9807694588
اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں

شارق اعجاز عباس
بڑی مشہورکہاوت ہے کہ دنیا میں کوئی چیزبھی بنا قیمت کے نہیں ملتی-
کہیں تحت الشعور میں والد صاحب کی یہ نصیحت نقش رہ گئی ” انسان کی صحبت ہی اسکی زندگی کی سمت کا تعین کرتی ہے – اچھی صحبت اٹھاو¿گے تو بہتر مزاج بنے گا اور ترقی کی راہیں کھلتی چلی جاینگی اور بری صحبت تمہاری تمام تر خوبیاں برباد کر دیگی .”
یہی وجہ رہی کہ ہم دانستہ یا غیر دانستہ تمام عمراچھی صحبت کے متلاشی رہے ۔اور نتیجہ یہ ہوا کہ ہمارا بیشتر وقت ،دوستوں کے ساتھ کم اور بزرگوں کی صحبت میں گزرا. اسکے مثبت اور منفی دونوں پہلو رہے. جہاں تک مثبت پہلو کا سوال ہے تو ہم وقت سے پہلے وہ سب باتیں سیکھ گئے جو عمر کی پختگی کے بعد انسان سیکھتا ہے مثال کے طور پر آداب~ محفل ،آداب~گفتگو ، رکھ رکھاو¿، اٹھنا بیٹھنا اورکافی حد تک شعور ،ادب لحاظ وغیرہ وغیرہ ہماری شخصیت کا حصہ بن گئے . دوسری طرف اپنے ہم عمر/ہم اثر دوستوں کی صحبت سے محروم ہو گئے . ہمارے ساتھی ہم سے بات تو بڑےادب سے کرتے تھے مگر دوست نہیں سمجھتے تھے . ہمارے درمیان ہمیشہ ایک نمایاں دوری بنی رہی جسکے رہتے ایک عجیب سا اکلیا پن ہمزاد کی مانند ہمارے ساتھ رہا . پتا ہی نہیں چلا بچپن کب آیا اور کب گزر گیا .
دلّی،موبائل -9968897546





