Sunday, April 12, 2026
spot_img
HomeMuslim Worldای وی ایم سے الیکشن اپوزیشن کی موت

ای وی ایم سے الیکشن اپوزیشن کی موت

mravadhnama@gmail.com 

9807694588

اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

 

 

حفیظ نعمانی

ملک الموت کو ضد ہے کہ میں جاں لے کے ٹلوں
سربسجدہ ہے مسیحا کہ میری بات رہے
حزب مخالف کا جتنا جتنا دبائو بڑھ رہا ہے کہ آنے والے انتخابات ای وی ایم کے بجائے بیلٹ پیپر سے ہوں اتنا ہی وزیر قانون روی شنکر پرساد کے چہرہ کا رنگ گہرا ہوتا جارہا ہے۔ لندن میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے متعلق ہونے والی پریس کانفرنس نے کہرام مچا دیا ہے۔ کانگریس کے لیڈر کپل سبل کی اس کانفرنس کے وقت لندن میں موجودگی کو روی شنکر اس پریس کانفرنس سے جوڑ رہے ہیں انہوں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ راہل گاندھی ہارنے کی تیاری کررہے ہیں اور اپنے وکیل کو انہوں نے ہی لندن بھیجا تھا۔ اس ہنگامہ کے ہیرو کوئی سید شجاع ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ وہ مشین ڈیزائن کرنے والی ٹیم کا ایک ممبر ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ اس مشین کو غلط کام کے لئے کیسے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
دو دن ہوچکے ہیں یہ پریس کانفرنس میڈیا پر چھائی ہوئی ہے اور اس کی بدولت اپوزیشن پارٹیوں نے چیف الیکشن کمشنر پر دبائو بڑھانا شروع کردیا ہے کہ الیکشن بیلٹ پیپر سے کرایا جائے۔ اس بحث میں ہی یہ سامنے آیا کہ نیوزی لینڈ نے لاکھوں روپئے کی مشینیں خریدیں لیکن جب یہ معلوم ہوا کہ اس سے بے ایمانی ہوسکتی ہے تو ایک بار بھی آزمائے بغیر سب کو کوڑے میں پھینک دیا۔ جرمن کی ایک عدالت نے اس کے استعمال پر اس لئے پابندی لگادی کہ جس ذریعے سے آدمی ووٹ دے اور وہ نہ سمجھ سکے کہ اس کا ووٹ کن منزلوں سے گذرکر اُمیدوار کو گیا اس کا استعمال اعتماد کے لائق نہیں ہے۔ اور یہ تو روی شنکر پرساد بھی جانتے ہیں کہ اب ہندوستان کے علاوہ دنیا کے کسی ملک میں اس کا استعمال نہیں ہورہا ہے صرف اس لئے کہ اس کے ذریعہ بے ایمانی کرائی جاسکتی ہے۔ تو کیا روی شنکر پرساد جو ملک کے وزیر قانون بھی ہیں وہ دنیا کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہاں ہم ہندوستانی پوری دنیا میں اکیلے بے ایمان ہیں اور بے ایمان ہی رہنا چاہتے ہیں؟
یہ بات طے شدہ ہے کہ ملک کے ووٹر بٹے ہوئے ہیں ہر پارٹی کے کچھ ووٹ ایسے ہوتے ہیں کہ وہ کسی قیمت پر دوسری پارٹی کو نہیں جاسکتے اور کچھ ووٹ ایسے ہوتے ہیں جو لیڈروں کی تقریریں سن کر اپنا ذہن بناتے ہیں کہ کسے ووٹ دینا ہے اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو آخر وقت میں یہ دیکھ کردیتے ہیں کہ کون جیت رہا ہے۔ بی جے پی کے زیادہ تر ووٹ وہ ہیں جو آر ایس ایس کی شاکھائوں سے ہوکر آئے ہیں وہ کچھ بھی ہوجائے بی جے پی کو نہیں چھوڑ سکتے اور کافی ووٹ وہ ہوتے ہیں جو مودی جی کی جذباتی اور فرقہ پرستی میں لپٹی ہوئی تقریروں کو سن کر ووٹ دینے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ یہ دونوں قسم کے ووٹ اگر مشین ہو تب بھی ملیں گے اور اگر بیلٹ پیپر ہو تب بھی ان کو ہی ملیں گے تو پھر ان کے لئے اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ ای وی ایم سے ہی الیکشن ہو۔ وہ جتنا جتنا مشین سے کرانے پر زور دے رہے ہیں اتنا ہی شبہ بڑھتا جارہا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے۔
جہاں تک جرمن کی عدالت کا فیصلہ ہے اس کا سب سے زیادہ اثر ہندوستان میں ہوتا ہے اس لئے کہ جرمن کے مقابلہ میں جاہلوں کی تعداد ہندوستان میں ہوسکتا ہے پانچ گنا یا اس سے بھی زیادہ ہو۔ جن لوگوں کو پڑھا لکھا کہا جاتا ہے ان میں ہم بھی شامل ہیں لیکن کمپیوٹر سے ناواقف ہونے کی وجہ سے ہم خود نہیں جانتے کہ ہم نے جو بٹن دبایا اس کے بعد وہ کہاں گیا؟ اور جس مشین میں وہ گیا کیا جب پولنگ ختم ہوجائے گی تب اس میں تالا لگادیا جائے گا اور اس تالے کی چابی کس کے پاس ہوگی؟ حاصل یہ ہے کہ اس معاملہ میں ہم بھی جاہل ہیں۔
اور کیا یہ بات اہم نہیں ہے کہ اپوزیشن کی ہر پارٹی مشین کی مخالفت کررہی ہے تو صرف بی جے پی حکومت کی بات مانی جائے اور روی شنکر پرساد نے جو کہا ہے کہ الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے اور کانگریس منظم طریقہ سے اسے بدنام کررہی ہے۔ وہ اگر آئینی اور خود مختار ادارہ ہے تو وہ حاکم نہیں ہے اسے حکم چلانے کا کس نے حق دے دیا؟ جب سامنے الیکشن ہیں اور اس کے بظاہر دو فریق ہیں ایک وہ جو حکومت کے اندر ہیں دوسرے وہ جو باہر ہیں تو یہ بات الیکشن طے کرے گا کہ تعداد کس کی زیادہ ہے۔ اور جب تک یہ ثابت نہ ہوجائے کہ تعداد کس کی زیادہ ہے اس کے لئے دونوں برابر ہیں اور یہ بات آج سے نہیں کافی دنوں سے کہی جارہی ہے کہ مشینوں سے بھروسہ اُٹھ گیا اور ہمارا ہی نہیں دنیا کے ہر ملک کا اُٹھ گیا تو کیا ضد ہے کہ ہندوستان میں مشین ہی سے الیکشن ہوں گے۔ یا تو الیکشن کمیشن اعلان کرے کہ وہ وزیراعظم کے نوکر ہیں اور ان کا حکم ماننا ان کے فرائض میں ہے۔ اور اگر ایسا نہیں ہے تو وہ فیصلہ کرنے والے کون ہوتے ہیں؟
مودی سرکار کو مشین سے اتنی دلچسپی ہے کہ مخالفت کے باوجود وہ ہر تھوڑے دنوں کے بعد ایک لاٹ خرید لیتی ہے۔ اگر حساب لگایا جائے تو کروڑوں روپئے اس مد میں خرچ ہوچکے ہیں لیکن یہ روپئے نہ مودی جی کے ہیں نہ انل امبانی کے یہ سب عوام کے ہیں اور عوام کا ہی مطالبہ ہے کہ ان کو جمنا میں بہا دیا جائے یا کباڑی کے ہاتھ فروخت کردیا جائے لیکن ملک کی پیشانی سے بے ایمان سفیدی کا داغ مٹا دیا جائے۔
اترپردیش کے چار ضمنی الیکشن کے بعد ہم نے لکھا تھا کہ مشین کا کھیل نہ ان چاروں جگہ ہوا اور نہ آنے والے پانچ صوبوں میں ہوگا تاکہ مشین کی مخالفت دب جائے۔ لیکن 2019 ء کے پارلیمانی الیکشن میں اس سے بہت زیادہ ہوگا جتنا اب تک ہوا ہے۔ ہم نے جو لکھا تھا وہ علم غیب کی وجہ سے نہیں بلکہ کھلاڑی کی فطرت کی بناء پر لکھا تھا اور اب ہر پارٹی کو سمجھنا چاہئے کہ وزیراعظم بیلٹ سے الیکشن نہیں کرائیں گے اور مشین سے کرانے کے بعد اترپردیش کی طرح سے جیتیں گے۔ اپوزیشن پارٹیاں کچھ بھی کرلیں اور کتنے ہی ووٹ لے لیں جیت نہیں سکتیں۔ اور جب ہارنا ہی ہے تو باعزت راستہ یہ ہے کہ صرف ایک مطالبہ کیا جائے کہ اگر مشین سے الیکشن ہوگا تو سب بائیکاٹ کریں گے اگر یہ فیصلہ کیا گیا تو ہر وہ ملک جس نے مشین کو ردّ کیا ہے آپ کے ساتھ ہوگا۔
Mobile No. 9984247500

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular