خود کو فارمولے والے معیار کی حدود سے آزاد رکھتے ہیں ۔‘‘ (پروفسر صدیق احمد قدوائی،تأثراتی تنقید صفحہ ۱۴۵)
پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی کے اس اقتباس سے واضح ہوتا ہے کہ ادب اور سماج لازم ملزوم ہیں یعنی کسی تخلیق کے وجود میں آنے کے لیے ان دونوں کا اشتراک ضروری ہے۔یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ ادیب اسی سماج کا ایک حصہ ہے اور وہ اپنی تخلیقات میں وہی سب بیان کرتا ہے جس کا وہ شب و روزسماج و معاشرے میں رہ کر مشاہدہ کرتا ہے۔عصری مسائل پر مشتاق احمد یوسفی نے اپنے مخصوص انداز سے روشنی ڈالی ہے۔چراغ تلے اور خاکم بدہن میں عصری آگہی کا فقدان نظر آتا ہے تا ہم آب گم میں اس کی مثالیں کثرت سے ملتی ہیں اور شام شعر یاراں میں ایک باخبر میڈیا کی طرح یوسفی نظر آتے ہیں ۔مختلف انواع میں پیش آنے والے واقعات و حادثات اور معاشرے میں پل رہی خرابیوں پر گرفت کرنے کے ساتھ ساتھ ہمعصر ادیبوں کی خامیوں اور کمیوں کو بے نقاب کیا ہے جس سے ان کی عقابی نظروں کا سراغ ملتا ہے۔خودمشتاق احمد یوسفی ادب میں عصری حسیت کی افادیت پر روز دیتے ہیں۔وہ لکھتے ہیں کہ:
’’ کوئی لکھنے والا اپنے لوگوں ہم عصر ادیبوں ملکی ماحول ومسائل لوک روایت اور کلچر سے کٹ کر کوئی زندہ اور تجربے کی دہکتہ کٹھالی سے نکلا ہوا فن پارہ تحریر نہیں کر سکتا۔‘‘ (یوسفی آ ب گم صفحہ ۱۸ مکتبہ دانیال کراچی،۱۹۹۰)
’’شام شعر یاراں‘‘ میں عصری آگہی کا جائزہ بہت اہمیت کا حامل ہے کیوں کہ یہ ایک طنزیہ و مزاحیہ تخلیق ہے۔طنز ومزاح کی بنیاد ہی عصری آگہی پر ہوتی ہے۔طنزومزاح نگار اپنے وقت کے حالات اور حقیقتوں سے بخوبی واقف ہوتا ہے اور معاشرے کی ناہمواریوں اور خرابیوں پر ہنستا ہے اور نشتر کاری کرتا ہے۔عصری آگہی ہر طنزومزاح نگارکا تقاضا ہوتا ہے۔ شام شعر یاراں میں مشتاق احمد یوسفی کا کسی مخصوص نظرئے یا رویّے سے وابستگی کا پتہ نہیں چلتا ان کا میلان مختلف نظریات کی طرف ہے انہوں نے خود کو کسی خاص نظریے کے شکنجے میں کسنے کی کوشش نہیں کی ہے جہاں بھی خامیاں نظر آئی ہیں اس پر طنز کسنے سے باز نہیں آئے ہیں۔ اسی وجہ سے کسی نظریاتی وابستگی کے بغیر ہی اس میں وسعت پیدا ہوگئی ہے۔شام شعر یاراں میں یوسفی نے ادب اور فنون لطیفہ کے ساتھ ساتھ سیاست،سماج ومعاشرہ،تہذیب وتمدن اور معاشرے کی ناہمواریوں کا احاطہ کیا ہے۔
مشتاق احمد یوسفی نقاد نہیںہیں مگر شام شعر یاراں جہاں انہوں نے شخصیات،نظریات،سماج ومعاشرت اورسیاست پر طنز کیا ہے وہیں اردو ادب کی مختلف اصناف میںکمیاں یا خامیاں ہیں اس پر بھی طنز کیا ہے۔جس کے مطالعہ سے یوسفی کے تنقیدی شعور اور شغف کا اندازہ ہوتا ہے ۔مشتاق احمد یوسفی نے ایسی تکنیک اختیار کی ہے جس سے مختلف خیالات کو کسی قدر آزادی سے پیش کرنے کی گنجائش پیدا ہوگئی ہے۔شام شعر یاراں سے یہاں چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں ۔
یوسفی کا غزل کے متعلق محرف شدہ مصرعہ دیکھئے:
’’ غزل کھا گئی نوجواں کیسے کیسے‘‘ ( یوسفی،شام شعر یاراں ،ص۱۵۶)
مشتاق احمد یوسفی مزید غزل کے بارے طنز کرتے ہوئے مزیدلکھتے ہیں کہ:
’’ غزل میں اوسط درجہ کا اچھا شعر کہنا اتنا آسان ہے کہ سچ مچ خراب شعر کہنے کے لئے ما فوق البشری نالائقی کی ضرورت ہے۔لیکن اعلی شعر کہنا اتنا ہی دشوار ہے دراصل غزل کے دو ترشے ترشائے مصرعوں میں پوری بات کہنی ہوتی ہے۔‘‘ ( یوسفی،شام شعر یاراں ،ص۱۵۶)
اس اقتباس سے غزل کے فن کی دشواریوں کا علم ہوتا ہے ۔مذکورہ مصرعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ غزل گوئی ایسا فن ہے کہ ایک بار جب شاعر اس کی طرف راغب ہوجاتا ہے تو پھر اس سے منحرف ہوکر نثر کی طرف رخ کرنا دشوار ہے ۔اس مصرعہ کے بین انہوں نے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ بہت اعلی صلاحتیں غزل کہنے کے لیے نذر ہوئیں۔ شام شعر یاراں میںجہاں انہوں نے ادبی پہلو پر گفتگو کی ہے وہیں دیگر فنون لطیفہ پر بھی قلم اٹھایا ہے ۔اس میں مصوری،موسیقی اورتھیٹروں کا وغیرہ بھی ذکر ملتا ہے نیز اجنتا اور ایلورا کے مجسموں کو یوسفی کے قلم نے ایک زندہ پیکر کی صورت میں ڈھال دیا ہے ۔یہ مجسمے تو پہلے ہی سے قابل دید تھے مگر یوسفی کے قلم نے ان کو ایک نئی دنیا میں پہونچا دیا ہے۔مصوری کے متعلق شام شعر یاراں کے دلچسپ مضمون’’ پلکوں سے پینٹ کرنے والا مصور‘‘ میں بڑے صبر ریاض ارو ردیدہ ریزی کا طالب مصوری کے فن کے متعلق شاہد رسام کے حوالے سے لکھتے ہیں اقتباس ملاحظہ ہو:
’’ شاہد رسّام کی تصویریں دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ وہ برش سے تصویر نہیں بناتے اپنی پلکوں سے پینٹ کرتے ہیں ۔ایک مربع انچ میں سیکڑوں لکیروں کے حساب بڑے کینوس پر خدوخال نمایاں کرنا ایسا ہی ہے جیسے اون کے بجائے سوئی میں استعمال ہونے والے دھاگے سے قالین بننے کی کوشش کریں انتہائی مہین خطوط سے خال بہ خال مژہ بہ مژہ موبہ مو چہرہ بہ چہرہ جو تصویریں یہ بناتے ہیں انہیں دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ ہر چہرہ دست دعا کی رحل پررکھ کے تصویر بنائی ہے۔‘‘ ( یوسفی،شام شعر یاراں ،ص۳۶۴)
اس اقتباس سے فن مصوری کی دشواریوں کا اندازہ ہوتا ہے کہ ایک فطری تخلیق کی نقل کرنا کس قدر دشوار ہے۔ایک محدود دائرے میں رہ کر مصور کس قدر باریک بینی سے ایک اصل شی کی نقل کرتا ہے اور اس کو کمال فن سے نقل کرتا ہے کہ ایک ہنستا بولتا چہرہ ناظرین کے سامنے آجاتا ہے۔ کبھی کبھی نقل اصل سے بھی دلکش معلوم ہوتی ہے اس کی سب سے بڑی مثال پکاسو کی شہرت اور اس کی تصویر کشی سے لگایا جاسکتا ہے۔آج ہر انسان کی زندگی کا کوئی نہ کوئی پہلو سیاسی حالات سے منسلک ہے کسی نہ کسی سطح پر ہر شخص آج سیاست سے متأثر ہورہا ہے۔ایسے ممالک جہاں سیاسی ادارے جمہوری اصولوں پر مبنی ہوں وہاں یہ بات اور زیادہ صادق آتی ہے لہذا ہندوستان اور پاکستان کے ادب میں سیاست کا در آنا ایک ناگزیر بات ہے۔ اس کے علاوہ اس دور میں انسان کی ادبی ،سماجی ،سیاسی اور معاشی زندگی اس طرح آپس میں مربوط ہے کہ کسی ایک پہلو پربات کرتے وقت دوسرے سے اس کا رشتہ از خود استوار ہوجاتا ہے ۔شام شعر یاراں میں مشتاق احمد یوسفی نے چونکہ زندگی کے گونا گوں پہلؤوں پر طنز کیا ہے لہذا سیاست بھی اس کے دائرے سے باہر نہیں ہے اگر غور کیا جائے تو معاشرے کی ناہمواریوں اور اس کے ظلم و جبر کا تعلق سیاسی حالات ہے۔
مشتاق احمد یوسفی چونکہ ایک مہاجر تھے۔ آزادی کے بعد جن لوگوں نے پاکستان کا انتخاب کیا تھا وہ فیصلہ محض ان کی خوش گمانی کا تھا ۔وہاں پہونچ کر جن حالات کا سامنا ان لوگوں نے کیاشاید یہ اسی کا اثر تھا کہ بیشتر مہاجر ادیب اپنے ماضی کے نہاں خانوں سے نہیں نکل سکے ۔یوسفی کا تعلق دو ایسے ملکوں سے رہا جو اپنی سیاست کی بنا پر عالمی سطح پر جانے جاتے ہیں ۔ان کی پانچویں تخلیق شام شعر یاراں کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا کہ انہیں سیاسی بصیرت حاصل ہے ۔سیاست دانوں کا وعدہ کرنا اور اپنے وعدے سے مکر جانا ان کی فطرت میں
داخل ہے اس بات سے ہر کوئی واقف ہے ۔
آئے دن حکومتیں الیکشن سے قبل بڑے بڑے وعدے کرتی ہیں اور پھر اپنے وعدے سے مکر جاتی ہیں اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یوسفی لکھتے ہیں :
’’ صاحبو ،ہر حکومت کی مدت ختم ہوتے ہوتے وعدے پر جینے والوں کی حالت بھی کچھ ایسی ہی ہوجاتی ہے کہ دراصل الیکشن کے عہد وپیماں اور وعدے وعید ،رات گئی بات گئی کے ذیل میں آتے ہیں۔خروشیف نے غلط نہیں کہا تھا کی سیاست داں کسی بھی ملک کے ہوں ان کا طریقئہ واردات یکساں ہوتا ہے وہ اس جگہ بھی پل بنانے کا وعدہ کرتے ہیں جہاں کوئی ندی نالا نہیں ہوتا۔بعض لیڈروں اورامیدواروں کی تقریریں اور خطبات تو اس لائق تھے کہ انہیں جوں کا توں مزاحیہ کالموں کی جگہ چھاپ دیا جاتا ۔‘‘ ( یوسفی،شام شعر یاراں ،ص۲۳۸)
سیا سی لیڈران مظلوم عوام سے اچھے دن کاوعدہ کرتے ہیں، جس کے سبب عوام ان کی جے جے کار کرتی ہے۔ گلے پھاڑ پھاڑ کر ان کے حق میں نعرے بلند کرتی ہے۔اور اپنے قیمتی ووٹوں سے ان کو منصب پر بیٹھاتے ہیں پھر جب وہی سیاست داں ان کے اچھے دن کو برے دن میں تبدیل کر دیتے ہیں تو ان کے ساتھ کیا رویّہ ہوتا ہے اسی نفسیاتی کشمکش کو یوسفی نے ایک ماسٹر کی زبان کس طرح ادا کیا ہے ملاحظہ ہو:
’’ماسٹر جلال الدین ناطق چاکسوی سابق اسسٹنٹ ہیڈ ماسٹر ،پرائمری اسکول ،بہار کالونی اکثر کہتے ہیں کہ جس حکومت کو بھی مائی باپ قسم کی حکومت سمجھ کرلوگوں نے توبہ تلاّ کرتے اور باپ رے باپ کہتے ہوئے دفان ! آئندہ کو کان پکڑے چناں چہ اب یہ حال ہے کہ نئی حکومت بننے ،حلف اٹھانے اور جیوے،جیوے کا غلغلہ بلند ہونے سے پہلے ہی جاوے ہی جاوے جاوے ہی جاوے ! کے نعرے لگنے لگتے ہیں ۔‘‘ ( یوسفی،شام شعر یاراں ،ص۳۱۳)
اس اقتباس سے نفسیاتی طور پر اس بات کا انکشاف ہوتا ہے کہ ہر سیاست داں فطرتاً یکساں ہوتا ہے وہ صرف اور صرف اپنے مفاد کے لئے مظلوم عوام کا استعمال کرتا ہے اور جھوٹے وعدوں کے سہارے ان کے ووٹ حاصل کرتا ہے اور منصب صدارت حاصل کر لینے کے بعد ان تمام وعدوں کو بھول جاتا ہے جس کی بدولت اس مقام پر ہے۔اس اقتباس سے اس بات کا بھی اندازہ ہوتا کہ بار بار دھوکہ کھانے کے باوجود عوام کیوں اس کا شکار ہوتی ہے۔آج سیاست ایک مذاق بن چکی ہے۔ عوام کو بری طرح سے استعما ل کیا جا رہا ہے۔۔جیسا کہ پہلے ذکر کیا جاچکا ہے کہ اردو ادب کا ہر طالب علم اس بات سے واقف ہے کہ ادیب ہمارے ہی سماج کا ایک فرد ہوتا ہے وہ جو کچھ دیکھتا ہے ،محسوس کرتا ہے اس کو کاغذ پر ڈھال دیتا ہے۔ادیب ایک طرح سے سماجی کارکن ہوتا ہے سماج اور اپنے گرد وپیش ہونے والے واقعات پر طنزیہ ومزاح کے ذریعہ معاشرے کی اصلاح کی کوشش کرتا ہے۔مشتاق احمد یوسفی نے بہت سارے ملکوں کاسفر کیا ملازمت کے سلسلے میں لندن میں گیارہ سال رہے جس کی وجہ سے انہیں وہاں کی معاشرت کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ۔وہ صرف معاشرے میں رہ کر ہی نہیں انہوں نے دیگر علوم اور ان کے معاشروں کا بھی گہرائی سے مطالعہ کیا ہے اور اس سے متأثر بھی ہوتے رہے ہیں جس کے اثرات ان کیان کی تحریروں میں واضح ہیں ۔شام شعر یاراں میں وہ ہند وپاک کے سماج اور برطانوی سماج کا موازنہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
’’ہم روز انہ لسانی گروہی اورصوبائی چپقلس اور تصادم کی خبریں ،حادثات اور قابل علاج بیماریوں میں انسانی جانوں کے اتلاف کی رپوٹیں پڑھتے ہیں اور اسے مقدرات کا حصّہ اور روز مرہ کا معمول سمجھ کر اخبار اور اپنے ذہن کا ورق پلٹ کر اسپورٹس اور اسٹاک مارکیٹ کی خبریں پڑھنے لگتے ہیں ۔ہم بہت مصروف ہیں ہمارے پاس اداس رہنے اور سوگ منانے کے لئے وقت نہیں ہے۔تیرا لٹگ یا شہر بھبنور سے بے خبر ہیں ! ایک زندہ،ذمہ دار اور مہذب معاشرے کی یہ پہچان ہے کہ اگر وہ کسی کے دکھ درد کا مداوا نہیں کر سکتا تو اس میں شریک ہوجاتا ہے۔‘‘ ( یوسفی،شام شعر یاراں ،ص۴۷)
