Monday, March 2, 2026
spot_img
HomeMuslim World"بابائے قوم مہاتما گاندھی کا عدم تشدد اور ملک کے موجودہ حالات...

“بابائے قوم مہاتما گاندھی کا عدم تشدد اور ملک کے موجودہ حالات ایک لمحہء فکریہ۔!”

mravadhnama@gmail.com

9807694588

اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں

 

 

 محمد عباس دھالیوال۔
ہندوستان میں بیسویں صدی کے اوائل میں جدو جہد آزادی کے ہیروز کا جب ہم  ذکر کرتے ہیں تو بھگت سنگھ،کرتار سنگھ سرابھا،اودھم سنگھ سبھاش چندر بوس اورمہاتما گاندھی جیسے عظیم آزادی کے پروانوں کے نام ہماری آنکھوں کے سامنے سے گزر جاتے ہیں۔آج ہمارے اس زیر بحث مضمون کا موضوع ہندوستان کی مذکورہ جدو جہد آزادی میں اپنا نمایاں رول ادا کرنے والے  مہاتما گاندھی جی کی زندگی پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالتے ہوئے ملک کے موجودہ حالات کے پس منظر میں گفتگو کرنا ہے۔
بے شک آج ہندوستان کے بابائے قوم مہاتما گاندھی کو وفات پائے 70 سال سے اوپر کا عرصہ گزر چکا ہے اتنی طویل مدت گزرنے کے باوجود مہاتما گاندھی کی شخصیت کی حيرت انگيز مقبوليت ميں ابھی تک کوئی کمی نہيں آئی ہے۔
دنیا کے عظیم رہنماؤں میں سے جیسے مارٹن لوتھر کنگ، نيلسن مينڈيلا  سے لے کر بوراک  اوبامہ تک نے مہاتما گاندھی کو اپنے ليے ايک مثالی شخصيت قرار ديتے ایک طرح سے اپنا آئیڈیل تسلیم کیا ہے۔ پورے عالم میں اہنسا کے دوت کے طور پر جانے جاتےمہاتما گاندھی کا پورا نام موہن داس کرم چند گاندھی تھا ۔آپ 2 اکتوبر کو صوبہ گجرات میں پیدا ہوئے ۔ جب ہم مہاتما گاندھی جی کی زندگی کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ جنوبی افریقہ میں وکالت کے دوران گاندھی جی  نے رہائشی ہندوستانی باشندوں کے شہری حقوق کے سنگھرش کے لیے شہری نافرمانی کا استعمال پہلی بار کیا۔ 1915ء میں ہندوستان واپسی کے بعد، انہوں نے کسانوں اور شہری مزدوردں کے ساتھ بے تحاشہ زمین کی چنگی اور تعصب کے خلاف احتجاج کو بام عروج تک پہنچا یا۔ 1921ء میں انڈین نیشنل کانگریس کی قیادت سنبھالنے کے بعد، گاندھی نے ملک سے غربت کم کرنے، خواتین کے حقوق کو بڑھانے، مذہبی اور نسلی خیرسگالی، چھوت چھات کے خاتمہ اور معاشی خود انحصاری کا درس بڑھانے کی مہم کی قیادت کی۔ انہوں نے بھارت کوغیر ملکی تسلّط سے آزاد کرانے کے لیے سوراج کا پر عزم راستہ اختیار کیا۔اس کے علاوہ گاندھی نے مشہور عدم تعاون تحریک کی قیادت کی۔ جو 1930ء میں مارچ سے برطانوی حکومت کی طرف سے عائد نمک چنگی کی مخالفت میں 400 کلومیٹر  لمبا دانڈی نمک مارچ شروع کیا اس کے بعد 1942ء میں انہوں نے بھارت چھوڑو  تحریک کا آغاز کیا۔
آگے چل کر ہندوستان کے سیاسی اور روحانی رہنما اور آزادی کی تحریک کے اہم ترین کردار بنے۔ آپ نے حصول آزادی کے لیے ستیہ گرہ اور عدم تشدد کو اپنا ہتھیار بنایا۔ ستیہ گرہ، ظلم کے خلاف عوامی سطح پر منظم سول نافرمانی تحریک تھی جو عدم تشدد پر مبنی تھی ۔یہی تحریک آگے چل کر ساری دنیا کے لیے حقوق انسانی اور آزادی کی تحاریک کے لیے روح رواں ثابت ہوئی۔
مہاتما گاندھی يعنی عظيم روح کے القاب کو خود کچھ خاص پسند نہيں کرتے تھے وہ بہت شرميلے تھے۔ انہوں نے لندن ميں قانون کی تعليم حاصل کی۔
 دیش میں آج بھی آپ کو احترام سے مہاتما گاندھی اور باپو کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ جبکہ حکومت کی جانب سے آپ کو  بابائے قوم(راشٹر پتا) کے لقب سے نوازا گیا ۔ گاندھی کی یوم پیدائش یعنی دو اکتوبر (گاندھی جینتی) کے موقع پر بھارت میں قومی تعطیل ہوتی ہے اس دن ملک کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں یوم عدم تشدد اہنسا کے طور پر منایا جاتاہے
مہاتما گاندھی کی تعليمات پر اگر غور و خوض کریں تو اس کی تين بنياديں پہلو سامنے آتے ہيں ان میں سب سے پہلے عدم تشدد يا آہنسا، دوسرے سچائی پر مضبوطی سے جمے رہنا ساتھ ہی انفرادی سياسی حق رائے دہی يا سوراج کا حصول۔
گاندھی جی امن پسندی اور صلح جوئی کے قائل تھے وہ  اس ليے کیونکہ انہوں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور بدھ مت کی تعليمات کا مطالعہ گہرائی سے کيا تھا۔گاندھی نے اپنے خیالات  کا اظہار ايک مرتبہ کچھ اس انداز میں کیا کہ’’ميں جو کچھ ديکھتا ہوں وہ يہ ہے کہ زندگی موت کی آغوش ميں، سچائی جھوٹ کے درميان اور روشنی اندھيرے کے بيچ ميں اپنا وجود قائم رکھتی ہے۔ اس سے ميں يہ نتيجہ نکالتا ہوں کہ خدا زندگی، سچائی اور نور ہے اور وہ محبت اور اعلٰی ترين وجود ہے۔”
ایک جگہ وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و اسلام کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں
 کہ”مجھےپہلے سے زیادہ اس بات کا یقین ہو چلا ہے کہ اسلام نے تلوار کے زور پر اپنا مقام پیدا نہیں کیا، بلکہ اس کا سبب پیغمبر کا اپنی ذات کو کاملاً فنا کرنا، حد درجہ سادگی، اپنے وعدوں کی انتہائی ذمہ داری سے پابندی، اپنے دوستوں سے انتہائی درجے کی عقیدت، دلیری، بے خوفی، اپنے مشن اور خدا پر پختہ ایمان ہے”. شاید اس انھیں روایات سے متاثر ہوکر عدم تشدد کے پیشوا طور پر پوری دنیا میں اپنی منفرد و ممتاز حیثیت رکھنےوالے گاندھی جی نے سچ بولنے کی قسم کھائی تھی اور دوسروں سے  بھی ایسا ہی  کرنے کی وکالت کرتے تھے۔ آپ سابرمتی آشرم میں رہتے اور سادہ زندگی بسرکرتے تھے۔ لباس کے طور پر روایتی ہندوستانی دھوتی اور شال کا استعمال کرتے، جو وہ خود سے چرخے پر بُنتے تھے۔ وہ سادہ اور سبز کھانا کھاتے اور روحانی پاکیزگی اور سماجی احتجاج کے لیے لمبے اُپواس رکھتے تھے۔
گاندھی پر تحقیقی کام کرنے والے امريکی مائيکل نيگلر کے آپ کے نظریات پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ: ’’اُن ميں وقت کے دھارے کے خلاف چلنے کی ہمت تھی۔ انہيں ايک پرانی، بھلا دی جانے والی دانشمندی کو اس طرح زندہ کرنے ميں کاميابی ہوئی کہ اُسے ہمارے جديد دور ميں بھی استعمال کيا جا سکتا تھا اور وہ سب کے ليے قابل فہم بھی تھی۔ اس طرح اُنہوں نے بنی نوع انسان کی دريافتوں ميں سے ايک بڑی دريافت کی، يعنی يہ کہ عدم تشدد ايک ايسا ہتھيار ہے، جو ہر شخص ہرصورتحال ميں استعمال ميں لا سکتا ہے۔‘‘ مہاتما گاندھی جنکی سوچ و نظریات کو دنیا کی عظیم شخصیات نے اپنایا اور اپنی زندگی میں ڈھالا۔ افسوس کہ آپ کے انھیں نظریات کو اپنے ہی ملک کے چند مٹھی بھر لوگوں نے اپنانے سے انکار کر دیا اور آپ سے اختلاف رائے رکھنے والوں میں سے ایک شخص نتھو رام گوڈسے نے 30جنوری، 1948 کو آپ کو گولیوں سے  چھلنی کر تے ہوئے شہید کر دیا۔ اسی ضمن میں مہاتما گاندھی کی موت اور ملک کی آزادی کے پس منظر میں ایک شاعر نے تلخ حقیقت کو طنزیہ انداز میں اس طرح سے پیش کیا تھا کہ:
