Wednesday, February 25, 2026
spot_img
HomeMuslim Worldبابِ تبصـــــــــــــرہ

بابِ تبصـــــــــــــرہ

ڈرامائیت اقبال کے لب و لہجہ کی امتیازی شناخت ہے جو ان کی ہر زمانے کی شاعری میں بہ آسانی تلاش کی جا سکتی ہے۔اقبال کی منفرد شخصیت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ علم و حکمت کے اعتبار سے ایک فلسفی اور دانشور تھے اور اپنے مزاج کے اعتبار سے شاعر اور فن کار۔یہ خیال ہے ’’مانو‘‘لکھنؤ کیمپس میں شعبہ اردو میں اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر نورفاطمہ کا جس کے بارے میں انھوں نے اپنی تازہ ترین کتاب‘‘آزادی کے بعد اقبال تنقید مسائل و مباحث ‘‘میںتفصیل سے اظہار خیال کیا ہے۔اصلا ًیہ کتاب ڈاکٹر نور فاطمہ کا وہ تحقییقی مقالہ ہے جس پر انھیں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اردو کی اعلی ترین ڈگری’’ پی ایچ ڈی‘‘ تفویض کی گئی اور اتر پردیش اردو اکادمی نے اسے 25000.00کے انعامی زمرے میں رکھ کر مصنفہ کی محنت اور کاوش کی حوصلہ افزائی کی جس کے لئے ڈاکٹر نور فاطمہ کو مبارکباد دی جانا چاہئے۔اس سے پہلے بھی فاضل مصنفہ کی دو کتابیں ’’نئی شاعری نئی آوازیں‘‘ اور ’’تفہیم و تحسین‘‘ منظر عام پر آ کر ادبی دنیا میںخاطر خواہ پذیرائی حاصل کر چکی ہیں ۔علاوہ بریں ان کے تنقیدی و تحقیقی مضامین قومی اور بین الاقوامی سطح کے جرائد و رسائل میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔
واقعتاًعلامہ اقبال بیسویں صدی کی ان نابغہ روزگار شخصیات میں سے ہیں جنھوں نے اپنے فکروفن سے نہ صرف اپنے عہد کو بلکہ اپنے بعد آنے والے زمانے کو بھی غیر معمولی طور پر متاثر کیا ہے ۔ان کی نثر ہو یا شاعری،نظم ہو یا غزل، خطبات ہو ںیا مکاتیب ،ڈائری ہو یا دیگر نثری تحریریں،اردو کا ادبی سرمایہ ہو یا فارسی کے گراں مایہ کارنامے ۔یہ سبھی اہل فکرو نظر اور بلند پایہ ناقدین کی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔اقبال اردو کے ایسے پہلے شاعر بھی ہیں جن کی زندگی ہی میں ان سے متعلق نمائندہ و بلند تر تنقیدی سرمایہ وجود میں آ چکا تھا جس میں ان کے شعری وسائل کے استعمال سے معمور،بصیرت انگیز فکری و فنی کارناموںکو زیر بحث لایا گیا تھا۔ادبی دنیا میں جتناکچھ اقبال پر مختلف حوالوں سے لکھاگیا ہے اتنا کسی اور شاعر پر نہیں لکھا گیا۔یہ اقبال کی عظمت کی بین دلیل ہے۔نہ صرف اردو بلکہ دنیاکی ہر بڑی زبان میں لکھا گیا اوراقبال کی تفہیم کے اسرار منکشف کئے گئے۔لیکن اقبال کی عظمتوں کا احاطہ ابھی مکمل نہیں ہو سکا ہے۔جس فنکار پر بہت زیادہ لکھا گیا ہو اس پر لکھنا آسان سمجھا جاتا ہے لیکن حقیقتا یہ اور سخت اورمزید دشوار کن مرحلہ ہو تا ہے ۔کیونکہ تما م تررطب و یابس کے مطالعے کے بعد کسی قابل قدرنتیجے پر پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے۔ مزید مشکلیں اس وقت پیدا ہو جاتی ہیں جب اس فنکار پر جو کچھ لکھا گیا ہو اس کا مطالعہ اور تجزیہ کیا جائے ۔ایسی صورت حال میں کسی ریسر چ اسکالر کا’’ اقبال تنقید مسائل و مباحث ‘‘جیسے اہم موضوع کو تحقیق کے لئے منتخب کرنا ہی ایک چیلنج ہے۔اگر کوئی اس چیلنج کو قبول کرتا ہے اور اس کے ساتھ انصاف بھی کرتا ہے تو یقینا وہ اسکالر نہ صرف مبارکباد کا مستحق ہے بلکہ اعزازو اکرام کا بھی۔ڈاکٹر نور فاطمہ نے اس چیلنج کو نہ صرف قبول کیا بلکہ اس کے ساتھ پورا پورا انصاف بھی کیا ہے۔