avadhnama@gmail.com
9807694588
اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں
مجاہد سید
ضبط غم حد سے گزر جائے کوئی بات بنے
زہر اب دل میں اتر جائے کوئی بات بنے
چیختی رہتی ہے تنہائی میرے آنگن میں
یہ صدا اس کے بھی گھر جائے کوئی بات بنے
کسی بیمار سے شکوہ ہے زمانے بھر کو
کیوں نہ چپ چاپ وہ مرجائے کوئی بات بنے
تیری الفت نے باڑے ہیں مقدر سب کے
یہ بلا تیرے جو سر جائے کوئی بات بنے
اس کے آنے پہ ہی موقو ف ہے دل کی دھڑکن
ہجر کی شب جو گزر جائے کوئی بات بنے
قاصدا! کون سی منزل پہ ہے کچھ تو ہی بتا
کس طرف میری نظر جائے کوئی بات بنے
حسنِ بے پردہ کو دامن میں سمیٹے شب بھر
چاندنی اور نکھر جائے کوئی بات بنے