ذلیل قوم یہ ذلت بھی دیکھ لی تیری
سفینہ توڑ دیا جب تجھے کنارہ ملا
ہمارا ملک آج جن حالات سے دوچار ہے  یعنی جس طرح سے آئے دن ملک میں  پر تشدد واقعات پیش آ رہے ہیں۔ مذہب کی بنیاد پر ایک دوسرے کے خلاف منافرت پھیلائی جا رہی ہے اور جیسے آئے دن ملک میں بچیوں کے ساتھ جسمانی استحصال اور  زنا بالجبر کے دلخراش واقعات سامنے آرہے ہیں اور خواتین کے خلاف جرائم میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔جس کے چلتے عالمی تحقیقی ایجنسی تھامسن فاؤنڈیشن نے اپنی ایک رپورٹ میں  ملک کا عکس پوری دنیا میں منظر عام پر لاتے ہوئے یہ خلاصہ کیا کہ ہمارا  ہندوستان دنیا میں عورتوں کے لیے غیر محفوظ ممالک کی فہرست میں سب سے اول نمبر پر آتا ہے یقیناً اس سے ملک کی امیج کو جہاں دنیا میں دھکا لگا ہے وہیں ہم اہل وطن کے لیے بھی باعث شرم بات ہے اس کے علاوہ  جس طرح سے ملک میں بے روزگار نوجوانوں کی تعداد میں آئے دن اضافہ ہو رہا ہے وہ ہم سب سب کے لیے باعث تشویش اور غور و خوض کرنے والی بات ہے ۔ حالیہ برسوں میں  جس طرح سے ملک میں ماب لنچنگ کے نام پر بے گناہوں کا سر عام خون بہائے جانے والے واقعات ایک بعد ایک رونما ہوتے جا رہے ہیں اور اس ضمن میں صوبائی اور مرکزی سرکار کی جانب سے ایسے جرائم پیشہ عناصر کیخلاف کاروائی نہیں ہوتے ہوئے دیکھ سپریم کورٹ  تک کو فٹکار لگانی پڑ رہی ہے وہ یقیناً ہم سب کے لیے لمحہ ء فکریہ والا مقام ہی ہے۔
اس کے علاوہ  پٹرول ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں کے بیچ جس طرح سے ملک میں مختلف خوردنی اشیاء کی قیمتیں لگاتار بڑھ رہی ہیں یقیناً ان سبھی  کا اثر یا خمیازہ ملک کے غریب و متوسط عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے ۔یہ بھی پورے ملک کے تشویش ناک ہے
ملک کی دفاعی صلاحیت و قوت کو بڑھانے کے لیے رافیل ڈیل جیسے سودوں کو لیکر جس طرح سے ایک کے بعد ایک خاصے سامنے آ رہےہیں اس سے عوام کے دلوں میں جو ایک غیر یقینی والی صورت حال پیدا ہو رہی ہے وہ ہم اہل وطن کے لیے فکر کا مقام رکھتا ہے۔
یقیناً دیش کےمذکورہ حالات و واقعات کا جب بابائے قوم مہاتما گاندھی جی کی روح کو علم ہوتا ہوگا تو ان کی روح کو ضرور تشویش ہوتی ہوگی۔اور بابائے قوم یہی سوچتے ہوں گے کہ اپنے جیتے جی ایسے ہندوستان کا تو کبھی انھوں نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔!
لیکن ایسا لگتا ہے کہ مذکورہ تکلیف دہ حالات  کا احساس آج نہ تو قوم کے موجودہ رہنماؤں کو ہے اور نہ ہی اس  درد کا احساس ہمارے ملک کے حکام کو ہو سکتا ہے۔شایداسی لیے اکبرا لہ آبادی نے کبھی کہا تھا کہ:
قوم کے غم میں ڈنر کھاتے ہیں حکام کے ساتھ
رنج لیڈر کو بہت ہیں مگر آرام کے ساتھ۔۔۔
RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular