پروفیسر محمد ظفرالدین
شخصیتیں جن اجزاکے اتصال باہمی کے نتیجے میں تشکیل پاتی ہیں اُن میں خاندانی پس منظر‘ تعلیم و تربیت‘ ماحول ‘ صحبت اور حالات کے ساتھ ساتھ امتداد زمانہ اور ستم ہائے فلک شامل ہوتے ہیں۔ ستم ہائے فلک کا ذکر میں نے بطور خاص کیا ہے ‘ اِس لیے کہ زندگی کے یہ وہ اجزا یا عناصر ہیں جو شخصیتوںکو اکثر و بیشتر منتشرکردیتے ہیں اور اچھی بھلی شخصیتیں ریزہ ریزہ ہو کر بکھرجاتی ہیں۔وہ اُس طرح کی خدمات اور کارنامے انجام نہیں دے پاتیں جس کی اُن سے توقع کی جاتی ہے۔ زمانے سے شکوے شکایات‘ بدبختی وبدقسمتی کا ذکر پیہم اور کم مائیگی کا رونااُن کی زندگی کا معمول ہوتا ہے اور پھر عام زندگی سے کنارہ کشی اور گوشہ نشینی اُن کا مقدر بن جاتی ہے۔مگر ایسی بھی شخصیتیں ہوتی ہیں جو خود کواِس صورتحال میں گرفتار نہیں ہونے دیتیں اور ایک نئی راہ نکال لیتی ہیں جو پہلے سے زیادہ موثر‘ دوررس اور مفید ہوتی ہے۔ پروفیسر شارب ردولوی اور پروفیسرشمیم نکہت ایسی ہی شخصیتیں ہیں جن کے ساتھ فلک نے ایک موقع پر غیرمعمولی بے رحمی کا معاملہ فرمایا اور اِن کی ہنستی کھیلتی زندگی سے اِن کی آنکھوں کی نور‘ اِن کی اکلوتی بیٹی شعاع فاطمہ کو اپنے پاس بلا لیا۔ اِن پر غموں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ زندگی میں کوئی رمق باقی نہ رہی۔ اور حق تو یہ ہے کہ اِن کی دُنیا اُجڑ گئی۔مگر اِس موڑ پر اِس مثالی جوڑے نے عجیب و غریب فیصلہ کیا۔ اِس منفی صورتحال کا مثبت پہلو تلاش لیا اور دونوں ہی نے اپنا تن من دھن‘ سب کچھ‘ ایک مشن میں لگا دیا۔ اِس مشن کا آغاز شعاع فاطمہ تعلیمی و فلاحی ٹرسٹ کے قیام سے ہوا جس کا مقصد بنیادی طور پر غریب بچوں کی مدد اور ان کی تعلیم کے فروغ کے لیے کام کرنا ہے۔ بعد میں اِس ٹرسٹ نے اپنا دائرہ کار کافی وسیع کرلیا ۔ اُس سلسلے کا سب سے مستحکم کام شعاع فاطمہ پبلک اسکول کا قیام تھا جس نے اب ’’شعاع فاطمہ گرلس انٹر کالج ‘‘ کی شکل اختیار کرلی ہے۔ اس اسکول سے ہزاروں کی تعداد میں لڑکیاں تعلیم حاصل کرکے اپنا مستقبل سنوار رہی ہیں۔پروفیسر شمیم نکہت اپنی عمر کے آخری ایام تک اِس مشن میں لگی رہیں۔ پروفیسر شارب ردولوی آج بھی اُسی مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ میری نظر میں تو ایسے لوگ شاذ و نادر ہی ملتے ہیں جو اپنا سب کچھ عملی طور پر قوم و ملت پر نچھاور کردیں۔ ایسی ہی ایک مثال ڈاکٹر محمد اسلم پرویز کی بھی ہے جو اِن دنوں مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی حیدرآباد کے وائس چانسلر ہیں۔ اُنہوں نے اپنا سب کچھ قرآن کی تفہیم و ترسیل اور قوم میں سائنسی مزاج پیدا کرنے پر صرف کردیا ہے ۔یہ سلسلہ ہنوز مستقل جاری ہے۔
بہر حال! بات ہورہی تھی پروفیسر شمیم نکہت کی!آج شعاع فاطمہ ایجوکیشنل چیریٹیبل ٹرسٹ و سوسائٹی کے زیراہتمام ڈاکٹر شمیم نکہت اُردو فکشن ایوارڈ دیے جانے کی تقریب منعقد ہونے والی ہے۔ گرچہ شرکائے محفل پروفیسر شمیم نکہت کی حیات و خدمات سے واقف ہوں گے مگر پھر بھی ’’گاہے گاہے بازخواں‘‘ کے مصداق مجھے اُن کا ایک تعارف پیش کرنا ہے۔ تو صاحبو! آئیے سورج کو چراغ دِکھانے کی روایت تازہ کرتے ہیں:
12 اکتوبر1935 ء کوڈالی گنج لکھنؤ کی فہمیدہ خاتون اور محمد وسیم کے یہاں ایک بیٹی تولد ہوئی جس کا نام شمیم نکہت رکھا گیا۔اُس گھرانے میں لڑکیوں کی باقاعدہ تعلیم کا رواج نہیں تھا۔ قرآن شریف اور ابتدائی تعلیم کافی سمجھی جاتی تھی لیکن فہمیدہ خاتون نے اپنی بیٹیوں کو تعلیم دلانے کا عزم کیا اور شمیم نکہت اپنے خاندان کی پہلی لڑکی تھیں جنہوں نے اعلیٰ تعلیم کی طرف پیش قدمی کی۔ ابتدا سے لے کر بی اے تک کرامت حسین گرلس کالج میں تعلیم حاصل کی۔ وہاں کی پرنسپل کے علاوہ ایک اور مقبول ٹیچر رضیہ سجاد ظہیر نے اُن کی تعلیم کے ساتھ ذہنی تربیت اور شخصیت سازی کا کام کیا۔ بعد میں شمیم نکہت نے لکھنؤ یونیورسٹی سے اُردو میں ایم اے کیا اور پھر ممتاز ترقی پسند ادیب پروفیسر احتشام حسین کی نگرانی میں ’’پریم چند کے ناولوں میں نسوانی کردار‘‘ کے موضوع پر 1963 ء میں پی ایچ ڈی کی۔ اُسی برس دہلی یونیورسٹی کے شعبہ اُردو میں لکچرر ہو گئیں۔ اکتوبر 1965 ء میں ڈاکٹرشارب ردولوی سے شادی ہوگئی۔ڈاکٹر شمیم نکہت لکچرر سے ترقی کرتی ہوئی ریڈر‘پروفیسر اور صدرشعبہ بنیں۔37 برس تک دہلی یونیورسٹی کی ملازمت کے بعد نومبر 2000 ء میں وظیفہ حسن خدمت پر سبکدوش ہوگئیں۔ اِس دوران وہ سانحہ عظیم گزر چکا تھا‘جس کا ذکر اوپر آیا ہے۔ دہلی پھر اُن کے لیے رہنے کے قابل نہیں رہ گئی تھی۔ وہاں ہر طرف شعاع کی یادیں تھیں جو اُنہوں کاٹنے کو دوڑتی تھیں۔ پھر یہ کہ اُنہیں لکھنؤ آواز دے رہا تھا کہ یہاں کے نونہالوں کے لیے اُنہیں بہت کچھ کرنا تھا۔لہٰذا وہ مستقل طور پر لکھنؤ منتقل ہوگئیں۔ پروفیسر شمیم نکہت نے دہلی کیا چھوڑی‘ اپنے پیچھے شاگردوں اور مداحوں کا ایک ہجوم چھوڑ آئیں۔ وہ ایم اے‘ ایم فل اور پی ایچ ڈی والوں کو تو پڑھاتی ہی تھیں ‘ مگرنوآموز لوگوں کو خصوصی طور پر اُردو سکھاتی تھیں۔ دہلی یونیورسٹی میں ملکی اور غیرملکی زبانوں کے ہر شعبے میں ‘ اُس زبان کے نہ جاننے والوں کے لیے سرٹی فی کیٹ اور ڈپلوما کورسز دستیاب ہیں۔ یہ کلاسز بالکل صبح ہوتی تھیں۔ بہت سارے اساتذہ وہ کلاس لینے سے کتراتے تھے۔ اول تو بالکل ابتدائی سطح کی تعلیم اور دوم یہ کہ صبح سویرے شعبے میں حاضر ہونا۔ یہ دونوں امر بیشتر اساتذہ کو گراں گزرتا تھا۔ مگرپروفیسرشمیم نکہت وہ کلاسز بہت پابندی سے لیتی تھیں۔ وہ اِن کلاسوں میں برقت حاضر ہوجاتیں اور بڑے ذوق و شوق سے اُنہیں پڑھاتیں۔ اُن طلبہ میں دوسرے شعبے کے طلبہ و ریسرچ اسکالرس کے ساتھ وکلا‘ ڈاکٹر‘ تجارت پیشہ لوگ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد ہوتے تھے جو بڑی تعداد میںاُردو سیکھنے کے لیے آتے تھے۔ پروفیسر شمیم نکہت اپنے اِن شاگردوں میں بے پناہ مقبول تھیں۔ پروفیسر شمیم نکہت کے طلبہ شعبے تک ہی محدود نہیں رہتے تھے بلکہ اِن کے گھر پر بھی طلبہ کا کثرت سے آنا جانا رہتا تھا۔ طلبہ جب گھر پہنچتے تو پھر اُن کی گھریلووضع داری کے مطابق ضیافت ہوا کرتی تھی۔ کئی بار شعبے ہی کی طرح اُن کے گھر میں بھی رونق ہوا کرتی تھی۔ پروفیسر شمیم نکہت کے ترک ِدہلی سے شفقتوں کو وہ سایہ بھی دور چلا گیا اور اکثر منعقد ہوجانے والی غیر رسمی محفلیں بھی اُٹھ گئیں۔ مگر تاریخ شاہد ہے کہ دہلی اُجڑتی ہے تو لکھنؤ آباد ہوتا ہے۔ ادیبوں کا دہلی سے ہجرت کرکے لکھنؤ منتقل ہونا ایک تاریخی واقعہ بھی ہے‘روایت بھی۔ مگر پروفیسر شمیم نکہت کی یہ منتقلی دراصل ہجرت نہیں بلکہ مراجعت تھی۔ وہ اپنے آبائی وطن واپس ہوئی تھیں۔ لکھنؤ پہنچ کر پروفیسر شمیم نکہت نے اپنے رفیق حیات کے ساتھ مل کر ایک نئی بساط بچھا لی۔ لوگ سبکدوشی کے بعد آرام کے گدے اور گاؤ تکیے تلاش کرتے ہیں جبکہ اِس مثالی جوڑے نے خاردار جھاڑیوں کو صاف کرکے ایک نیا چمن بسانے کا بیڑہ اُٹھا لیا۔ پروفیسر شمیم نکہت نے اپنی دُختر کے انتقال کے بعد ادبی محفلوں میں آنا جانا ترک سا کردیا تھا مگرخود کو رفتہ رفتہ اسکول کی سرگرمیوں میں مشغول اور مصروف کرلیا۔ اب وہ دن رات اسکول اسکول کرتی رہتیں۔ مجھ سے جب بھی بات کرتیں تو اسکول‘ اور میرے بچے‘ ہمارے بچے کے بغیر اُن کی بات کبھی پوری نہیں ہوتی۔ ایک شعاع چلی گئی تو اُنہوں نے ہزاروں شعاعیں ڈھونڈھ نکالیں اور اُنہیں کو اپنی زندگی کا نور متصور کر لیا۔ پھر یوں ہوا کہ تندرستی کا سورج ڈھلنے لگا۔صحت نے کہا کہ شام ہوا چاہتی ہے۔ آؤ میر ی آغوش میں آجاؤ۔توانائی جواب دینے لگی۔ بیماریوں نے گھیرنا شروع کردیا۔ گھر کے بستر کے ساتھ اسپتال کے بستر پر بھی راتیں گزرنے لگیں۔ اور بالآخر ‘ ایک بہت ہی اچھی‘ بہت ہی فعال‘بہت ہی بامعنی زندگی گزارنے کے بعد 28 ستمبر2016 کو شام ساڑھے سات بجے وہ اِس دارِ فانی سے کوچ کرگئیں۔ اُن کے ہزاروں بچے روتے بلکتے رہ گئے۔ وہ اپنے بچوں کے لیے اُس شجر سایہ دار کی مانند تھیں جو لمحہ آخر تک اپنی پناہ میں آجانے والوں کے اوپر سایہ کیے رہتا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ اگر کسی شجر سایہ دار کو کوئی کاٹنے بھی آئے تو وہ اُسے بھی اُس وقت تک سایہ دیتا رہتا ہے جب تک وہ خود زمین پر نہ آرہے۔
پروفیسر شمیم نکہت کی تخلیقی ‘ علمی ا ور تحقیقی زندگی پر نظر ڈالیں تو اُن کی سات کتابیں شائع ہوئیں۔ سیکڑوں مضامین رسائل و جرائد اور سمیناروں کے لیے لکھے۔ لیکن اِن سب کاموں پر سَوا‘ اُن کے وہ کام ہیں جو اُنہوں نے سماجی و تعلیمی میدان میں کیے ہیں۔ اُن کے دہلی یونیورسٹی کے طلبہ اُنہیں کبھی بھلا نہیں پائیں گے لیکن میرا یقین ہے کہ اُن کے شعاع فاطمہ اسکول و کالج کے طلبہ اُنہیں کبھی زمانے کی یادوں سے مٹنے نہیں دیں گے۔ یہی اُن کی سب سے بڑی کمائی ہے۔ جس کا اجر اُنہیں رہتی دُنیا تک پیار و محبت اور دعاؤں کی شکل میں ملتا رہے گا اوروہ اوپرسے یہ سب دیکھ کر خوش ہوتی رہیں گی!!!٭





