Sunday, March 1, 2026
spot_img
HomeMuslim Worldبس اس کے سوا کیا ہے

بس اس کے سوا کیا ہے

ہمارے دامن میں بس اس کے سوا کیا ہے ،کہ ایک دن پوری دنیا میں ہم متحد ہوکر اپنی طاقت کا مظاہرہ کچھ اس طرح کرتے ہیں کہ دشمن کے ہوش اڑ جاتے ہیں اور جو دشمن سال بھر مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے کی سازش رچتا ہے وہ عاشورہ کے دن کربلا کے شہیدوں کا جلوس دیکھ کر یہ سوچنے پر مجبور ہوتا ہے کہ بڑی سے بڑی طاقت بس اس کے سوا کیا کر سکتی ہے کہ سامنے والوں کے سر قلم کر لئے جائیں ۔لیکن یہ جلوس تو ان کا ہے جن کے سر بھی قلم ہو ئے اور فاتح بھی یہی کہلائے کیونکہ جلوس تو ہمیشہ فاتح کا ہی نکالا جاتاہے۔ بہ یک وقت پوری دنیا میں اٹھنے والے یہ جلوس 1400سال پہلے کی یاد دلاتے ہیں کہ ظالم کتنا ہی ظلم کر لے لیکن حق کو کبھی زیر نہیں کرسکتا۔ واضح رہے 1400سال پہلے ایک ظالم بادشاہ جو اپنے کو مسلمان کہتاتھا اس نے چاہا کہ اپنی طاقت اورکثیر تعداد فوج کے ذریعہ امام حسینؑ سمیت72افرادجس میں  85 سال کے مسلم ابن عوسجہ اور6مہینہ کے علی اصغرؑ  تھے، اپنی بات ماننے پر مجبور کر لے لیکن امام حسینؑ کے ایک انکار نے رہتی دنیا تک یہ پیغام دیا کہ حسینؑ جیسا کبھی یزید جیسے کی بیعت نہیں کرسکتا۔
رات حسینی چینل دیکھنے کے بیچ ایک چینل پر اچانک دیکھاکہ محرم سے متعلق خبر آرہی ہے ، اسے دیکھنے کے لئے رک گیا کہ سب جگہ امن اور امان تو رہا؟تو دیکھا کہ پوری دنیا میں شاید ہی کوئی خطہ ایسا ہوجہاں امام حسینؑ کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے اپنے اپنے طریقہ سے وہاں کے لوگوں نے جلوس نہ نکالے ہوں۔ کوئی ایسی جگہ نہ تھی جہاں تعزیہ جلوس کے ساتھ نہ ہو، کوئی جلوس ایسا نہ تھا جس میں حضرت عباسؑ کے علم کا پرچم بلند ہوکر یزید کی شکست کا اعلان نہ کر رہا ہو۔ابھی وہاٹس ایپ پر گشت کرتی ایک تقریر سنی کہ پوری دنیا میں مسلمانوں کی کل تعداد میںشیعوں کی حصہ داری صرف 8فیصد ہے جس میں کئی گائوں اور کئی شہر ایسے بھی ہیں جہاں شیعوں کی تعداد نہ کے برابر ہے ایسے میں صرف شیعہ ہی پوری دنیا میں اس شان و شوکت سے امام حسینؑ کی شہادت پر جلوس نکالتے ہیں ؟یہ عقل میں آنے والی بات نہیں ہے۔ ویسے بھی اس میں شیعہ ، سنی کا کوئی سوال بھی نہیں ہے امام حسینؑ کو یاد کرنے کے لئے تو بس انسان ہونا شرط ہے اور جو انسان ہوگا اس کے سینہ میں دل بھی ہوگا، قوت احساس بھی ہوگی ، جب قوت احساس ہوگی تو یہ قوت احساس آپ میں صلاحیت و جرأت پیدا کرے گی کہ آپ حق و باطل کے درمیان امتیاز کر سکیں اور حق کی پیروی کریں اور باطل کی مخالفت۔جن کی قوت احساس مر چکی ہوتی ہے وہ امام حسینؑ اور کربلا کو شیعوں سے جوڑ کر دیکھتے ہیں شایدانہی کے لئے شاعر انقلاب جوش ملیح آبادی نے کہا تھا کہ
انسان کو بیدار تو ہولینے دو
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسینؑ
پوری دنیا میں نکلنے والے یہ جلوس نہ صرف 1400سال پہلے حق کی فتح کا اعلان کرتے ہیں بلکہ آج اس دہشت گردی کے داغ کو بھی مٹاتے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ اسلام دہشت گردی کا مذہب ہے اوراسے تلوار کے زور پر پھیلایا گیا ہے۔ اسلامی تاریخ ہی نہیں پوری دنیا کی تاریخ میں صرف کربلا کی جنگ ایسی ہے جہاں فتح سر کٹانے والوں کی ہوئی نہ کہ سر کاٹنے والوں کی اسی لئے شاید علامہ اقبال نے کہا کہ
 اسلام کے دامن بس اس کے سوا کیا ہے
ایک ضرب یداللٰہی ایک سجدہ شبیری
RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular