دور حاضر میں سیاسی رہنمائوں کومولانااآزادکی سیاسی بصیرت کی ضرورت : ظفر یاب جیلانیمولانا اآزاد ماہر تعلیم ہی نہیں، مفکر تعلیم بھی تھے:ڈاکٹر عبد القدوس

لکھنؤ 12نومبر:مولاناآزاد مختلف اوصاف کے حامل تھے ،ان کے افکار کی معنویت یہ ہے کہ حالات سے کبھی مایوس نہ ہوں،وہ جس دور میں تھے وہ غلامی کا دور تھا لیکن پھر بھی مولانانے مثبت سوچ کے ساتھ اپنی سیاسی ،صحافتی اور مذہبی دور اندیشی کا ثبوت پیش کیاجس کے نتیجہ میں جدید ہندوستان کی تعمیر ممکن ہو سکی ، ان خیالات کا اظہار مولانا خالد ندوی غازی پوری نے اپنے کلیدی خطبے میں کیا۔
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے لکھنؤ کیمپس میں ہر سال کی طرح اس سال بھی’ آزاد ڈے’ اور ‘ قومی یوم تعلیم’ کے موقع پر پروگرام بعنوان ” عصر حاضر میں مولانا آزاد کے افکار کی معنویت ” کا اہتمام کیا گیا جس میں مولانا غازی پوری نے مزید کہا کہ مولانا آزاد کی مثبت سوچ اور مفکرانہ پیغامات کا تقاضا ہے کہ ہم حالات سے نہ گھبرائیں. مولاناآزادا نے پر آشوب دور میں بھی ڈر اور کسی طرح کی مداہنت کا سہارا نہیں لیا، قلعہ احمد نگر جیل میں قید و بند کو جھیلنے کے باوجود انہوں مظاہر قدرت سے مثبت سوچ کے سہارے کارہائے نمایاں انجام دیئے۔ دور حاضر میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کریں۔ مولانا آزاد کی زندگی سے ہمیں حقیقت پسندی کا درس ملتا ہے۔.
ماہر قانون اور مسلم پرسنل لا بورڈ کے ممبر ظفر یاب جیلانی نے اپنے صدارتی کلمات میں کہا کہ مولانا آزاد سرسید سے متاثر تھے، میں نے ان دونوں شخصیات میں ایک صفت مشترک دیکھی کہ دونوں کے اندر خدا پر کامل یقین اور پختہ ایمان بدرجہ اتم پایا جاتا تھا. سرسید نے لاکھ مخالفت کے باوجود اسباب بغاوت ہند لکھ کر انگریز ظالموں کو آئینہ دکھانے کا کام کیا تھا اور مولانا آزاد نے بھی انڈیا ونس فریڈم لکھ کر انگریزوں کے ظلم و استبداد کی تاریخ کے ساتھ ساتھ آزادی کی تحریک کی منافقتوں کو اجاگر کرنے کا کام کیا ہے۔ ان کے قلم سے ایسی تحریریں نکلیں جو افکار عالیہ میں شمار ہو رہی ہیں۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ نئی نسل کو مولاناآزاد کی شخصیت اور ان کے کارناموں سے متعارف کرایا جائے۔
. پروگرام کا آغاز عمار احسن (ایم اے، عربی) کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔ اس کے بعد مبشرہ لئیق (ایم اے، اردو) نے حمد باری پیش کیا. بشری ، ھما ،خوشندا، زیبا اور مبشرہ نے ترانہ مانو پیش کیا. اس موقع پر مانو لکھنؤ کیمپس کے انچارج ر ڈاکٹر عبدالقدوس نے معزز مہمانوں کا خیر مقدم کیا. انہوں نے کہا کہ مولانا آزاد نہ صرف ماہر تعلیم تھے بلکہ مفکر تعلیم بھی تھے.مولاناآزاد ہی نے یوجی سی کی بنیاد رکھی جس کی وجہ سے ہندوستان میں نظام تعلیم مستحکم ہوا۔
نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے ڈاکٹر ثمامہ فیصل نے اپنی گفتگو میں کہا کہ مولانا آزاد جیسی عبقری اور آفاقی شخصیت صدیوں میں پیدا ہوتی ہے. ان کا قلم متنوع موضوعات پر اس طرح جلوے بکھیرتا تھا کہ صدیوں تک ان سے رہنمائی حاصل کی جاتی رہے گی۔ اس موقع پر کیمپس کے تمام اساتذہ ، طلبہ و طالبات ، کارکنان اور شہر کی معزز شخصیات موجود تھیں۔





