9807694588
اپنے مضمون كی اشاعت كے لئے مندرجه بالا ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر تحریر ارسال كر سكتے هیں
عارفہ مسعود عنبر،مراداباد

اشک انکھوں کے زمانے سے چھپاؤں کیسے
دل میں جو درد ہے وہ سب کو دکھاؤں کیسے
غم عیاں ہوتا ہے چہرے سے سبھی کہتے ہیں
اپنے چہرے پہ کوئی پردا گراؤں کیسے
جانے کیا کہہ کے میرے کانوں میں وہ جا بھی چکا
خود کو دھوکے سے محبت کے بچاؤں کیسے
مجھ سے ممکن ہی نہیں روپ بدل کر ملنا
تو بتا دے کہ تیرے سامنے اؤں کیسے
دل میں کچھ درد سا ریتا ہے میرے اے عنبر
لیکن اس درد کو دنیا سے چھپاؤں کیسے





