9807694588
اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔
(’آسماں پسار آئے‘ کی روشنی میں)

ڈاکٹر محمد ارمان
یہ ایک حقیقت ہے کہ اردو مطبوعات کا سرمایہ شعریات اور خصوصاً غزلیات کی شکل میں سال بہ سال بڑھ رہا ہے، مگر اسی کے ساتھ یہ بھی ایک بڑی سچائی ہے کہ اس سرمایے کا بڑا حصہ محض زیب داستان ہی کے مصداق ہوا کرتا ہے ،کیوں کہ اس کے اوراق، بالعموم بلند بانگ دعووں کی توثیق سے ذرا قاصر ہی دکھائی دیتے ہیں اور اس کی وجہ محتاج بیان نہیں۔
ظاہر ہے کہ شاعر کے پاس اگر اپنا لہجہ نہ ہو اور ہمہ صورت لسانی و عروضی شعور کے ساتھ وہ اپنی باتیں کہنے پر متوجہ یا قادر نہ رہے، تو موضوعات سخن، خواہ کچھ بھی ہوں ، ان میں تازگی اور گہرائی و گیرائی نہیں آسکتی، لیکن جب صورت حال اس کے برعکس ہو تو پھر فکری و فنی دونوں ہی لحاظ سے اس کا لائق اعتنا ٹھہرنا بالکل فطری امر ہے اور ہم بلا خوف تردید کہہ سکتے ہیں کہ خباب خورشید اکبر کی ’’غزل کی چوتھی کتاب‘‘ ایک ایسا ہی کامیاب و منفرد نمونہ ہے جو قارئین اور ناقدین کو مطالعاتی مسرت و بصیرت سے نوازنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔
جناب خورشید اکبر اعلیٰ انتظامی منصب پر فائزہیں اور نہایت ہی عمدہ شخصیت اور ادبی و شعری صلاحیت کے مالک۔ قدرت نے انہیں نہایت ہی جزرسی کے ساتھ زندگی اور زمانے کے احوال انتہائی قریب سے دیکھنے اور شاعری کے آئینے میں اسے سلیقہ و سنجیدگی سے دکھا دینے کی قوت بھی بخشی ہے اور توفیق بھی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی منصبی مصروفیات کے باوجود شعر و شاعری سے مسلسل شغف کے ساتھ اپنی شناخت زیادہ سے زیادہ روشن بناتے چلے جارہے ہیں، یہاں تک کہ جدید غزل کی دنیا میں آج ان کا لہجہ دور ہی سے پہچان لیا جاتا ہے اور بسا اوقات اس پر زبردستی شک کرنے والے بھی، اس پر اضطراری یقین و اعتماد کی منزل میں آجاتے ہیں اور کہہ اٹھتے ہیںکہ واقعی ہے ؎
عجب رنگ خورشید کی شاعری
وہ خوش ذائقہ لاجوابی سخن
تعلیات سے شاعروں کا شغف ایک دیرینہ روایت ے، جس میں مبالغہ ہمیشہ مباح سمجھا گیا ہے اور خودستائی کی شمشیر سے ہزاروں قتل روا رکھے گئے ہیں، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ خورشید اکبر کی تعلیات میں بہر حال ایک وقار و توازن اور خود آگہی کا شعور ہے جو ہمیں ان کے نظریہ شاعری اور وطیرۂ زبان کو سمجھنے میں معاون ہوتا ہے اور ہمیں اس بات کا بیش از بیش معترف بنادیتا ہے کہ وہ طرحیات کے ماہر، فک اضافات کے سلیقہ داں، ترکیبات و استعارات میں لطیف قرائن کے التزام اور جدید تشکیلی تراکیب و لفظیات کے استعمال پر قادر اور جزئیات سے گہرے و موثر تجربے کے اظہار کی صلاحیت رکھنے والے ایسے فن کار ہیں جو ’’آسماں پسار آئے‘‘ جیسے چونکا دینے والے اعلان کا صرف شوق نہیں رکھتے بلکہ اسے سننے اور پڑھنے والوں کو اس کی معنویت کے اقرار پر مجبور کردیتے ہیں ؎
طلب دراز تھی ، دامن بہت ہی چھوٹا تھا
خدا کے سامنے ہم آسماں پسار آئے
یہ بے پایاں طلب اور تنگ دامانی کا اعتراف بھی ہے، جرأت عقل و عمل کا اظہار بھی اور دینے والے کے سامنے اسی کی نعمت کا واسطہ اور حوالہ بھی۔ خورشید اکبر یہاں وسائل کی یافت میں جس طرح جدیدیت بدست دکھائی دیتے ہیں،وہ بس انہیں کا حصہ ہے۔ وہ تصورات کو محسوسات کی سطح پر لادینے کاہنر جانتے ہیں اور زندگی و زمانے کی جبریت کچھ اس طرح آئینہ کرتے ہیں کہ ان کے مجموعہ کا انتسابی صفحہ، کتاب کے ورق ورق کا بنیادی معاملہ و مسئلہ سامنے لادیتا ہے ؎
نفس کی آگ میں بھونی ہوئی مچھلی دینا
جس کو کھانا بھی ہے ، کانٹا بھی نگل جانا ہے
اس کا صاف مطلب یہی ہے کہ شاعر فرار کی راہ اپنانے کا داعی نہیں بلکہ حوصلے اور جرأت کی عملی تعلیم دینے والا شاعر ہے۔
خورشید اکبر کا زیر مطالعہ مجموعہ ’’آسماں پسار آئے‘‘ دو سو صفحات پر مشتمل ، سو غزلوں کا ایک خوبصورت مجموعہ ہے، جو ’’مکتبہ آمد‘‘ کے زیر اہتمام تقریباً دو سال پہلے ستمبر ۲۰۱۶ء میں منظر عام پر آیا اور یقینا اہل ذوق کے ذریعہ ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔ یہ مجموعہ عام روش کے بر خلاف نہ تو سفارشی بیساکھیوں کا مرہون منت ہے اور نہ ہی کسی ادارے کی اشاعتی اعانت کا، بلکہ ’’انتساب ‘‘ اور ’’فہرست‘‘ کے بعد یہاں بلاوساطت صفحہ گیارہ سے غزلوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے اور آخری صفحہ تک پہونچتا ہے۔ اس مجموعہ میں دو غزلہ، سہ غزلہ بھی ہے جو مختلف شاعروں کی نذر کیا گیا ہے اور آخر میں سات طرحی غزلیں بھی جو ’’بزم دوستاں‘‘ کے مشاعرہ منعقد ہ ۲۰۱۲ء میں پڑھی گئی تھیں۔
یہ عام قاعدہ ہے کہ جب کسی بھی شاعر کا مجموعہ کلام سامنے آتا ہے تو سب سے پہلے اس کے نظریہ فکر و فن کی تلاش ہوتی ہے اور یہ مقام مسرت ہے کہ یہ مجموعہ اپنے ایسے متلاشیوں کو خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا ہے بلکہ یہاں متعدد غزلیہ مقطعے اور دیگر اشعار سے یہ معلوم ہوجاتا ہے،کہ شاعر نے جو کچھ لکھا ہے وہ صاف ستھرے اور واضح ادبی و فکری نظریہ کے ساتھ لکھا ہے۔ شاعر کی نظر میں غزل کے لئے لہجہ کا نرم و معطر ہونا ضروری ہے اور یہ بھی کہ تاریخی تسلسل میں اس صنف کا فن کار اپنی امتیازی چمک رکھتا ہو، اس کے اندر ایسی بے پناہ صلاحیت ہو کہ وہ ’’مکاں کی صد الامکانی سنے‘‘ اس کی شاعری خوش ذائقہ و لاجوابی ہو اور وہ اپنے فن کی بابت کسی واہمہ کا شکار نہ ہو۔
خورشید اکبر کے نزدیک غزل کا وصف و وظیفہ یہ ہے کہ وہ ’’چنچل مضرابی، پانی سی ریگستاں میں گونجتی رہے‘‘ یعنی غزل میں بیداری، ہوشیاری لانے اور زمانے و ماحول کے مطابق افکار و جمالیات کا ذوق ابھارنے کی صلاحیت ہو، مزید یہ کہ شعروں سے جو خورشید معانی ابھر رہا ہو، اس کی شہادت کے بیان میںانفرادیت پائی جائے۔
خورشید اکبر کے نزدیک غزل کی شاعری محض شعلوں کا نام نہیں بلکہ آتش جاںکے پھولوں میں بدل جانے کا نام ہے۔ شاعری کو چہ جاناں کی کشش ہے اور یہاں شاعر کا منصب یہ ہے کہ وہ سو دوزیاںکے احساس سے بے نیاز ہو کر اس کی طرف آئے اور اسے شبنم کی آنچ بھی دکھاتا رہے۔ خورشید اکبر نے صاف لفظوں میں کہا ہے کہ ’’غزل شاعری کی امانت سے پہلے، لہو سے وضو شرط‘‘ ہے ؎
ایک خورشیدؔ ہے جو اکبر ہے
ورنہ سو آفتاب آئے بھی
وہ خورشیدؔ ہے شاعر بے پناہ
مکاں کی صدا لا مکانی سنے
ہم اپنے دکھ کی دوا ڈھونڈتے رہے خورشیدؔ
کہ واہمہ تھا بہت شاعری کے بارے میں
ریگستاں میں گونجتی رہتی ہے خورشیدؔ
اک غزل چنچل مضرابی پانی سی
شعروں سے ابھرتا ہے جو خورشیدؔ معانی
ہے اس کی شہادت کا بیاں اور طرح کا
شہر ناساز نے شعلوں کو غزل جانا ہے
آتش جاں تجھے پھولوں میں بدل جانا ہے
شاعری کو چہ جاناں کی کشش ہے خورشیدؔ
کیا ملا خیر مگر جان لٹائی ہوئی ہے
اسے دکھائیے شبنم کی آنچ بھی خورشیدؔ
غزل کی دھار شرربار ہوگئی کیسے
لہو سے وضو شرط خورشیدؔ اکبر
غزل شاعری کی امامت سے پہلے
خورشید اکبر کی شاعری صرف تعلیات پر مبنی نہیں بلکہ اس میں نوع بہ نوع مضامین کا اک جہاں بھی شادو آباد ہے۔ مثلاً خورشید اکبر کی غزلیہ شاعری میں، زندگی اور موت کا مضمون طرح طرح سے باندھا گیا ہے اور دنیا اور زندگی و زمانے کے رُخ طرح طرح دکھائے گئے ہیں اور لطف کی بات یہ ہے کہ ایسے اشعار میں نظریاتی و استعاراتی رمق بھی ہے اور پڑھنے اور سننے والوں کے لئے انتباہی اور اصلاحی جذبہ بھی ؎
موت کیا ہے تلخ امرت کی صراحی
زندگی کیا چاشنی زہراب کی ہے
موت کیا ، بے رخی تمہاری ہے
جان کیا ، بندگی تمہاری ہے
موت کیا ہے ، کوئی آہٹ نہ صدا دستک کی
اس کے کوچے سے دبے پائوں نکل جانا ہے
مزید یہ کہ ان کی غزلوں میں سائنسی و جغرافیائی حقائق، آج کی زندگی میں آپسی رشتوں اور تہذیبی قدرو ں کے زوال، کشمیر کے حالات، گمرہی اور دنیا پرستی کے نقشے بھی صاف صاف دیکھے جاسکتے ہیں ؎
جانے کس بات پہ پھرتی ہے زمیں اتراتی
تین حصے پہ تو قبضہ ہے یہاں پانی کا
گرتی ہوئی دیوار تو رشتوں کی طرح ہیں
ملبے میں دبا شخص بھی احسان اٹھائے
شہر میں کتنی برہنہ ہے یہ جامہ زیبی
اور انداز بھی لگتے نہیں ہرجائی کے
مثل بارود بچھائے گئے انساں ورنہ
رشک جنت نہ تھا کشمیر کے جیسا کوئی
چلے تو دین کے رستے میں مل گئی دنیا
فقیر بیٹھ گئے ، شاہ کے گھرانے میں
خورشید اکبر اگرچہ جدید غزل کے فن کار ہیں، لیکن ظاہر ہے کہ ادیب و شاعر بہر حال ماحول کا پروردہ ہوتا ہے اور اپنے ماضی قریب اور اپنے روز مرہ کے معاشی و معاشرتی احوال سے بے نیاز نہیں رہ سکتا، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے غزلیہ اشعار میں مفلوک الحال مزدوروں اور محنت کشوں کی زندگی کو بھی موضوع بنایا ہے اور امارت و غربت کا وہ فرق بخوبی سامنے لادیا ہے جہاں ہمارے ارمانوں کا خون ناحق ہوتا رہتا ہے ؎
نہاتے رہتے ہیں مزدور خون پسینے میں
تمہارا شہر چمکتا ہے کہکشاں جیسا
ہم پستے رہتے ہیں جیون چکی میں
ارمانوں کی گھانی ہوتی جاتی ہے
آج کی دنیا کتنی بیمار ہے اور علاج کا جذبہ رکھنے والے بھی کس قدر بے بس ہیں اور وسائل سے محروم، ، اسے خورشید اکبر کی غزلوں میں نہایت سادگی و پرکاری سے دکھایا گیا ہے۔ ؎
کتنی بیمار ہو گئی دنیا
اور ہم آخری انار ہوئے
جیسا کہ کہا گیاان کے نزدیک اصل اہمیت بقاو استحکام کی ہے اور اس جہت سے وہ جدید و قدیم کی بحث کو محض ثانوی اہمیت دیتے ہیں ؎
عمارت وہی ہے جو قائم رہے
نئی کیا کہے ، کیا پرانی سنے
ان کا نظریہ موت و حیات اور نظریہ فن و شاعری بالکل ہی واضح ہے اور انہوں نے اپنی غزلوں میں سیاست حاضرہ، ماحولیات و اخلاقیات، آفاقی صداقت، دنیا کی بے ثباتی کے مضامین نہایت چابکدستی سے باندھا ہے ؎
پھر تیز ہوائوں میں دستار گری جیسے
کمزور حمایت کی سرکار گری جیسے
خوش رہتی ہیں کبھی خفا ہو جاتی ہیں
مائیں ہر صورت میں دعا ہو جاتی ہیں
ہمارے گھر میں اندھیرے بچھا دیے گئے ہیں
ہمارے شہر میں سورج کی حکمرانی ہے
کس کو رہنا ہے خورشید اکبر
اس میں ہنسنے رونے والی بات ہے کیا
ہرا درخت بھرا خاندان چڑیوں کا
اسے نہ کاٹ فرشتوں کا شامیانہ ہے
وطن کی تندرستی کا خیال اس کو نہیں آتا
سیاست چلتی رہتی ہے مگر بیمار چلتی ہے
روتے ہوئے دنیا میں آیا تھا انساں
ہنس ہنس کے ہر اک دکھ کو گزارا ، نہیں رہا
اتنا ہی نہیں بلکہ عصریات کے تعلق سے زمانے کی عام بے غیرتی، مہذب دنیا کی منافقت، عام بے پناہی، خودشناسی کے فقدان، تاریخ فراموشی، جبریت کی حکمت عملی، نام نہاد آزادی، سماجی تضاد ،داخلی انتشار، بے وفائی وفرومائیگی اور ازیں قبیل بہت سارے متنوع موضوعات کو بھی نہایت اچھے انداز میںانہوں نے اپنے فکری و فنی کمندو کمان کا قیدی بنایا ہے ؎
سنسان ہے پھر غیرت انساں کا علاقہ
ہم ڈوبنے جائیں کہاں دریا بھی نہیں ہے
پڑھتے ہیں ہم قصیدے منصوبہ جہاں کے
لیکن ہمارے گھر کا نقشہ علاحدہ ہے
سن کے یہ خبر جنگل بجھ گئے کہ شہروں میں
آگ پھیل جاتی ہے اور دھواں نہیں ہوتا
موسموں سے آگے ہے سانپ کی طرح انساں
کینچلی بدلتا ہے ، بے نشاں نہیں ہوتا
دھوپ چھائوں کی دنیا یوں بدل گئی خورشید
آسماں کسی کا بھی سائباں نہیں ہوتا
یہ الگ بات ہے کہ بیمار ہے ساری دنیا
اپنے حق میں بھی دعا کر لو شفایابی کی
جہاں پہ شاہزادوں کو غلام نے شکست دی
وہ واقعہ نکل گیا ہماری داستان سے
یوں تو کہنے کو ملی سب کو غلامی سے نجات
قصر شاہی ترے دربار سلامت ہی رہے
تمہارے جبر کے انداز ہیں نئے نازک
ہمارے صبر کی تصویر بھی پرانی ہے
جہاں تک طرز بیان کا تعلق ہے ، یہ صحیح ہے کہ خورشید اکبر کے یہاں بعض شعر میں سپاٹ پن بھی ہے اور کہیں محاورے کی غلطی، جدید لفظی شکلیں، بے جا تفصیل اور تعقید کا احساس بھی ہوتا ہے، مثلاً ؎
ہم کو بے چین کرتے رہتے ہیں
حسب معمول شہر کے حالات
کون مانگے سے بھی دیتا ہے خوشی کی خیرات
ہم تجھے یاد کریں ، ہاتھ خزانے لگ جائیں
یہ الگ بات ہے کہ سب ایک نہیں رہ پائے
یہ الگ بات کہ دشمن کی ہوا ٹوٹ گئی
روندے جاتے ہوں جہاں لعل و گہر پیروں سے
داستاں ہوگی وہاں کیا دُر نایابی کی
لیکن اسی کے ساتھ ساتھ یہ جب ہم دیکھتے ہیں کہ شاعر نے تجنیس صوتی، ک، گ کے حسن استعمال، تعلمیع اور تلمیح و تضاد سے آمد کی شان کے ساتھ اپنا جہان سخن سجا رکھا ہے تو یقینا ہماری بصیرت و مسرت دوبالا ہوجاتی ہے ؎
شجر شاداب جسمانی سفر تھا
ثمر مہتاب روحانی سفر تھا
جام جاں لبریز ہے اس کے نین سے
نشہ خورشید بے انداز سائیں
ثمر بدوش ملا کب کسی کی دعا کا درخت
میں عاقبت کی جڑیں یونہی کوڑ آیا ہوں
خدا سے ہے خورشید و ماہ و نجوم
خدا کا یہ سنسار کیا دیکھنا
گھنا درخت قصیدہ ہے اپنی چاہت کا
یہ شاخ ، پھول ، ثمر ، سایہ مہرباں جیسا
ہوا کا کام تو آنا ہے اور جانا ہے
بجھا ہے شہر نہ روشن غریب خانہ ہے
لہجہ کا انفراد، مشاہیر شعرا کی لفظیات و حکایات سے یہ انداز نوغذا کا حصول اور ردّ ابتدا و صدر، نہ دوائر، تخلص کے تلازمے، اجرام سمادی کی تنسیق، ہندی الفاظ کے استعمال کی صورت میں جس طرح اپنے فنی جلوئوں سے ہمیں محفوظ ہونے کا موقع دیتا ہے، وہ شاید جدیدیت نواز غزل گوئی کے فن کاروں کی دنیا میں خال خال ہی مل سکے۔ خورشید اکبر کے یہاں عوامی بہاری دیہی الفاظ، سمندر پانی کے استعارے اور سوالیہ انداز سے طنز اور تحریک ذہنی کی جو مشکور فنی کاوشیں ملتی ہیں، وہ بھی قابل دید اور قابل داد ہیں۔ بحیثیت مجموعی یہ کہنا مبالغہ نہیں کہ خورشید اکبر کا زیر نظر چوتھا مجموعہ ان کی دستار انفراد میں ایک اور نمایاں اور مفید خوبصورت کلغی کا اضافہ کردیتا ہے۔ خدا کرے ان کے قلم سے ایسے افادات و اضافات کا سلسلہ جاری رہے۔
rr
r
شانتی باغ، نیوکریم گنج، گیا
رابطہ: 9931441623





