ڈاکٹر ریشماں پروین

زیرتجزیہ غزل ’حق فتحیاب میرے خدا کیوں نہیںہوا‘ ایک سانحاتی غزل ہے، دراصل یہ گجرات فسادات کا نوحہ ہے۔2002ء میں ہونے والے انسانیت سوزفرقہ وارانہ فسادات نے صرف گجرات اوراحمدآباد کوہی نہیں بلکہ سارے ہندوستان کومتزلزل کردیاتھا، ایسے دلخراش حالات میں عرفان صدیقی جیسے حساس انسان کے ضبط کا باندھ بھلا کب تک قائم رہتا۔کے سانحات نے انھیں ایسا لرزایا کہ خاموش طبیعت عرفان بھی اس معبودِ حقیقی کے خلاف انقلاب آثار نظر آنے لگے جس نے اس کائنات کو خلق کیا اورخصوصاً حضرت انسان کواشرف المخلوقات کا درجہ دیا۔ عرفان صدیقی کی یہ غزل خدا سے سوالات اورشکایتوں کا ایسا البم ہے جس کا ثانی اردوغزل میں غالباً مشکل ہے۔ حالانکہ ان سے قبل علامہ اقبال کی نظموں میںخدا سے شکوے کا انداز ملتا ہے، اقبال کی نظم ’شکوہ ‘ اور ’لینن خدا کے حضور میں‘ اسی قبیل کی نظمیں ہیں جن کواقبال نے خون جگر سے سینچا۔ مذکورہ غزل میں عرفان نے اسی انداز کو نقطۂ کمال تک پہنچادیا۔ ایک بڑے فنکار کی طرح روایت سے استفادہ کے باوجود عرفان صدیقی نے یہاں بھی اپنا امتیاز باقی رکھا، وہ اقبال کی طرح شکایتی رویہ تواختیار کرتے ہیں مگرخدا سے کسی بالواسطہ طریقے سے ہم کلام نہیں ہوتے۔ اقبال نے اپنی نظم لینن خدا کے حضور میں ڈرامائی انداز میں لینن کوخدا کے سامنے ایستادہ کرکے اپنے دلی جذبات کااظہار کیاتھا وہ شاعری کی تیسری آواز کے ذریعہ پہلے ایک تمہید باندھتے ہیں اورپھرخدا سے سوال کرتے ہیں :
تو قادر وعادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات
کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ؟
دنیا ہے تری منتظر روزِ مکافات!
عرفان صدیقی کی انفرادیت ہے کہ وہ اس غزل مسلسل میںاقبال کی طرح ادب ولحاظ کا مخصوص انداز اختیارنہیں کرتے بلکہ جو کچھ دل پرگزرتی ہے اسے براہِ راست کہتے ہیں پہلے ہی مصرعے میں’میرے خدا‘ کہہ کر وہ اپنے اورخدا کے درمیان سے غیریت کے تمام ابعاد کوختم کرکے یگانگت کا ایسا رشتہ قائم کرتے ہیں جہاں عبد اورمعبود کے بیچ کسی تیسرے کی گنجائش ہی نہیں رہتی، یہاں عرفان انسانی نفسیات کی نباضی کا ثبوت دیتے ہیں کہ اگرکوئی ہمارا اپنا ہے توپھراس سے تکلف کیسا؟ہماری ذہنی ونفسیاتی کشمکشوں، تکلیفوں کا جب وہ چارہ گر ہے تواس سے اپنے ذہنی وجذباتی کرب کا شکوہ کرنے میں جھجک کیسی؟ چنانچہ مطلع میںہی ایک چبھتا ہوا سوال سامنے آتا ہے کہ جب یہ کہا جاتا ہے کہ جیت ہمیشہ سچائی کی ہوتی ہے توپھر سچ کی فتح کیوں نہیں ہوئی؟ ایسا کیا ہوگیا جس نے تیرے کہے ہوئے کوحقیقت نہیں بننے دیا۔ پہلا ہی شعر عرفان صدیقی کے اضطراب کا عکاس ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یقینا کوئی دل دہلانے والا حادثہ ہوا ہے جس کا ازالہ ناممکن ہے اورجس کی اذیت شاعر کوخدا سے براہ راست سوال کرنے پر مجبورکررہی ہے۔
غزل کے دوسرے شعرمیں پہلے شعر کا مفہوم واضح ہونے لگتا ہے، دوسرا سوال مزید تڑپانے والا ہے کہ جب اس زمین پر قیامت آئی توروز جزاء کیوں نہیں ہوا؟ حشر کا استعارہ اس ہولناک منظر کی گواہی دے رہا ہے جب خواتین کے سروں سے ردائیں چھین لی گئیں، ان کو برہنہ کرکے شاہراہوں پر دوڑایاگیا، حاملہ عورتوں کے پیٹ چاک کرکے آنے والی زندگیوں کا خاتمہ کردیاگیا، آبروئیں لوٹی گیئں اورسینکڑوں بے گناہوں کا قتل کردیاگیا۔ عرفان اضطراب وبے قراری کی کیفیت میںاستفسار کرتے ہیں اگراس دنیا میں قیامت آسکتی ہے توپھر ان لوگوں کوسزا کیوں نہیں ملی؟ جنھوں نے انسانیت کے سرکوشرم سے جھکادیا۔ خدا تیرے دربار میںایسا کیوں ہوا؟ کہ ظالم ظلم کرکے بھی آزاد رہا جب کہ جزاء وسزا ہمیشہ سے مقرر ہے۔ پھر مجرموں کو ان کے کئے کی سزا کیوں نہیں دی گئی؟
غزل کا تیسرا شعر عرفان صدیقی کی تخلیقی ذکاوت اور فنی اظہار پر ماہرانہ دسترس کا غماز ہے وہ شمع کے بجھنے اورشورِ عزا کی علامتوں کے ذریعہ صرف دومصرعوں میں اس سانحہ کو بیان کردیتے ہیں جس کی وجہ سے سارا ہندوستان فرقہ وارانہ فسادات کی زد میںآگیاتھا۔ شمع کا بجھنا اوراس کے بعد کا کہرام، اپنے ساتھ فسادات کا سیلاب لے کرآیا۔ اس سیلاب میں نہ جانے کتنے دل بجھ گئے، دل بجھنے کی علامت شاعر کے مافی الضمیر کوبڑی خوبصورتی سے ادا کررہی ہے، وہ تڑپ کر سوال کرتا ہے کہ اگرشمع کے بجھنے پر کہرام برپا ہوا تواس کے رد عمل میں دلوں کے بجھنے پر شور عزا کیوں نہیں ہوا؟ شور عزا کی ترکیب واقعۂ کربلا سے متعلق ہے، عرفان صدیقی کا کمال یہی ہے کہ وہ واقعۂ کربلا کے تعلیقات کے ذریعہ عصر حاضر کی تلخیوں کو اس قدر پر اثر انداز میں بیان کرتے ہیں کہ شعر میں غیر معمولی معنوی وسعت پیدا ہوجاتی ہے۔
چوتھے شعر میں ــزمین تنگ ہونا اورآسمان کا دروازہ وَا ہونے جیسے محاروں کے ذریعہ اُس دور میںفسادزدگان کی حالت زار کا بیان کیاگیاہے جب اپنی ہی زمین پر رہنا ان کے لئے مشکل ہوگیا تھا، ان لوگوں کی دشواری یہ تھی کہ پر آشوب حالات میں بھی ان کیلئے غیبی مدد نہیں آئی۔ایسے پرخطر موقع پر عرفان صدیقی اپنے رب سے سوال کرتے ہیں کہ اے خدا توتوسب کچھ جانتا ہے، واماندگان کی کیفیت واضطراب، تباہ حالی اوربے چارگی بھی تیرے سامنے تھی پھرآسمان کے دروازے اُن پر وَا کیوں نہیں ہوئے۔
پانچویں شعرمیں آگ اوراس سے ہوئی تباہی کا ذکرہے کہ جن لوگوں نے شعلہ سازی کی وہ بھی تواسی شہر کے لوگ تھے جن کی لگائی ہوئی آگ نے ہزاروں بے گناہوں کوخاکستر کردیا پھران کی گلی میںرقص ہَوا کیوں نہیں ہوا؟ رقص ہوا کی ترکیب اس شعر میں شعلہ سازی کی حریف بن کرسامنے آتی ہے کہ اگرشعلے کسی شئے کو جلاکرتباہ کرسکتے ہیں تورقص ہوا انھیں شعلوں کو ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچا کرویسی ہی تباہی لاسکتا ہے۔
غزل کا چھٹا شعر اخترالایمان کی نظم ’یادیں‘ کے اس مشہور مصرعے ’دیکھو ہم نے کیسے بسر کی اس آباد خرابے میں‘ کی یاد دلارہاہے، لیکن اخترالایمان اس نظم میں اپنے ذاتی کرب کا بیان کرتے ہیں مگر عرفان صدیقی کا کرب اجتماعی ہے اس پر خاک ہونے کا محاورہ تڑپتے اورمٹتے ہوئے شخص کی تصویر پیش کرتا ہے، یقینا یہ پیکر تراشی کی نایاب مثال ہے ایک ایسا محرک پیکر جس کا تصور ہی ہماری روح کولرزا دیتا ہے، ساتواں شعر شاعر کے ذاتی غم کا عکاس ہے مگر اسے بھی عرفان صدیقی نے’جذب عشق‘ کے ذریعہ کائناتی بنادیاہے۔
جیسا کہ عرض کیا جاچکاہے، کہ عرفان صدیقی نے علامات کربلا کے ذریعہ عصرحاضر کی نوحہ گری کی ہے۔ غزل کے آٹھویں شعرمیں گلوئے بریدہ کا استعارہ مظلوم انسانوں کی چیخ وپکار، فریادوفغاںاورآہ وزاری کی بھیانک تصویر پیش کرتا ہے، گلوئے بریدہ سے نالہ زن ہونے کی ترکیب نے شعر میں کربلا کے اس منظر کو متحرک کردیاہے کہ جب ظالم یزید نے مظلوم کربلا امام حسین کے سر کو شمر ملعون کے ذریعہ ان کے جسم اطہرسے جدا کردیاتھا۔ عرفان خدا سے گجرات فسادات کی نذر ہونے والے ان سینکڑوں گلوبریدہ جسموں کی نالہ زنی اورفریاد کے بے اثرہونے کا شکوہ کرتے ہیں جنہیں انسانیت کے دشمنوں نے بے دردی سے تہ تیغ کردیا اوران کے خون ناحق کو گجرات کی شاہراہوں پر بہایاگیا۔
آخر کے دونوں اشعار صنعت تضاد کی بہترین مثال ہیں، دوست، دشمن،ہوا ،نہیں ہوا جیسے الفاظ اشعار کی معنوی وسعت و تہ داری کے آئینہ دار ہیں ۔ یہاں شاعر کی بیقراری بغاوت میں تبدیل ہوجاتی ہے خصوصاً آخری شعر میں جب وہ خدا سے ہم کلام ہوتاہے تو اس کی بغاوت نقطۂ عروج پر پہنچ جاتی ہے عمل اورردعمل کا نظریہ اسے معبود حقیقی سے ٹکرانے پر مجبورکردیتا ہے اوروہ اپنے سوال کا جواب پانے کے لیٔ کسی بھی حد تک جانے کیلئے آمادہ نظر آتا ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ آج ہم جن مشکل حالات سے دوچار ہیں ان عوامل کا اندازہ مجھے ہے لیکن ایسے خراب حالات میںتیری ذمہ داری کیا تھی؟ تونے اپنے بندوں کی خبر کیوں نہیں لی؟
وقت اورحالات انسان کواپنے شکنجہ میں اس طرح جکڑلیتے ہیں کہ ایسے موقع پر گفتار کے اسلوب پر قابو رکھنا دشوار ہوجاتاہے اور وہ بے اختیار ہوکر اپنے رب سے شکوے کرنے لگتاہے۔ 2002ء کے روح فرساواقعات نے عرفان صدیقی کوایسے ہی دوراہے پر لاکرکھڑا کردیاجہاں ان کا درد اپنی انتہا کو پہنچ کر شعروں میں تحلیل ہوگیاتھا لیکن اس کے باوجود وہ اقبال کی طرح یہ نہیں کہتے :
اے خدا شکوۂ ارباب وفا بھی سن لے
خوگر حمد سے تھوڑا سا گلا بھی سن لے
بلکہ وہ تواس دنیا کے خالق وکارساز سے جواب چاہتے ہیں، غزل کا اختصاص یہی ہے کہ روایت سے استفادہ کے ساتھ عرفان صدیقی نے اپنے مخصوص استفہامیہ انداز اورلفظ ومعنی کے خوبصورت ادغام سے اس میں اپنے عہد کے اس سانحے کی حقیقی تصویر پیش کی ہے جس کی گونج آج تک ہمارے دل و دماغ کولرزادیتی ہے۔ تفحص الفاظ، تشبیہات واستعارات،شورعزاء، شعلہ ساز، رقص ہوا، جذب عشق، گلوئے بریدہ ‘نالہ زن جیسی ترکیبیںاور ’کیوں نہیں ہوا‘ کی ردیف جہاں عرفان صدیقی کی قادرالکلامی پردال ہیں وہیں یہ غزل لفظ کے Social Contactکی بھی مثال ہے۔ یعنی شاعر جس زمانے میںموجود ہوگا اس دور کی قدریں، تصورات، حالات یقینا اس پر اثرانداز ہوںگے اوراسی وجہ سے اس کی شاعری کواس کے عہد کے پس منظر میں زیادہ آسانی سے سمجھاجاسکے گا۔لیکن اس غزل کا اختصاص یہ ہے کہ اس میں کہیں بھی براہ راست گجرات کا ذکر نہیں کیاگیا۔اس کے باوجود ہمارے صفحۂ ذہن پر گجرات فسادات کے نقوش غیر شعوری طور پر ابھرنے لگتے ہیں۔ نیز ہمارے قلوب مظلوم کی حمایت کی طرف مائل ہونے لگتے ہیں اورظالم کیلئے ہمارے دلوں میں شدید نفرت کا احساس جاگزیں ہوجاتاہے۔ اس غزل کی ایک اہم خوبی یہ بھی ہے کہ دنیا میں کہیں بھی مظلوموں کو نشانہ بنایاجائے گا تو یہ ہر عہد کے ظالموں کے خلاف احتجاج مسلسل اور مظلوموں کیلئے استغاثہ نصرت بن جائے گی۔ غزل کا حسن اس کے زمانی ومکانی قیود سے آزاد ہونے میں مضمر ہے۔ غزل کا یہی جوہر اسے آفاقیت عطا کرتا ہے۔
٭٭٭
صدر شعبہ اردو کھن کھن جی گرلز کالج لکھنؤ





