Wednesday, February 25, 2026
spot_img
HomeMuslim Worldمولانا ا ٓزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی کے لکھنؤ کیمپس کی نئی...

مولانا ا ٓزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی کے لکھنؤ کیمپس کی نئی عمارت کا پروقار افتتاح

وائس چانسلر نے لکھنؤ کیمپس کو ایک بڑے مرکز کے طورپر فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا

میں لکھنؤ کیمپس کو ایک بڑے تعلیمی مرکز کے طور پر فروغ دینا چاہتا ہوں ۔تاکہ شمالی ہند کے لوگوںکو تعلیمی ترقی کے مواقع فراہم کیے جاسکیں ۔ان خیالات کا اظہار مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمداسلم پرویز نے لکھنؤ کیمپس کی نئی عمارت کی افتتاحی تقریب کے دوران کیا ۔واضح رہے کہ مانولکھنؤ کیمپس کی یہ نئی عمارت ٹیگور مارگ نزد شباب مارکیٹ واقع ہے ۔ افتتاحی تقریب کا آغاز محمود الحسن نے تلاوت کلام پاک سے کیا ۔کیمپس کی طالبات نے یونی ورسٹی کاترانہ پیش کیا ۔کیمپس کے طلبہ کی تحریروں پر مشتمل وال میگزین کا اجرا بھی اس موقع پر کیا گیا ۔کیمپس کے انچارج ڈاکٹر عبدالقدوس نے مہمانوں اور حاضرین کا خیر مقدم کیا ۔نظامت کا فریضہ ڈاکٹر عمیر منظر نے انجام دیا جبکہ شکریے کے کلمات ڈاکٹر نکہت فاطمہ نے اداکیے ۔
ڈاکٹر محمداسلم پرویز نے اس موقع پر قرآن فہمی پر زور دیا اور کہا کہ یہ صرف ثواب کی کتاب نہیں ہے بلکہ یہ حکمت ودانائی کا خزینہ ہے ۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی برج کورس کے ذریعہ مدارس کے فارغین کو مرکزی دھارے میں لانے کا کام کررہی ہے۔ تاکہ وہ سائنسی اور سماجی علوم کی طرف بھی متوجہ ہوسکیں اور انھیںاپنی صلاحیت کے اظہار کے بہترین مواقع مل سکیں ۔
افتتاحی تقریب میں ڈاکٹرمحمد ثناء اللہ ندوی نے ’’سائنس مغرب اور ہم ‘‘کے موضوع پرکلیدی خطبہ پیش کیا ۔انھوں نے کہا کہ مسلمانوں نے کے یہاں علم کا جامع تصور تھا اس میں دینی اور دنیاوی علوم کی تخصیص نہیں تھی۔انھوں نے بتایا کہ نویں سے تیرہویں صدی تک کا ز مانہ سائنسی ترقیوں کے عروج کا زمانہ تھا ۔ابتدائی دور میںترجموں کی بدولت ہی علمی اور سائنسی ترقیوں کو فروغ ملا ۔پروفیسر ثناء اللہ ندوی نے کہاکہ مسلمانوں کی علمی ترقیات اور سائنسی کارناموں سے ہی یورپ کو روشنی ملی ہے ۔انھوں نے اجرام فلکی کے آلات،ابتدائی روبوٹ،خلائی پرواز ،انجینئرنگ ،راکٹ سائنس اور نظریہ ارتقا کے سلسلے میں مسلم سائنس دانوں کے کارناموں اور تجربات پر بھر پور روشنی ڈالی ۔اور کہا کہ مشرق و مغرب کے درمیان سائنس اور علم نے سفیر کا کام انجام دیا ہے مگر حیرت ہے کہ آج کی علمی دنیاسائنس کے میدان میں مسلمانوں کے کارناموں کا اعتراف نہیں کرتی ۔اس موقع پر انھوں نے کہا کہ ہمیں اپنی تاریخ کے روشن باب سے واقفیت ضروری ہے ۔
مہمان اعزازی کے طور پر خطاب کرتے ہوئے انٹیگرل یونی ورسٹی کے چانسلر ڈاکٹر وسیم اختر نے کہاکہ لکھنؤ کیمپس کی توسیع طلبہ کے لیے ایک خوش آیند فیصلہ ہے ۔انھوں نے اس موقع پر سائنس و ٹکنالوجی کے تئیں لوگوں میں بیداری پیداکرنے پر زور دیا ۔مہمان خصوصی مولانا سعید الرحمن اعظمی نے کہا کہ تعلیم کے ذریعہ ہی عظمت و سربلندی حاصل کی جاسکتی ہے ۔انھوں نے مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی کی تعلیمی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ تعلیم کو محدود دائرے سے نکال کر آگے بڑھانا ہوگا ۔اس موقع پر کیمپس کے اساتذہ ،رسرچ اسکالرز اور طلبہ و طالبات کے علاوہ لکھنؤ کی اہم شخصیات موجود تھیں جن میں ڈاکٹر انیس انصاری ،پروفیسر مجیب الرحمن ،ڈاکٹر شمس کمال انجم ،ڈاکٹر رخسانہ لاری ،ڈاکٹر صہیب عالم ، سدرت اللہ انصاری ،ڈاکر عباس رضا نیر،ڈاکٹر عرفات ظفر،ڈاکٹر قمر اقبال، سلطان شاکر ہاشمی ،نکنج مصر، پرویز ملک زادہ ،مولانا فرمان ندوی ،مولانا خالد گونڈوی ، ڈاکٹرسلام صدیقی ،ڈاکٹر ارشد القادری،ڈاکٹر ثروت تقی ،ڈاکٹر ہارون رشید،وغیرہ موجود تھے ۔

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular