9807694588
اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔
اشتیاق ساحل

غریبی سے ہوا ہوں اب بہت لاچاربابوجی
کبھی تھا آ پ کے جیساہی میں زردار بابوجی
نظر کیوں جیل کی مانند تم مجھ پر جمائے ہو
نہیں ہوں گوشت کا ٹکڑا میں چربی دار بابوجی
جدھر دیکھو ادھر لٹتی ہے عصمت مائوں بہنوں کی
ترقی تو بہت کی آپ کی سرکار بابو جی
جہاں انصاف کی دیوی کی آنکھوں پر ہی پٹی ہو
وہاں انصاف کیا ہوگا سردربار بابوجی
اگر جاں سے گزرنا بھی پڑے کچھ غم نہیں مجھ کو
لکھوں گابات جوسچی ہےمیں ہر بار بابوجی
کہو جو منہ میں آتا ہے براہر گز نہ مانوںگا
مقدر میں ہے مفلس کی لکھی پھٹکار بابو جی
سمندر کا سفر تو تم نے طے کر ہی لیا لیکن
کبھی آنکھوں کا دریا بھی کرو تم پار بابوجی
زمانہ یاد ساحل کو رکھے گا اک زمانے تک
بھلائے گا نہ اس کی نرمیِ گفتاربابو جی
کوچین (کیرالا)
8583090964





