Friday, February 27, 2026
spot_img
HomeMuslim World      " ایک کہانی بڑی پرانی"         

      ” ایک کہانی بڑی پرانی”         

ڈاکٹر فرزانہ کوکب        

            پچھلے دنوں ایک جامعہ میں دوران تعلیم گزاری اپنی زندگی اور اس سے جڑی کچھ نا قابل فراموش خوش کن یادوں پر مبنی کچھ طلباء کا بنایا ہوا وڈیو کلپ فیس بک اور وٹس ایپ پر گردش کرتا رہا۔بہت سےلوگ اسے دیکھ کر جذباتی ہوتے رہے۔اسکا سبب ایک تو اس کے  پس منظر میں چلنے والے انگریزی گیت کی مدھر دھن اور دل کوچھو لینےوالی اور گداز کردینے والی شاعری تھی اور دوسرے بہتوں کو یونیورسٹی میں گذاری اپنی زندگی اور اس زندگی کے کچھ نافراموش لمحات کا شدت سے یاد آجانا اور پھر نوسٹلجیا کی کیفیت کا شکار ہو جانا تھا۔
اور واقعی یونیورسٹی کی زندگی کی کہانی کاجب آغاز ہوتا ہےتو لگتا ہے کہ طلسم ہوشربا کے در وا ہوگئے ہیں۔ بہتیرے تو یہ گنگناتے ہوئے”زندگی اک سفر ہے سہانا،یہاں کل کیا ہو کس نے جانا”اس چمن خوشنما و جنت نظیر کی سیر کرتے ہوئے کلی کلی، پھول پھول منڈلانا شروع کر دیتے ہیں اور موقع ملنے پر پھولوں کا رس چوس کر اڑ جاتے ہیں ۔جبکہ بہت سے ایسے بھی ہوتے ہیں جو سحرزدہ ہو کر اس حیرت کدے اورعالم رنگ وبو میں دیوانہ وار گھومتے  ہزار داستان سناتی کسی شہرزاد کی اپنی زندگی کی کہانی کے ہیرو بن جاتے ہیں۔
یاپھرکوئی الہڑ،معصوم لڑکی اپنے کسی پرنس چارمنگ کی سنڈریلا بن کر دونوں جہان اس کی محبت میں ہار جاتی ہے۔تب ان تازہ واردان بساط ہوائے عشق اور ہر دو فریقین کو ایسا ہی لگتا ہے کہ “زندگی اور کچھ بھی نہیں تیری میری کہانی ہے”اور پھر یوں ہوتا ہے کہ نارسائی اور لا حاصلی کے اذیت ناک احساس کے ساتھ کبھی
ہماری یہ کہانی ادھوری رہ جاتی ہے۔اور اک طویل،کبھی نہ ختم ہونے والی شب غم گذارنا ہی مقدر ٹھہرتا ہے۔ اور کبھی کہانی پوری تو ہوجاتی ہے مگر پھر بھی مکمل ہونے کا احساس ادھورا رہ جاتا ہے۔اور پھر بعضے تو علامہ صاحب کے شعر کے اس مصرعے پر ایمان لے آتے ہیں
“عالم سوز و ساز میں وصل سے بڑھ کر ہے فراق”
جبکہ تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی قابل صد توجہ ہے کہ ان اہل ایماں میں سےبیشتر اس عزم صمیم ، نئے ولولے اور بلندحوصلے کے ساتھ علامہ صاحب کے ہی اس شعر کو اپنی زندگی کا منشور بنا لیتے ہیں
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
اور پھر ساری زندگی یہ عشق پیشہ اہل ایماں جہاں میں واقعی صورت خورشید جیتے ہیں ” ادھر ڈوبے ادھر نکلے،ادھر ڈوبے ادھر نکلے۔”
اور شاعری بھی چونکہ جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری نہیں اسی لئے ہمیں اپنے آس پاس ایسے بہت سی جی دار اور عالی ہمت اصحاب دکھائی دیتےہیں جو عزم صمیم کے ساتھ اس شعر کو پڑھتے ہوئے  نیت باندھتے ہیں اورنماز عشق کی ادائیگی میں پوری دلجمعی سے مصروف رہتے ہیں کہ:-
“نکل ہی آتی ہے کوئی نہ کوئی گنجائش
کسی کا پیار کبھی آخری نہیں ہوتا”

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular