Saturday, February 28, 2026
spot_img

غزل

mravadhnama@gmail.com 

9807694588

اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں۔

 

 

اشتیاق ساحل

غریبی سے ہوا ہوں اب بہت لاچاربابوجی
کبھی تھا آ پ کے جیساہی میں زردار بابوجی
نظر کیوں جیل کی مانند تم مجھ پر جمائے ہو
نہیں ہوں گوشت کا ٹکڑا میں چربی دار بابوجی
جدھر دیکھو ادھر لٹتی ہے عصمت مائوں بہنوں کی
ترقی تو بہت کی آپ کی سرکار بابو جی
جہاں انصاف کی دیوی کی آنکھوں پر ہی پٹی ہو
وہاں انصاف کیا ہوگا سردربار بابوجی
اگر جاں سے گزرنا بھی پڑے کچھ غم نہیں مجھ کو
لکھوں گابات جوسچی ہےمیں ہر بار بابوجی
کہو جو منہ میں آتا ہے براہر گز نہ مانوںگا
مقدر میں ہے مفلس کی لکھی پھٹکار بابو جی
سمندر کا سفر تو تم نے طے کر ہی لیا لیکن
کبھی آنکھوں کا دریا بھی کرو تم پار بابوجی
زمانہ یاد ساحل کو رکھے گا اک زمانے تک
بھلائے گا نہ اس کی نرمیِ گفتاربابو جی
کوچین (کیرالا)
8583090964

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular