سید خورشید انور
رومی نواب

لکھنو اپنی تہذیب، نفاست، نذاکت اور ثقافت کے علاوہ علم و ادب کے لئے بھی پہچانا جاتا ہے۔ سر زمین لکھنونے ہمیشہ دنیا کو یک سے ایک عظیم فنکا، شاعراور مصنّف دئے۔ جہاں عہد قدیم میں کفایت اللہ جیسا نقشہ نویس گزرا جسکا بنایا ہوا شاہ کار آمام باڑہ آصفی آج بھی دنیا کو دعوت فکر دے رہا ہے تو دوسری طرف سوداؔ، میر تقی میرؔ ، ناسخؔ ، مرزا دبیرؔاور میر انیسؔ جیسے عالمی شہرت یافتہ شاعر ہوئےجنہوں نے لکھنو میں سکونت اختیار کی اور اس شہر کی شُہرت کو چار چاند لگا دئے۔ وہیںعہد شاہی میں ایک ایسا منفرد شاعر بھی گُزرا ہے جولکھنو کا تو نہ تھا مگر لکھنو اُسکی رگ رگ میں بسا ہوا تھااور جو گم نامی کے اندھیروں میں غرق ہو گیا۔کیونکہ اُسکا انداز شاعری منفرد تھا ناتو اُس سے پہلے کسی نے اس رنگ کو اختیار کیا تھا اور ناہی اُسکےبعد۔
اُسکے اس انوکھے انداز کی وجہ سےدنیائے ادب نے اُس سے دوری اختیار کر لی۔نا تو اُس پر کبھی کسی نے کچھ لکھا اور نا ہی اُسے یاد کیا گیا۔ جبکہ کچھ مصنّفین نےکبھی کہیں اپنی ضرورت کے مطابق اسکا ذکر کیا ہے مگر یہ ذکرنا کے برابر ہے ۔مگر پھر بھی وہ شاعر قدیم معاشرے اور لوگوں کی زبان زد رہا جسکی وجہ سے لوگ اُسکے نام کے بجائے تخلص سے واقف ہیں اور اُسکے تخلص کو ہی اُسکا نام سمجھتے ہیں۔
دور حاضر میںنوجون نسل میں شاید ہی کوئی چرکینؔ کے نام سے واقف ہو۔ لیکن ہمارے ہم عمر افراد میں شاید ہی کوئی ایسا ہو جس نے چرکین کا نام نہ سنا ہو اور دوچارشعر چرکینؔ کے نہ سنے ہوں یا ایک دواشعار یاد نہ ہوں۔ ان تمام باتوں کے باوجود لوگ اس سے زیادہ چرکینؔ سے واقفیت نہیں رکھتے تھے یا ہیں۔کیونکہ لوگ چرکین ؔکا نام لیتے بھی شرماتے تھے۔ بے تکلّف دوستوں کی محفل میں تو چرکینؔ کا ذکر ہوتا تھا مگر وہ بھی محدود دائرے میں ۔ یا یوں کہا جائے کہ جسکو جتنے اشعاریاد ہوتےاُس سے زیادہ نہیں۔مگر سنجیدہ افراد اس سے دور ہی رہتے تھے۔ کیونکہ چرکینؔ کی شاعری کا انداز جدا تھا ۔اُنکا ہر ایک شعر غلاظت میں تر بتر،بول براز اور بدبو سے رچا بسا ہوتا تھا۔چرکینؔ سے پہلے کسی بھی شاعر نے ’’بول براز‘‘ کو اپنا عنوان سخن نہیں بنایااور ناہی اُنکے بعد کوئی ایسا شاعر ہوا جس نے ’’بول براز‘‘ پر جولانی طبع دکھائی ہو ۔میاں چرکینؔ اس سنف سخن کے واہد شاعر تھے۔ اسلئے لوگ چرکینؔ کے ذکر سےبھی دور رہنا پسند کرتے تھے۔چرکینؔ کے انداز بیان کی وجہ سے اُنکے کلام کو اردو ادب میں کوئی مقام نہیں ملااور لوگ اُن سے نا واقف رہے۔ اگر کوئی چرکین کا ذکر کرتابھی تو اس شعر کے ساتھ:
چاندنی کے کھیت میں ہگنے جو بیٹھا ماہ رخ
لینڈ خم کھا کر ہلالے چرخ گردوں ہو گیا
اسکے علاوہ ایک دو شعر اور تھے جو لوگوں کے زبان زد تھے۔ ان میں سے ایک شعر یہ ہے:
بیت الخلا میں کوئی باجا سا بج رہا ہے
جیسے کوئی حسینہ دستون میں مبتلا ہو
(نوٹ: میرے پاس موجود دیوان چرکینؔ میں یہ شعر موجود نہیں ہے)
اسی طرح میں نے بچپن میں ایک بزرگ کی زبانی چرکین ؔکاایک شعر سنا تھا جس کو میں یہاں پر درج کررہا ہوں:
چرکدم پوکدم پیخانہ کردم
ہزاروں پھسکیاں دل شاد کردم
(نوٹ: میرے پاس موجود دیوان چرکینؔ میں یہ شعر بھی موجود نہیں ہے)
اسی طرح پرانے لکھنو میں اکثر شادیوں میں عورتیں چرکینؔ کا ایک مخصوص کلام گایا کرتی تھیں۔ جسکے دو شعر ہی دیوان چرکین میں مجھے ملے۔مگر باقی کے اشعار نہیں ملے شاید دیگر دیوان میں موجود ہوں۔جن کو میں آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں:
کسی کے پاد سے اُڈتے نہ کنکری دیکھی
اُڈائے دیتا ہے بھنگا پھاڑ پھسکی سے
چٹک چٹک کے وہ جاتی ہیں ناد کے باہر
اُڈائے دیتا ہے بھجوا جوار پھسکی سے
چنے کی روٹی سے کھاتا ہے بیگنی بھرتا
بسا ہوا جو سارا دھوار پھسکی سے
جہاں بھی موتنے بیٹھی تو ٹھس سے پاد دیا
وہیں پہ ہو گیا ننھا سا غار پھسکی سے
دلہن نے بیٹھ کے ڈولی میں اس طرح پادا
بیہوش ہو گئے سارے کہار پھسکی سے
میرے پاس چرکینؔ کے دو دیوان کے عکس موجود ہیںجس میںایک دیوان جو کہ ۳۳صفحہ پر مشتمل ہے اس پر جلی حروف میں ’’دیوان چرکین‘‘ لکھا ہے اور اُسکے نیچے’’ بااہتمام حبیب احمد بن جناب حاجی غنی احمد صاحب مدظلّہ۔ مطبع رذّاقی پریس کانپور ‘‘لکھا ہے مگر سنہ اشاعت درج نہیں ہے۔ دوسرا دیوان جو۳۲ صفحات پر مشتمل ہے کے آخری صفحہ پر ’’مکتبہ عبدالحمید قریب مسجد پختہ و صوبہ سہور ضلع بھوپال‘‘ لکھا ہے اس میں بھی سنہ اشاعت غائب ہے۔ان دونوں دیوان میںمندرجہ بالا اشعار میں سےچند ایک توملتے ہیں مگر کچھ شعر نہیں ملتے ۔ ایسا لگتا ہے کہ لوگوں نے اپنے مزاق کے مطابق عزافہ کر لیا ہو؟کیونکہ قافیہ پھسکی کےپہلے دو شعر تودیوان چرکینؔ میں موجود ہیں۔شاید باقی کے اشعار اضافی ہیںیا پھر کسی دیگر دیوان میں موجودہوں۔ پھسکی کی بو سے معطر یہ اشعار جو کہ غلازت سے پاک ہیں اسلئے خواتین زنانہ محفلوں میں ترنم کے ساتھ گاتی تھیں۔ابھی بھی پرانے لکھنو کی ظعیف العمر خواتین کو یہ شعر زبانی یاد ہیں۔
اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ چرکینؔ نے یہ رنگ کیوں اختیار کیا؟کیا چرکینؔ کا رجحان شروع سے ہی اس طرف تھا یاحالات نے انہیں اس رنگ کو اختیار کرنے پر مجبور کر دیا؟ان سوالات کا جواب کہیں نہیں ملتا۔بزرگوں کی زبانی سنا ہے کہ چرکینؔ ایک مہذّب شاعر تھے اور سنجیدہ کلام کہتے تھے۔اُنکاکلام بہت عمدہ اور پاکیزہ ہوتا تھا مگر لوگ اُنکا کلام چُر ا کر اپنے نام سے پڑھ دیا کرتے تھے۔یا یہ کہ اُنکا دیوان چوری ہو گیا تھا جسکی وجہ سے وہ بہت افسردا ہوئے ۔تو انہوں نےعاجز ہوکر اس اندازکواختیار کیا۔ اور انہوں نے’’ گو موت، پاد پھسکی‘‘ جیسی چیزوں کو اپنے اشعار میں جگہ دی۔ یہ بات کتنی سچ ہے واللہ عالم۔
مگر یہ حقیقت ہے کہ چرکینؔ کا کوئی بھی شعران چیزوں سے محروم نہیں ہے۔ بُزرگوں کی زبانی سنا ہے کہ ایک بار میاں چرکینؔ کسی مثالمہ میں پہنچ گئےاور پڑھنے کی خواہش ظاہر کی تو لوگوں نے منع کردیا۔ بہت اسرار کے بعد انکواجازت ملی مگر تاکید کے ساتھ کہ آپ تہذیب کے دائرے میں رہ کر اشعار پڑھیں۔ میاں چرکینؔ نے ہامی بھر لی اور سر محفل یہ مصرع پڑھا:
رن میں جس دم تیغ کھینچی حیدر کرار نے
اس مصرع پر لوگوں نے خوب داد دی۔ چرکینؔ نے اس مصرع کو دو تین بار پڑھا پھر واپس اپنے رنگ میں آتے ہوئے دوسرا مصرع یوںپڑھا اور محفل سے چلتے بنے۔ وہ مصرع یہ ہے:
ہگ دیا دہشت کے مارے لشکرِ کفّار نے
اس واقع میں کتنی صداقت ہے وہ تو نہیں معلوم ۔ مگر اُنکے دیوان میں یہ شعر موجود ہےاور اس قافیہ ردیف میں دوسرااور کوئی شعر نہیں ملتا ہے۔ چرکین ؔکے انداز شاعری کی مثال ان سے پہلے نہیں ملتی یا یوں کہا جائے کہ چرکینؔازخود پیدا شدہ شاعر ہیں تو غلط نہ ہوگا۔اخر چرکینؔ نے یہ رنگ کیوں اختیار کیا اس سوال کا جواب ملنا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے۔ اگر آپ چرکین کے کلام کا مطالعہ کریں تو آپ پہلی نظر میں اسکو فحاشی سے تعبیر دیں گے۔ مگر یہ حقیقت نہیں کیونکہ چرکینؔ نے صرف ’’بول وبراز‘‘ کو اپنے کلام میں جگہ دی ہے۔آپ چرکینؔ کے کلام کو بغور تنقیدی نگاہ سے دیکھیں تو آپ کو چرکینؔ کا انداز بالکل مختلف نظر آئے گا۔ اس میں جہاں دل لگی ہےوہیں مزاہیہ اشعار بھی ہیں اوران سب کے بیچ انہوں نے اپنے انوکھے انداز میں معاشرے پرخوب طنز بھی کیا ہےنمونے کے طور پر یہ شعر دیکھیں:
سگ دنیا ہیں یہ کہاں جود و سقا رکھتے ہیں
گو بھی بلّی کی طرح سب سے چھپا رکھتے ہیں
اس شعر میں جہاں چرکینؔ نے’’ سگ دنیا ‘‘کو نظم کیا ہے یعنی کچھ لوگ’’ دنیاوی کتّے‘‘ ہیں ۔ کتّے کی خصلت یہ ہے کہ وہ کبھی مل باٹ کر نہیں کھاتا۔یا یوں کہا جائے کہ معاشرے میں پھیل رہی خودغرضی کو ’’سگ ‘‘ سے تشبیہ دی ہے۔اور اس بات کی وضاحت دوسرے مصرع میں یوں کی گئی ہے کہ ’’گو بھی بلّی کی طرح سب سے چھپارکھتے ہیں‘‘بلّی کا گو چھپانایہ ایک مہاورہ ہے جواکثر لوگ بول چال میںخودغرض افراد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ یہ مہاورہ چرکینؔ نے بہت خوبی سے استعمال کیا ہے کیونکہ یہ مہاورہ بھی اُنکے رنگ میں رنگا ہوا ہے۔اسی طرح انکے بہت سے اشعار ہیں جو سماج پرطنز ہیں۔
اس شعر کو دیکھیں اس میں چرکینؔ نے خزا کے آنے اور اُس کے بعد کا منظر اپنے مقصوص انداز میں کیاہے ۔ جو کہ کسی اور کے بس کی بات نہیں۔
ہیں گو کے جہاں ڈھیر وہاں خرمنِ گل تھا
کب سبز قدم باغ میں آیا تھا خزاں کا
اسی طرح ایک اورشعر میں یہاںپر پیش کر رہا ہوں جو شاعر کی دلی کیفیت کو بیان کر رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ یہ تو میری خوش قسمتی ہے کہ میں بھی آدم کی طرح(گل) یعنی مٹّی سے بنا ہوں اور ایک دن مٹّی ہی میں مل جائوں گا۔مگر یہ میری بد قسمتی ہے کہ کسی نے مجھے ہاتھ تو لگانا دور پائوں بھی نہ لگایا۔
گل آدم میری قسمت نے بنایا مجھ کو
ہاتھ کیا پائوں کسی نے نہ لگایا مجھ کو
اسی طرح یہ بھی شعر دیکھیں جس میں شاعر نےدو مشہور مہاورےکس خوبی سے استعمال کئے ہیں جو کہ عام بول چال میں ہرکوئی استعمال کرتا ہےایک’’ جیسی کرنی ویسی بھری‘‘ دوسرے’’جو آگ کھائے گا وہی انگارے ہگے گا‘‘ کا کیا خوب استعمال کیا ہے:
جیسی کرتا ہے کوئی ویسی ہی پیش آتی ہے
کھائے جو آگ ہگےگا وہی انگارے سرخ
چرکینؔ کانام کیا تھا ؟ یہ بہت کم لوگ جانتے ہیں مگر دور حاضر میں تو شاید کوئی بھی نہیں جانتاہو کہ اُنکا نام کیا تھا؟ وہ کہاں کے رہنے والے تھے؟ کب پیدا ہوئے؟ وغیرہ وغیرہ۔ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب بہت کم ملتا ہے۔ کیونکہ جو بھی دیوان اُنکے کلام کے چھپتے تھے ان میں اُنکا تعرف نہیں ہوتا تھا ۔ شائیداسلئے کہ لوگوں میں انکے کلام سے دلچسپی توتھی مگر انکے حالات زندگی سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ اس انداز میں چرکینؔ کےدیوان کا ملنا جس میں چرکینؔ کا کلام تو ہے مگر اُنکے حالات زندگی یا انکا تعرف درج نہیں ۔ یہ ٹھیک اسی طرح ہے جیسے کسی زمانہ میں میلے ٹھیلے میں یا ہفتہ وار بازاروں میں لگنے والی پٹری دوکانوں میں فلمی گانوں کے کتابچہ ایک ایک آنے میں بکا کرتے تھے اور لوگ اپنے من پسند گلوکار کے گانوں کا کتابچہ خرید کر لطف اندوز ہوتے تھے۔ اسی طرح چرکینؔ کا یہ مختصر دیوان بھی بکتا ہوگا۔ کیونکہ لوگوں کی دلچسپی صرف کلام میں ہوتی تھی اسلے ان مختصر دیوان میں شاعر کے حالاتِ زندگی درج نہیں کئے گئے۔
اب میں یہاں پر ماھنامہ ’’نیا دور‘‘ اودھ نمبر (حصہ دوئم) متبوعہ ’’اکتوبر۔ نومبر ۱۹۹۴ء سے جناب اسلم محمود صاحب کے ایک مضمون کا ذکر کر رہا ہوں جسکا عنوان ہے ’’ اودھ اور اطراف کے چند انوکھے اُردو مطبوعات‘‘ ۔ اس مضمون میں اسلم صاحب نے ۱۶ نادر و نایاب کتابوں کاتعرف پیش کیا ہےجو کہ دستعاب نہیں ہیں۔ جن میں ۹ نمبر پر دیوان چرکین ؔ کا ذکر ہے۔( ماھنامہ نیا دور کے ایڈیٹر صاحب نے لکھا ہے کہ یہ کتابیں بہت اہم ہیں اور اسلم محمود صاحب کے پاس دیکھا بھی جا سکتا ہے)جس کو پڑھنے سےچرکینؔکے کچھ حالات زندگی کی معلومات ہو تی ہے اسلم صاحب کے مضمون کے مطابق :
دیوان چرکین ۔ مصنف شیخ باقر علی چرکینؔ۔ مطبع کا نام اور مقام اشاعت درج نہیں ۔ ۱۲۷۳ھ صفحات ۴۲ ، یہ چرکین ؔ کے دیوان کا پہلا ایڈیشن ہے، دیوان حوض و حاشیے میں چھپا ہے۔ سر ورق اور ترقیمہ میں مطبع کا نام درج نہیں کیا گیا ہے۔البتہ کاتب کا نام چیت رام ہے جس کا قطعۂ تاریخ طباعتِ دیوان کتاب کے آخری صفحے پر شامل ہے۔ ایک قطعہ تاریخ میر یار علی جان ؔ صاحب ریختی گو کا بھی ہے جس کے ذیل کے مصرع تاریخ سے سال ۱۲۷۳ھ نکلتا ہے۔ ’’ سُنا بی جان باجی کل چھپا چرکینؔ کا نسخہ‘‘۔ یہ دیوان ۱۲۷۳ھ مطابق ۵۷۔۱۸۵۶ء کا چھپا ہوا ہےاور قیاس ہے کہ لکھنو میں ’’غدر‘‘ سے کچھ قبل چھپا ہوگا۔ اس میں یہ بھی ذکرہے کہ:
’’عرصہ پچیس برس کا ہواکہ مصنف لکھنو سے زیارتِ کربلائے معلی کے لئے رونہ ہوئے تھے اور دورانِ سفرِ جہاز اختلاف آب و ہوا سے بیمار ہوئے ۔ کسی جزیرےپر جہاز روکا گیا اور وہاں کے ایک انگوری باغ میں چرکینؔ کی موت ہوئی۔ صاحب ِ باغ نے رحم کھا کردفن فرمایا‘‘
اس اقتباس سے یہ تو پتہ چلتا ہے کہ چرکینؔ کی وفات عالم غربت میں کسی انجان جزیرہ پر ہوئی مگر انتقال کی تاریخ درج نہیں ہے۔
اسلم محمودصاحب آگے لکھتے ہیں کہ :
چرکینؔ غالباً دنیا کا واحد شاعر ہے جس نے بول براز کے متعلق شاعری کو اپنی فکر کا موضوع بنایا اور اس میدان میں جولانی طبع دکھائی۔اس رنگ میں اٹھارھویں صدی کے انگریز ادیب جون ایتھن سوئفٹ(JONATHAN SWIFT) نے بھی تھوری بہت شاعری کی تھی۔ لیکن چرکینؔ کے صاحب کمال ہونے میںشک نہیں۔ کلام کےنمونے آزادی کے ساتھ نہیں دئے جا سکتے۔
اس دیوان چرکینؔکی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں بیشتر کلام ایسا ہے جو بعد کے عام بازاری ایڈیشنوں میں نہیں ہے یا حدف کر دیا گیا ہے۔ ہاں کچھ قلمی نسخوں میں اس دیوان سے زیادہ بھی کلام ملتا ہے۔ یہ المیہ ہےکہ چرکینؔ ایسےعجیب و غریب شاعر کو مکمل طور سے نظر انداز کر دیا گیا ہے اور اُردو میں شایدسنجیدگی سے کوئی مضمون بھی اسپرنہیں چھپا۔
شیخ باقر علی چرکینؔیوں تو محتاجِ تعارف نہیں ہیں ۔ کیونکہ اُن کا منفرد کلام ہی انکاتعارف ہے۔ مگر اُن کے حالات زندگی پر کچھ روشنی ڈالنا ضروری ہے۔ جیسا کہ چرکین ؔ کا نام شیخ باقر علی تھا ۔ کچھ لوگوں نے جعفر علی بھی بتایا ہے۔ مگر شیخ باقر علی مستند ہے۔ کیونکہ ۱۲۷۳ھ مطابق ۵۷۔۱۸۵۶ء کا چھپادیون چرکین ؔجو کہ پہلا ایڈیشن ہےاسمیں نام شیخ باقر علی درج ہے ۔یہ دیوان مقصود عالم مقصودؔ نے مرتّب کیاتھا جو کہ مرزا غالبؔکے شاگرد تھے۔شیخ باقر علی چرکینؔ اورمقصود عالم نواب عاشور علی خان بہادر لکھنوی کے بھی شاگردی میںرہے اسلئےشیخ باقر علی اور مقصود عالم آپس میں استاد بھائی ہوئے۔
مندرجہ بالا اسلم صاحب کے مضمون کے مطابق دیون چرکین ۵۷۔۱۸۵۶ء میں چھپاتھا جس میں مقصود نے لکھا کہ ’’ پچیس برس قبل چرکینؔ لکھنو سے زیارتِ کربلائے معلی کے لئے رونہ ہوئے تھے اور دورانِ سفر اُن کی موت ہوئی۔یعنی۳۱۔۱۸۳۰ء میں اُنکا انتقال ہواہو گا۔مگر کہیں بھی اُنکی ولادت کی تاریخ درج نہیں ہے۔
شیخ باقر علی چرکینؔ قصبہ ردولیضلع بارہ بنکی میں پیداہوئے تھے۔اُنکے والد کا نام شیخ فضل علی تھا۔شوق شاعری اُنکو لکھنو لے آیا نواب عاشور علی خان کے شاگرد ہوئےاور انہوں نے لکھنو میں مستقل سکونت اختیارکر لی۔ جسکی وجہ سے لوگ اُنکوچرکین ؔ لکھنوکہنے لگے۔یہ تھا مختصر تعرف شیخ باقر علی چرکین ؔ کا ۔ اب میں یہاں پر نکے چنداشعار جو مختلف نظموں سے لئے ئے ہیں پیش کر رہا ہوں ۔ جو کہ بہت ساف ستحرے ہیں:
چمن میں جاتا ہوں تو بوئے گل سے میرے
دماغ سڑتا ہے ہوتا ہے درد سر پیدا
تو نے آنا جو وہاں غنچہ دہن چھوڑ دیا
گل پہ پیشاب کیا ہم نے چمن چھوردیا
اپنے ہی سڑے ٹکڑوں پہ کی ہم نے قناعت
چکھا نہ متنجن کسی نواب کے خوان کا
سُنتے ہیں کہ ایک پھول ہے اس کا رخِ رنگیں
پایا پتہ ہم نےنہ کبھی اس کے نشاں کا
گردنِ شیخ پہ رندوں نے رکھا بار گناہ
کھاد اُٹھوانے کو اچھا یہ کیا خر پیدا
گائودی غیر ہے پتھوائے اُپلے اس سے
گائو خانے میں جو ہرروز ہو گوبر پیدا
9839480898