انھوں نے مقالہ پورا ہونے کے بعد فور ا شوقیہ طور پراسے شائع نہیں کر دیا بلکہ اسے بار بار پڑھا اور ہر بار مناسب ترمیم و اضافے بھی کئے ۔جس سے ان کی محنت شاقہ اور سنجیدہ لگن کا اندازہ ہوتا ہے ۔پھر اسے ’’براؤن بکس‘‘نے شائع کیا جو بعض انفرادیت و امتیازات کی بنا پر ایک منفرد اشاعتی ادارہ بن چکا ہے۔یہ ادارہ صرف اردو ہی نہیں بلکہ ہندی، انگریزی،عربی ،فارسی وغیرہ کی کتابیں بھی شائع کرتا ہے لیکن اردو کتابوں کی اشاعت کی وجہ سے مقبول اور معتبر ہو چکا ہے۔
’’آزدی کے بعد اقبال تنقید مسائل و مباحث ‘‘کو مصنفہ ڈاکٹر نور فاطمہ نے پانچ ابواب پر منقسم کیا ہے ۔ہر باب میں کچھ ضمنی ابواب قائم کئے گئے ہیں۔چنانچہ پہلا باب (۱)اقبال کی فنی اور شاعرانہ عظمت کی بنیادیں اور (۲)اقبال کی فکر کے بنیادی پہلو‘‘ پر منقسم ہے ۔اس باب میں مصنفہ نے اقبال کی شاعرانہ عظمت کے ان محرکات کا پتہ لگانے کی کوشش کی ہے جن کا تعلق اقبال کی فنکارانہ ہنرمندیوں اور شاعرانہ عظمتوں سے ہے۔ددوسرا باب ’’آزادی سے قبل اقبالیات کی عام صورت حال ‘‘کو بھی اقبال کی سوانح اور ان کی شاعری کے خانوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔اس سلسلہ میں مصنفہ کی جن کتب و رسائل تک رسائی ہو سکی ہے ان کی فہرست کے ساتھ ساتھ وہ اقتباسات بھی پیش کئے گئے ہیںجن سے آزادی کے بعد اقبال تنقید کے خدوخال روشن ہو سکیں۔ تیسرے باب’کا عنوان’آزادی کے بعدہندوستان میں اقبال کی فکری قدروقیمت کا تعین‘‘ ہے اس میں مختصرا اس بات کی نشان دہی کی گئی ہے کہ اقبال کا فلسفہ کن بنیادوں پر استوار ہوا ہے اور ان کے نظام فکر میں کون کون سے تصورات زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ساتھ ہی تصور وقت،تصور تقدیر، اور مرد کامل کے علاوہ ضمناً خودی کے تصور پر بھی گفتگو کی گئی ہے۔علاوہ بریں ان تصورات کے حوالے سے مشرقی اور مغربی تصورات کو بھی زیر بحث لا یا گیا ہے جن مفکرین سے اقبال متاثر ہوئے اور جن سے انھوں نے براہ راست استفادہ کیا ہے ان کا ذکر بھی خصوصی طور سے اس باب میں مصنفہ نے کیا ہے۔ چوتھا باب’’آزادی کے بعد اقبال کی شاعرانہ اور فنی قدروقیمت کا جائزہ‘‘ہے جس میں مصنفہ نے اقبال کے کارناموں کو فنی سطح پر پرکھنے کی کوشش کی ہے۔اس سلسلہ میں مصنفہ کا کہنا ہے کہ:۔
؎’’اقبال کی شاعری میں فلسفہ و فکر ایسے گھل مل گئے ہیں کہ ان کو الگ کر کے کوئی نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا ہے‘‘اس لئے کہ ان کے خیالات کی کڑیاں فنی پیش کش سے جا کر مل جاتی ہیں ۔اس کے بعد شاعرانہ وسائل کے علاوہ ان کی زبان و بیان ،ہیئت ،عروض اور آہنگ کے مسائل کو بھی زیر بحث لایا گیا ہے۔اس باب میں اقبال کی شاعری کو عروض اور آہنگ و بحور کے حوالوں سے بھی دیکھا گیا ہے(جس کے بغیر کسی بھی شاعری کا مطالؑعہ ادھورا ہے) اس کے لئے مصنفہ نے عروض کا خصوصی مطالعہ کیا ہے۔وہ کہتی ہیں کہ:۔
’’دراصل اقبال کے زبان و بیان،ہیئت،عروض اور آہنگ کا زیر نظر باب میں اس لئے بھی تذکرہ کیا گیا ہے کہ ان کی شاعری کی عظمت صرف شعری وسائل تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا سلسلہ ان کی زبان ،ہیئت،عروض اور آہنگ کے استعمال سے بھی جا کر مل جاتا ہے۔جن کے بغیر ان کی شاعرانہ قدروقیمت کا تعین ممکن نہیں ہے‘‘
آزادی کے بعد اقبال تنقید مسائل ومباحث کا پانچواں اور آخری باب ’’اقبال تنقید کا ماضی اور حال (محاکمہ اور نتائج) ہے،جس میں فاضل مصنفہ نے گذشتہ ابواب کے سارے مباحث کو سمیٹتے ہوئے ناقدین کی آرا کو بھی پیش کیا ہے تاکہ اقبال تنقید کی سمت و رفتا راور صحیح صورت حال کا اندازہ کیا جا سکے۔ کتاب کا مطالعہ قاری کو اس نتیجہ پر پہنچاتا ہے کہ مصنفہ نے صرف اقبال تنقیدکے مسائل و مباحث کا ہی مطالعہ و تجزیہ پیش نہیں کیا ہے بلکہ انھوں نے اقبال تفہیم کے نئے جہات تلاش کرنے کی بھی کوشش کی ہے۔لالہ،شاہین،مرد مومن یا مرد کامل،تصور وقت،تصور قدر،فلسفہ خودی،فلسفہ عقل ،فلسفہ عشق،استعارات و تلمیحات،مخصوص لفظیات و تراکیب،کے سلسلہ میں انھوںنے صرف اقتباسات ہی پیش نہیں کئے بلکہ جگہ جگہ اپنی رائے بھی قطعیت کے ساتھ پیش کی ہے۔اقبال کی شاعری کی تفہیم کی جتنی جہتیں ہو سکتی ہیں ان سب سے بحث کی ہے۔جہاں جہاں وہ اشعار کی تشریح و تجزیہ کرتی ہیں وہاں وہ صرف اقبال کے مقصد کو پیش نظر نہیں رکھتیں بلکہ ان اشعار میں حسن آمیزی کے وہ عناصر بھی تلاش کرتی ہیں جو مشرقی معیار نقد کی بنیاد ہیں۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مصنفہ کے تنقیدی نظریے کی تشکیل اور تکمیل بھی ہو چکی ہے۔مصنفہ نے ’’خودی‘‘کو اقبال کے فلسفہ کا محور قرار دیا ہے۔لکھتی ہیں:
’’در اصل ان کے فلسفہ خودی کا ایک پس منظرہے۔انھوں نے اپنے تحقیقی کام کے دوران یہ محسوس کیا تھا کہ فلسفہ وحدت الوجود کی غلط تعبیر اور یونانی فکر اور بھکتی کی آمیزش نے مشرق کے لوگوں کو بے عمل اور کاہل بنا دیا ،جس کے نتیجے میں مشرق کے لوگ خاص طور سے مسلمان خودداری اور قوت عمل سے محروم ہو گئے۔ایسے میں انھوں نے ’’خودی‘‘کا متحرک اور فعال تصور پیش کیا جو کہ ان کے فلسفے کا بنیادی محور ہے‘‘(صفحہ ۳۴۰)
’’آزادی کے بعد اقبال تنقید مسائل و مباحث‘ ایک ایسی کتاب ہے جو صرف خصوصی اہل علم حضرات کے لئے ہی نہیں بلکہ شعر و ادب سے دلچسپی رکھنے والے عام قاری کے لئے بھی اتنی مفید ہے کہ اقبال اور اقبال تنقید کی تفہیم کے دروازے اس پر کھلنے لگتے ہیں۔کیونکہ زیر تبصرہ کتاب میں صرف اقبال تنقید سے بحث نہیں کی گئی بلکہ اصل موضوع تک پہنچنے کے لئے جن معاون ابواب کا تعین کی گیا ہے وہ اقبال کی عظمت کی بنیادوں کومنطقی طور پر مستحکم کرتے ہیں۔ تفہیم ِاقبال کی نئی راہیں اور نئے امکانات روشن روشن ہوتے ہیں۔یوں تو اقبالیاتی ادب کے سلسلہ میں گوپی چند نارنگ،مولانا ابوالحسن علی ندویّ(علی میاں ندوی)ڈاکٹر عبد المغنی،شمیم حنفی،پروفیسر اسلوب احمد انصاری،پروفیسر آل احمد سرور،پروفیسر ابوالکلام قاسمی،جگن ناتھ آزاد،علی سردار جعفری،پروفیسر عبدالحق،سلیم اختر،وحید قریشی،ڈاکٹر تحسین فراقی وغیرہم کے نام قابل ذکر ہیں لیکن’’آزادی کے بعد اقبال تنقید مسائل و مباحث ‘‘کے ساتھ اسی فہرست میں ڈاکٹر نور فاطمہ نے بھی اپنا نام درج کرایا ہے جس کا استقبال کیا جانا چاہئے۔چار سو صفحات پر مشتمل ڈاکٹر نور فاطمہ کی اس کتاب کی قیمت چھ سو روپے ہے ۔جو کتاب کے مشمولات کو دیکھتے ہوئے قطعی زیادہ نہیں ہے۔امید ہے کہ اس کتاب کو ارباب ذوق و نظر اپنی آنکھوں کا سرمہ بنائیں گے ۔ مصنفہ کی یہ کاوش کتابوں کی بھڑ میں گم نہ ہو کر ذہنوں میں محفوظ ہو تی رہے گی اور اقبال تنقید پر آئندہ کام کرنے والوں کے لئے ایک بنیاد کا پتھر ثابت ہو گی۔

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular