9807694588
اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

ایچ ایم یٰسین
شمشاد احمد خاں، المتخلص شمسؔ فرخ آبادی جولائی ۱۹۳۰ء کو جناب محمد ابراہیم خاں خٹک کے یہاں محلہ خٹک پورہ فرخ آباد میں پیدا ہوئے تھے۔ خٹک پٹھانوں کا ہی ایک قبیلہ ہے اور فرخ آباد کا محلہ خٹک پورہ ان ہی لوگوں کے اجداد کا بسایا ہوا ہے ۔شمسؔ بچپن سے ہی خاموش طبع لیکن متحرک قسم کے انسان تھے۔تعلیم کا سلسلہ ختم کر کے وہ اپنے بڑ ے بھائی اے۔ایچ۔ خاں صاحب جو ناردن لکھنو، میں فورمین کے عہدہ پر تعینات تھے ان کے پاس آگئے اور وہیں ریلوے ورکشاپ میں ملازمت کر لی اور بھائی کے ساتھ ہی سرکاری بنگلے میں رہنے لگے۔ میری شناسائی ریل برادری ہونے کے ناطے ان کے بڑے بھائی صاحب سے کچھ اس طرح ہوئی کہ میں ناردرن ریلوے ہیڈ کواٹر بڑودہ ہائوس نئی دہلی میں آپرئٹنگ برانچ کے مکینکل انجینئر اسٹیم انجن کے فیئول(ایندھن) کوئلہ کے افسراعلیٰ کے ساتھ بطور پی۔اے۔ لگا ہوا تھا۔ یہاں ہر ماہ ایندھن کے لیے ایک میٹنگ ہوا کرتی تھی۔ جس میں ریلوے کے ساتون ڈویژن سے انسپکٹر حضرات تشریف لاتے تھے۔ جس میں لکھنؤ کے انسپکٹر اور کبھی کبھی اے ایچ خاں شمس ؔکے بڑے بھائی بھی تشریف لاتے تھے۔ تعلقات مضبوط ہونے لگے اور پھر ۱۹۶۱ء میں میرا تبادلہ لکھنؤ آر۔ڈی۔ ایس۔ او۔ (ریلوے منسٹری کے تکنیکل صلاح کار) میں ہو گیا اور ان سے قربت بڑھی، نتیجے میں شمسؔ فرخ آبادی صاحب سے بھی یاداللہ ہو گئی۔ اپنے بڑے بھائی فور مین صاحب کے رٹائرمنٹ اور انتقال کے بعد وہ بارود خانے میں محترمہ یاد دہلوی کے برابر والے پورشن ’’سحرومنزل‘‘ میں رہائش پذیر ہو گئے اور یاد صاحبہ کی چھوٹی بہن ’’محمودہ ناز ‘‘ سے لو میرج کر لی۔شمشاد صاحب نے محمودہ ناز اور ان کی تین سابقہ اولادوں سے ٹوٹ کر محبت کی۔اپنی اولادوں کی طرح پالا ، بہترین تعلیم دلوائی، لیکن افسوس بچوں نے ان کو صحیح طریقہ سے نہیں اپنایا۔ خاص طور پر بڑے نے جو اس لو میرج کے خلاف تھا۔
ہماری قربت شمشاد بھائی سے (جن کو میں نے کبھی ان کے تخلص شمسؔ سے مخاطب نہیں کیا) اس وقت بڑھی جب انہوں نے روندرالیہ میں نازشؔ ؔپرتاپگڑھی اور ساحرؔ ہوشیارپوری کے اعزاز میں ایک شاندار مشاعرہ کا التزام کیا اور مجھے اپنا معاون بنا لیا۔ان کے حسن انتظام اور خلوص کے باعث یہ تقریب نہایت شاندرا رہی تھی۔ اس کے بعد میں سعودی عرب چلا گیا اور وہاں سے واپسی کے بعد دوبارہ اس وقت ملاقات ہوئی جب وہ خواجہ سید محمد یونس کے ’’اپنا اخبار‘‘ کے دفتر کی پہلی منزل پر خواجہ صاحب کی تجویز کردہ آل انڈیا اردو کانفرنس کے انعقاد کے لیے سرگرم تھے۔انہوں نے مجھے پھر اس کانفرنس کے کام سے جو ڑ لیا۔ اس کی میٹنگس میں اکثر ملک زادہ منظور صاحب ، رضوان فاروقی صاحب، محترم تسنیم فاروقی صاحب اور دیگر احباب تشریف لاتے رہتے تھے۔ کچھ ناگزیر وجہوں سے یہ کانفرنس منعقد نہ ہو سکی اور پروگرام ملتوی کرنا پڑا۔
محمود ناز صاحبہ کے انتقال کے بعد وہ بالکل تنہا رہ گئے، اولادوں نے ان سے کنارہ کر لیا، وہ ریلوے سے بھی ریٹائر ہو گئے تھے، تنہائی ان کو ستانے لگی۔ پینشن اتنی ملتی تھی جس سے خادم رکھ سکیں، رکھتے بھی تھے۔لیکن وہ نوکر یا تو ایک تنہا آدمی کی تنہائی سے اکتا کر چھوڑ جاتے۔ یا پھر چوری کرتے اور غائب ہو جاتے، تنہائی اور بیماری جب قابل رحم ہو گئی تو ان کی حقیقی بھتیجی فورمین صاحب کی بیٹی نے ان کو اپنے شوہر کی بلڈنگ رکاب گنج میں جس کے نیچے ان کی دکان تھی اور اوپر کا پورشن خالی تھا، میں منتقل کر دیا اور اس طرح ان کی دیکھ بھال قدرے بہتر ہو گئی۔ایک ملازم بھی ان کی ہمہ وقت خدمت کے لئے رکھ دیا گیا۔گو میں سحرو منزل بھی جاتا رہتا تھا۔لیکن رکاب گنج ہر اتوار کو ان کی خیریت کے لیے پہنچنا اپنا معمول بنا لیا۔ چند گھنٹے بیٹھتا ، ادبی ، سماجی ، خانگی سب طرح کی گفتگو ہوتی دیگر احباب بھی کبھی کبھی ملنے آجاتے اور یہ محفل دوستاں خوب رنگ پکڑتی اور شمشاد بھائی کا دل بہلاتی۔
شمس صاحب دراصل ایک اعلیٰ پایہ کے انسان اور مشہور آرٹسٹ و سنگ تراش تھے۔ پینٹنگ دراصل ان کا Passion تھا۔ آپ جانتے ہی ہوں گے کہ دنیا مثالوں کے بغیر نہیں چلتی۔ مثالیں آپ کو اچھی بری دونوں طرح کی ملتی ہیں۔ یہ مثالیں اپنانے والے دونوں سے ہی سبق حاصل کر کے زندگی کو سنوارلیتے ہیں۔ دنیا کی رنگا رنگی، اسکے روپ اور احساس کی دولت سے نوازے گئے، خوش نصیب انسان، انسانی دکھ سکھ اپنے ذاتی تجربات اور مشاہدہ کی بنا پر جو کردار تراشتے ہیں ان کو مختلف شعراء قلم کار، افسانہ نگار، مصور ،مجسمہ ساز، اشعار، افسانوں، پینٹنگزس یا مجسموںکی شکل میں اجاگر کرکے قارئین کی نذر کرتے ہیں اور یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہتا ہے اور چلتا رہے گا۔
ہمارے شمسؔ بھائی تو فنون لطیفہ کے ہر شعبہ کے ماہر ہیں ان کی تخلیقات میں تین شعری مجموعے، تین افسانوی مجموعہ، ایک ناول، کچھ خاکے، کچھ روغنی و آبی تصاویر کا البم منظر عام پر آکر پذیرائی حاصل کر چکی ہیں۔شمسؔ صاحب نے افسانوں اور غزلیات کے علاوہ ’’دوہوں‘‘ میں بھی بہت نام پیدا کیا۔ ان کی دوہوں کی کتاب ’’دوہا درپن‘‘ کافی مشہور ہوئی اور ریڈیوو ٹی۔وی ۔ نیز ’’ایوان اردو ‘‘و دیگر رسائل کے توصل سے دور دور عوام تک پہنچی اور شمس ؔفرخ آبادی دوہوں کے شاعر بن گئے۔ ان کی تصانیف کو یوپی اردو اکادمی، اتر پردیش میر اکادمی، ارم ایجوکیشنل سوسائٹی نے نقد انعامات کے علاوہ توصیفی اسناد سے نوازا۔ ان کی تصاویر اور ریلیف ورک کی مختلف جگہوں پر نمائشیں بھی منعقد ہوئیں۔ جن میں ان کو گورنر اوارڈس ، یوپی آرٹس ایسوسی ایشن نیز ناردن ریلوے کی جانب سے گرا ں قدر انعامات حاصل ہوئے۔ ان کی کچھ نادر تصاویر و مجسمے تاریخی حیثیت کے ہیں۔ جن میں ایک 8×4سائز کی سیمنٹ کی گاندھی جی و جواہر لال نہرو کی شبیہ ناردرن ریلوے لکھنؤ کے ڈی۔آر۔ایم۔ ایس آفس کے کمیٹی روم کے لیے بنائی گئی۔جس کا افتتاح بھی جی۔ایم۔ ناردرن ریلوے کے دست مبارک سے ہوا، اور دوسری روغنی قد آدم 8×4سائز کی ڈاکٹر بھیم رائو امبیڈکر جی کی یوپی کونسل ہائوس کے تلک ہال میں آویزاں کی گئی۔اس کی نقاب کشائی عالی جناب گورنر اترپردیش کے ذریعہ کی گئی۔
شمس ؔصاحب کے حُب رسول ﷺکا پتہ کتاب کے آخیر میں دیئے گئے ان کے اس دوہے سے ( جو مجھے بے حد پسند ہے) لگایا جا سکتا ہے جس میںوہ کتاب کا اختتام نعت رسول ﷺکے اس شعر پر فرما رہے ہیں:۔
دوہا درپن دیکھ کے، کر لی جگ کی سیر
شمس جی نعت رسولؐپہ،ہو تمّت بالخیر
آپ لوگ دوہوں کا صحیح لطف تو ’’دوہا درپن ‘‘کے مطالع سے ہی حاصل کریں گے تاہم کچھ چنندہ ، پسندیدہ دوہے قارئین کے لطف طبع کے لیے پیش خدمت ہیں۔
صاحب ذوق احباب کے لیے ان کی تصانیف کے نام تحریر کرنا بھی بے محل نہ ہوگا۔
شعری مجموعے:
جلتے کمل، ملن کی آس، شام ڈھلے، دوہا درپن
افسانوی مجموعے:
چاند کا زخم، نیند ادھوری بکھرے خواب
دل سے دل تک، پہچان
(مختصر ناول)
دیگر: کچھ خاکے، کچھ روغنی و آبی تصاویر۔
٭٭٭
ایچ۔ایم۔یٰسین، سابق رجسٹرار انٹگرل یونیورسٹی۔ لکھنؤ، موبائیل:9839569575