یہ اقتباس حقیقت پر مبنی ہے کہ آج انسان اس قدر نے ضمیر اور بے حس ہوگیا ہے کہ وہ صرف اور صرف اپنے بارے میں سوچتا ہے۔بڑے بڑے حادثات پر بھی اس کا ضمیر اس کو نہیں جھنجھوڑتا بلکہ اس کو عام سی بات سمجھ کر آگے نگل جاتا ہے۔وہ بھی ایک زمانہ تھا جب ایک شخص کی وفات پر پورا سماج متاثر ہوتا تھا۔اب یہ ساری چیزیں معمول کا حصہ بنتی جارہی ہیں ۔یوسفی اور اس جیسے دیگر فنکاروں کی تشویش یہی ہیکہ معاشرہ عصری آگہی کے توسط سے اب ان اقدار سے خالی ہوتا جارہا ہیجسے ہم انسانیت سے تعبیر کرتے ہیں ۔
مشتاق احمد یوسفی صرف لندن وبرطانیہ اور اعلی طبقہ ہی کی بات نہیں کرتے ان کی تصانیف میں غریب اور دلت طبقے کی بات جگہ جگہ نظرآتی ہے۔ہمارے ملک وسماج میں غریب و دلت طبقے کے لوگوں کے کیا حالات ہیں اس سے تو ہر کوئی اچھی طرح واقف ہے۔آج کا انسان اس قدر بے حس ہو چکا ہے کہ غریبوں کو اپنے قبرستان میں مدفون ہونے کی بھی جگہ نہیں دیتا جس پر یوسفی طنز کرتے ہوئے ایک ماہی گیر کے احوال بیان کرتے ہیں :
’’ چلنے لگے تو ابراہیم بولا: کوٹھ کے لوگ کہتے ہیں میں اسّی سے اوپر کا ہوں سب کچھ دیکھابھالا،بھگا،بھگتابس ایک ہی فکر ستاتی ہے اگر آپ کی کسی وزیر یا ممبر اسمبلی تک پہونچ ہو تو ہماری طرف سے ہاتھ جوڑ کے اس سے عرض کریں کہ ہمارے کوٹھ کے لئے قبرستان کابندوبست کریں ۔شہر والوں کے قبرستانوں میں ہمارے جنازے کو گھسنے نہیں دیتے ہم اپنی میّت کو ایک قبرستان سے دوسری قبرستان دوسری سے تیسری ،چوتھے کاندھوں پر اٹھائے اٹھائے بے عزتی کراتے پھرتے ہیں دن بھر سخت دھوپ میں
پڑے رہنے کے بعد ہماری میّت سے خوشبو تو آنے سے ہی رہی مرد کی مٹّی خراب ہوتی ہے ماحول الگ خراب ہوتا ہے۔سائیں ،کچھ کرو۔رات کو فکر سے نیند نہیں آتی۔اسّی سے اوپر ہوں۔‘‘ ( یوسفی،شام شعر یاراں ،ص۲۴۷)
آخر میں شام شعر یاراں میں عصری آگہی سے متفق ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ یہ بہت ہی گہری بصیرت پر مبنی ہے۔یوسفی اس دور کے سیاسی ،سماجی،معاشی اورادبی وغیرہ معاملات سے نہ صرف گہری واقفیت ہے بلکہ اسباب و علل پر بھی ان کی گہری نظر ہے۔انہوں نے شام شعر یاراں میں زندگی کے مختلف مسائل کو ایک مربوط انداز میں اور وحدت کے روپ میں پیش کیا ہے۔آج کے حالات کا ماضی اور مستقبل سے تعلق کا بھی یوسفی کو احساس وادراک ہے۔مسلسل اور مستقل طور پر ہونے والی تبدیلیاں بھی ان کی نظروں میں اجاگر ہیں معاشرے کی نئی اور پرانی قدروں سے انہیں واقفیت ہے۔شام شعر یاراں میں ہمیں زندگی کی گونا گوں اور تضاد کو قبول کرکے اسے سہنے کے لائق اور طنز ومزاح کے ذریعے زندگی کو زیادہ گوارا اور خوشگور بنانے کا ایک مشن نظر آتا ہے۔
مشتاق احمد یوسفی بنیادی طور پر طنز ومزاح نگار ہیں ۔وہ کوئی مبلغ یا سیاسی وسماجی رہنما نہیں مگر جیسا کہ ابتدا ہی میں لکھا جاچکا ہے کہ ایک فنکار اپنے عہد اور سماج سے بیگانہ نہیں رہ سکتا۔یوسفی کی ان تحریروں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انہیں اپنے سماج سے گہری وابستگی ہے اور جو کچھ دیکھتے ہیں اسے اپنے طنز کا حصہ بنا دیتے ہیں ۔شام شعر یاراں میں یوسفی کی طنزومزاح نگاری کے ساتھ ساتھ عصری آگہی کی بھی ایک کتاب ہے جس سے یوسفی کے سماجی شعور کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔شام شعر یاراں طنز ومزاح کے ساتھ ساتھ عصری آگہی ایک تاریخ بھی نظر آتی ہے۔
’’ صاحبو ،ہر حکومت کی مدت ختم ہوتے ہوتے وعدے پر جینے والوں کی حالت بھی کچھ ایسی ہی ہوجاتی ہے کہ دراصل الیکشن کے عہد وپیماں اور وعدے وعید ،رات گئی بات گئی کے ذیل میں آتے ہیں۔خروشیف نے غلط نہیں کہا تھا کی سیاست داں کسی بھی ملک کے ہوں ان کا طریقئہ واردات یکساں ہوتا ہے وہ اس جگہ بھی پل بنانے کا وعدہ کرتے ہیں جہاں کوئی ندی نالا نہیں ہوتا۔بعض لیڈروں اورامیدواروں کی تقریریں اور خطبات تو اس لائق تھے کہ انہیں جوں کا توں مزاحیہ کالموں کی جگہ چھاپ دیا جاتا ۔‘‘ ( یوسفی،شام شعر یاراں ،ص۲۳۸)
سیا سی لیڈران مظلوم عوام سے اچھے دن کاوعدہ کرتے ہیں، جس کے سبب عوام ان کی جے جے کار کرتی ہے۔ گلے پھاڑ پھاڑ کر ان کے حق میں نعرے بلند کرتی ہے۔اور اپنے قیمتی ووٹوں سے ان کو منصب پر بیٹھاتے ہیں پھر جب وہی سیاست داں ان کے اچھے دن کو برے دن میں تبدیل کر دیتے ہیں تو ان کے ساتھ کیا رویّہ ہوتا ہے اسی نفسیاتی کشمکش کو یوسفی نے ایک ماسٹر کی زبان کس طرح ادا کیا ہے ملاحظہ ہو:
’’ماسٹر جلال الدین ناطق چاکسوی سابق اسسٹنٹ ہیڈ ماسٹر ،پرائمری اسکول ،بہار کالونی اکثر کہتے ہیں کہ جس حکومت کو بھی مائی باپ قسم کی حکومت سمجھ کرلوگوں نے توبہ تلاّ کرتے اور باپ رے باپ کہتے ہوئے دفان ! آئندہ کو کان پکڑے چناں چہ اب یہ حال ہے کہ نئی حکومت بننے ،حلف اٹھانے اور جیوے،جیوے کا غلغلہ بلند ہونے سے پہلے ہی جاوے ہی جاوے جاوے ہی جاوے ! کے نعرے لگنے لگتے ہیں ۔‘‘ ( یوسفی،شام شعر یاراں ،ص۳۱۳)
اس اقتباس سے نفسیاتی طور پر اس بات کا انکشاف ہوتا ہے کہ ہر سیاست داں فطرتاً یکساں ہوتا ہے وہ صرف اور صرف اپنے مفاد کے لئے مظلوم عوام کا استعمال کرتا ہے اور جھوٹے وعدوں کے سہارے ان کے ووٹ حاصل کرتا ہے اور منصب صدارت حاصل کر لینے کے بعد ان تمام وعدوں کو بھول جاتا ہے جس کی بدولت اس مقام پر ہے۔اس اقتباس سے اس بات کا بھی اندازہ ہوتا کہ بار بار دھوکہ کھانے کے باوجود عوام کیوں اس کا شکار ہوتی ہے۔آج سیاست ایک مذاق بن چکی ہے۔ عوام کو بری طرح سے استعما ل کیا جا رہا ہے۔۔جیسا کہ پہلے ذکر کیا جاچکا ہے کہ اردو ادب کا ہر طالب علم اس بات سے واقف ہے کہ ادیب ہمارے ہی سماج کا ایک فرد ہوتا ہے وہ جو کچھ دیکھتا ہے ،محسوس کرتا ہے اس کو کاغذ پر ڈھال دیتا ہے۔ادیب ایک طرح سے سماجی کارکن ہوتا ہے سماج اور اپنے گرد وپیش ہونے والے واقعات پر طنزیہ ومزاح کے ذریعہ معاشرے کی اصلاح کی کوشش کرتا ہے۔مشتاق احمد یوسفی نے بہت سارے ملکوں کاسفر کیا ملازمت کے سلسلے میں لندن میں گیارہ سال رہے جس کی وجہ سے انہیں وہاں کی معاشرت کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ۔وہ صرف معاشرے میں رہ کر ہی نہیں انہوں نے دیگر علوم اور ان کے معاشروں کا بھی گہرائی سے مطالعہ کیا ہے اور اس سے متأثر بھی ہوتے رہے ہیں جس کے اثرات ان کیان کی تحریروں میں واضح ہیں ۔شام شعر یاراں میں وہ ہند وپاک کے سماج اور برطانوی سماج کا موازنہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
’’ہم روز انہ لسانی گروہی اورصوبائی چپقلس اور تصادم کی خبریں ،حادثات اور قابل علاج بیماریوں میں انسانی جانوں کے اتلاف کی رپوٹیں پڑھتے ہیں اور اسے مقدرات کا حصّہ اور روز مرہ کا معمول سمجھ کر اخبار اور اپنے ذہن کا ورق پلٹ کر اسپورٹس اور اسٹاک مارکیٹ کی خبریں پڑھنے لگتے ہیں ۔ہم بہت مصروف ہیں ہمارے پاس اداس رہنے اور سوگ منانے کے لئے وقت نہیں ہے۔تیرا لٹگ یا شہر بھبنور سے بے خبر ہیں ! ایک زندہ،ذمہ دار اور مہذب معاشرے کی یہ پہچان ہے کہ اگر وہ کسی کے دکھ درد کا مداوا نہیں کر سکتا تو اس میں شریک ہوجاتا ہے۔‘‘ ( یوسفی،شام شعر یاراں ،ص۴۷)
یہ اقتباس حقیقت پر مبنی ہے کہ آج انسان اس قدر نے ضمیر اور بے حس ہوگیا ہے کہ وہ صرف اور صرف اپنے بارے میں سوچتا ہے۔بڑے بڑے حادثات پر بھی اس کا ضمیر اس کو نہیں جھنجھوڑتا بلکہ اس کو عام سی بات سمجھ کر آگے نگل جاتا ہے۔وہ بھی ایک زمانہ تھا جب ایک شخص کی وفات پر پورا سماج متاثر ہوتا تھا۔اب یہ ساری چیزیں معمول کا حصہ بنتی جارہی ہیں ۔یوسفی اور اس جیسے دیگر فنکاروں کی تشویش یہی ہیکہ معاشرہ عصری آگہی کے توسط سے اب ان اقدار سے خالی ہوتا جارہا ہیجسے ہم انسانیت سے تعبیر کرتے ہیں ۔
مشتاق احمد یوسفی صرف لندن وبرطانیہ اور اعلی طبقہ ہی کی بات نہیں کرتے ان کی تصانیف میں غریب اور دلت طبقے کی بات جگہ جگہ نظرآتی ہے۔ہمارے ملک وسماج میں غریب و دلت طبقے کے لوگوں کے کیا حالات ہیں اس سے تو ہر کوئی اچھی طرح واقف ہے۔آج کا انسان اس قدر بے حس ہو چکا ہے کہ غریبوں کو اپنے قبرستان میں مدفون ہونے کی بھی جگہ نہیں دیتا جس پر یوسفی طنز کرتے ہوئے ایک ماہی گیر کے احوال بیان کرتے ہیں :
’’ چلنے لگے تو ابراہیم بولا: کوٹھ کے لوگ کہتے ہیں میں اسّی سے اوپر کا ہوں سب کچھ دیکھابھالا،بھگا،بھگتابس ایک ہی فکر ستاتی ہے اگر آپ کی کسی وزیر یا ممبر اسمبلی تک پہونچ ہو تو ہماری طرف سے ہاتھ جوڑ کے اس سے عرض کریں کہ ہمارے کوٹھ کے لئے قبرستان کابندوبست کریں ۔شہر والوں کے قبرستانوں میں ہمارے جنازے کو گھسنے نہیں دیتے ہم اپنی میّت کو ایک قبرستان سے دوسری قبرستان دوسری سے تیسری ،چوتھے کاندھوں پر اٹھائے اٹھائے بے عزتی کراتے پھرتے ہیں دن بھر سخت دھوپ میں
پڑے رہنے کے بعد ہماری میّت سے خوشبو تو آنے سے ہی رہی مرد کی مٹّی خراب ہوتی ہے ماحول الگ خراب ہوتا ہے۔سائیں ،کچھ کرو۔رات کو فکر سے نیند نہیں آتی۔اسّی سے اوپر ہوں۔‘‘ ( یوسفی،شام شعر یاراں ،ص۲۴۷)
آخر میں شام شعر یاراں میں عصری آگہی سے متفق ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ یہ بہت ہی گہری بصیرت پر مبنی ہے۔یوسفی اس دور کے سیاسی ،سماجی،معاشی اورادبی وغیرہ معاملات سے نہ صرف گہری واقفیت ہے بلکہ اسباب و علل پر بھی ان کی گہری نظر ہے۔انہوں نے شام شعر یاراں میں زندگی کے مختلف مسائل کو ایک مربوط انداز میں اور وحدت کے روپ میں پیش کیا ہے۔آج کے حالات کا ماضی اور مستقبل سے تعلق کا بھی یوسفی کو احساس وادراک ہے۔مسلسل اور مستقل طور پر ہونے والی تبدیلیاں بھی ان کی نظروں میں اجاگر ہیں معاشرے کی نئی اور پرانی قدروں سے انہیں واقفیت ہے۔شام شعر یاراں میں ہمیں زندگی کی گونا گوں اور تضاد کو قبول کرکے اسے سہنے کے لائق اور طنز ومزاح کے ذریعے زندگی کو زیادہ گوارا اور خوشگور بنانے کا ایک مشن نظر آتا ہے۔
مشتاق احمد یوسفی بنیادی طور پر طنز ومزاح نگار ہیں ۔وہ کوئی مبلغ یا سیاسی وسماجی رہنما نہیں مگر جیسا کہ ابتدا ہی میں لکھا جاچکا ہے کہ ایک فنکار اپنے عہد اور سماج سے بیگانہ نہیں رہ سکتا۔یوسفی کی ان تحریروں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انہیں اپنے سماج سے گہری وابستگی ہے اور جو کچھ دیکھتے ہیں اسے اپنے طنز کا حصہ بنا دیتے ہیں ۔شام شعر یاراں میں یوسفی کی طنزومزاح نگاری کے ساتھ ساتھ عصری آگہی کی بھی ایک کتاب ہے جس سے یوسفی کے سماجی شعور کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔شام شعر یاراں طنز ومزاح کے ساتھ ساتھ عصری آگہی ایک تاریخ بھی نظر آتی ہے۔
ریسرچ اسکالر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کیمس لکھنو





