9807694588
اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

مسرورتمنا
بڑے بے من سے وہ بستر سے اٹھی ابھی سردی کچھ کم نہی ہوی تھی
مگر وہ چائے کی عادت سے مجبور تھی
برس کرکے چائے لیکر وہ بستر میں غڑاپ سے گھس گئی
ایسا ہی موسم تھا جب عمارات اسکی زندگی میں ہلچل مچاگیا تھا دس سال گزر چکے تھے
سب کچھ بدلا تھا عمار بھی۔۔۔۔مگر وہ سعدیہ ممتاز نہی بدلی تھی
وہ شب و روز وہٕ تنہائی کی زندگی
مگر پھر بھی لبوں پر مسکراھٹ سجائے وہہر ایک سے خوش اخلاقی۔۔ سے۔پیش اتی رہی
وہ ایک نرم دل اور درد محسوس کرنے والی۔۔۔تھی۔۔۔محبت کی خمیر سے بنی ہوئی
جبھی تو اسکول کا سارا اسٹاف سعدیہ مس سعدیہ۔۔۔مس۔۔کہتے نہ تھکتا تھا
اس دن کو وہ بھول کر بھی نہی بھولی۔۔ اسکا نکاح طے ہو چکا تھا۔۔۔ سارا خاندان جمع ہو چکا تھا وہ لوگ بھی شامل تھے جو کبھی اسکے غم میں شریک نہی تھے
مگر عمار۔۔۔ وہ۔۔۔وہ۔۔ اپنی تبناک مستقبل کے چاہا میں سعدیہ کو دلہن۔۔بنا چھوڑ گیا
پھر سے واپس سارا خاندان دوران ہوگیا اسکی سسکتی ماں
کچھ دنوں تک جیتیرہی پھر وہ بھی سعدیہ کو تنہا کرگئی سعدیہ اس دن اخری بار پھوٹ پھوٹ کر روی۔۔۔۔۔تھی۔۔ پھر اس نے بچوں کی معصومیت۔۔میں غم کو بھولانے یا کوشش کی
وہ بہت اچھی ٹیچر تھی
اور بہت درد بھرا دل تھا اسکا
اس نے شہر بدل دیا تھا
آج اسکی کسی دوست کی شادی تھی ۔
پورے اسٹاف کے ساتھ وہ بھی شریک تھی۔۔۔ اسکی دوستی ناز سے کچھ دن پہلے ہوئی تھی
اسنے ابھی نیا نیا جواین کیا تھا اسکول میں
ناز۔۔۔سب کو اپنے شوہر سے ملوا۔۔۔رہی۔۔تھی۔۔ سانول رنگت موٹے نقوش والی۔۔ناز۔۔بہت خوش تھی
اور سعدیہ۔۔۔کو۔ اپنی۔۔آنکھوں پر یقین ہی نہی ارہا تھا۔۔ وہ بےشک۔۔عمار۔۔ ہی تھا سعدیہ پر نگاہ پڑتے ہی وہ۔۔پتھر کے بت۔۔کی۔طرح
جم گیا میری چند دنوں میں سب سے اچھی۔۔ سہیلی۔۔ پتہ ہے عمار۔۔۔۔۔سالوں پہلے۔۔۔ کسی نے اسے دلہن بنا کر چھوڑ دیا تھا آج تک کنواری۔۔۔ہے۔۔ مجھے۔۔ وہ۔مل۔جائے نہ تو مرمت کر ڈالوں
اور اچانک۔۔سعدیہ۔کا۔قہقہ۔۔۔ فضاں میں گونج اٹھا۔۔ اور عمار۔۔ جیسے زمین۔۔پر ڈھے گیا۔۔۔
ضضض





