Friday, April 3, 2026
spot_img
HomeMuslim Worldسرکار فخر العلماء: علم و عمل کا حسِین امتزاج

سرکار فخر العلماء: علم و عمل کا حسِین امتزاج

مولاناضامن جعفری

علم و عمل اس حقیقت کا نام ہے کہ جسکا انکار ممکن نہیں ہے اور ان دونوںکا ساتھ بھی در حقیقت لازم و ملزوم کا ہے اگر ان دونوں میں سے کسی ایک کو دوسرے سے الگ کر دیا جائے تو وہ حقیقت اور فضیلت سے کوسوں دور صرف اور صرف دکھاوا اور بناوٹ بن کر رہ جاتی ہے اور وہ تمام حقیقتیں جو انکے امتزاج میں پوشیدہ ہیں یا جن حقیقتوں کی عکاسی علم و عمل کا امتزاج کرتا ہے وہ اس سے پَرے رہ جاتی ہے ۔
جیسا کہ شریعت اسلامی میں بھی علم و عمل کے امتزاج کی اہمیت پر بہت زور دیا گیا ہے ۔
اگر علم عمل سے دور ہے تو پھر اس علم کا فائدہ کیا ہے ؟ جہاں علم کی بہت ساری فضیلتیں ہیں انھیں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ علم تمیز حق و باطل عطا کرتا ہے اور اس نتیجے کی پرکھ میدان عمل میں ہی ہوتی ہے اگر علم حق و باطل میں تمیز کرنا نہ سکھائے تو اسے حقیقی علم تصور کرنا بہت بڑی غلطی ہوگی اہل فن کو اسکے لئے کسی اور نام کی تلاش کرنا چاہیئے اور یہی وجہ ہے کہ دنیا میں بہت ایسے افراد مل جائیں گے جو خود کو اور جنھیں معاشرہ میں عالم تصور کیا جاتا ہے لیکن حق سے انکا کوئی لینا دینا نہیں ہوتا ۔
اسی طرح عمل کی بہت فضیلت ہے لیکن عمل بغیر علم کے ایک کھوکھلا عمل ہے جسکے نتائج موثر اور دائمی نہیں ہوتے اور یہی وجہ ہے کہ عام فہم زبان میں علماء کہے جانے والے افراد اور صاحب اعمال تو بہت گذرے لیکن انکے آثار کا مقدر دوام کے حسین پل سے دور رہا ۔
جنکا علم عمل کے ساتھ رہا اسی طرح جنکا عمل علم سے وابستہ رہا وہ بھی زندہ رہے انکے آثار بھی زندہ رہے اور رہتی دنیا تک زندہ رہیں گے ۔

انھیں شخصیتوں میں سے ایک سرکار فخر العلماء حجۃ الاسلام مرزا محمد عالم صاحب ( قدس سرہ ) تھے جنکی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں لیکن قوم کے محسنوں کو بھلا دینا بھی احسان فراموشی کے ضمن میں آتا ہے اسلئے ماضی میں انکے متعلق جوکچھ لکھا گیا اور خاص کر مدینۃ العلم نے جسے شائع کیا تھا اسے ہی مصدر و منبع قرار دیتے ہوئے چند سطریںاس حقیر نے ترتیب دینے کی کوشش کی ہے ۔
سرکار فخرالعلماء کے اجداد جمہورئی اسلامی ایران کے رہنے والے تھے اور معزز خاندان سے تعلق رکھتے تھے لیکن ایک دن ایسا بھی آیا کہ انکے اجدادجناب حکیم مرزا بندہ جعفر خاں و جناب حکیم مرزا بندہ رضا نامی نے ترک وطن کرکے سرزمین علم و ادب لکھنو کی جانب ہجرت اختیار کیا اور وہ لکھنو کہ جو شیعہ حکومت اور علم ودانش کا گہوارہ تھا اسے اپنا وطن قرار دیا
حکیم مرزا بندہ رضا خان کی اولاد میں حکیم مرزا بندہ مہدی ، حکیم مرزا بندہ عابد ،حکیم مرزہ بندہ قاسم اور حکیم بندو صاحب معاشرے کی باعزت اور با کمال شخصیتوں میں تھے ۔ دوسرے بھائی حکیم بندہ مرزا جعفر کی شادی شاہی فوج کی ایک رسالہ دار کی دختر نیک اختر سے ہوئی جنکے بطن سے حکیم مرزا محسن پیدا ہوئے بعد انکے صاحبزادہ جناب مرزا ابو حسن صاحب ہوئے انکے فرزند جناب حکیم مولوی مرزا ابوالقاسم صاحب طاب ثراہ تھے جنھیں پروردگار عالم نے ایک ایسا بیٹا ( مرزا محمدعالم قدس سرہ ) عطا کیا کہ جو علم و عمل کی ایک مثال بن کر رہتی دنیا تک کیلئے تاریخ میں سنہرے حرفوں میں اپنا نام ثبت کر گیا ۔
جناب حکیم مولانا مرزا ابوالقاسم صاحب قبلہ کا عقد سرزمین علم و ادب لکھنو کے مشہور شاعر جناب مولانا مرزا محمد تقی صاحب قبلہ کی دختر نیک اختر سے ہوا جنکے بطن سے ۲ رجب المرجب مطابق 19ستمبر1 1936سرکار فخر العلماء کی ولادت ہوئی ۔
ہوتا یہی ہے کہ جیسے جیسے بچہ پروان چڑھتا ہے اسکی عمر کا کاروان بڑھتا رہتا ہے اسے اپنی نئی زندگی کے پیچ و خم اور رہنمائی کے لئے ایک مخلص سرپرست اور رہنما کی ضرورت ہوتی ہے لیکن سرکار فخر العلماء کی عمر صرف چھ سال کی تھی کہ وہ عظیم والد کہ جو اخلاق، زھد ، علم و عمل اور تقوی کی مثال تھے کا سایہ سر سے اٹھ گیا اور وہ ۲۸ ماہ مبارک رمضان ۱۹۴۲ ممبئی میں ایک عمارت میں کچل کر رب حقیقی سے جا ملے انا للہ و انا الیہ راجعون ۔

والد کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعداحساس یتیمی اور کریدتی اگر شفیق ماموں ( جناب مولانا مرزا محمد ذکی صاحب قبلہ ) کا سایہ نہ ہوتا ماموں نے اپنی زیرنگرانی لیکر ایک حقیقی اور سچے سرپرست کا کردار ادا کرنا شروع کیا اور سرکار فخر العلماء انکی زیرنگرانی عمر کی منزلیں طے کرتے رہے ۔
ابتدائی تعلیم
جیسا کہ ہمارے معاشرے میںہوتا ہے کہ بچے کے ہاتھوں میں قلم و کاغذ تھامنے کی جس دن ابتداء ہوتی ہے اسے بسم اللہ کی رسم سے تعبیر کیا جاتا ہے اور بچوں کے سرپرستوں کی خواہش ہوتی ہے کہ یہ رسم کسی معزز شخصیت کے ہاتھوں ہی انجام پائے لہذا فخرالعلماء طاب ثراہ کی یہ رسم ادائیگی بھی جناب ماسٹر سید افضال حسین صاحب قبلہ تشھیر موہانی کے مبارک ہاتھوں انجام پائی ۔ گھر کی ابتدائی تعلیم کے بعد مصاحب گنج کے اسکول میں داخلہ کرادیا گیا اور یہ سلسلہ جاری ہی تھا کہ ممبئی سے آپ کے پدر بزرگوار نے طلب کر لیا اور آپ ممبئی تشریف لے گئے اور وہاں محترم جناب مولانا سید اکبر علی صاحب قبلہ کہ جو منچھر کے رہنے والے تھے انکی زیر نگرانی ابتدائی تعلیم کے سلسلے کو منزل تکمیل تک پہونچانے میں مشغول ہوگئے ۔ ۱۹۴۲ میں پدر بزرگوار کی رحلت کے بعد آپ لکھنو واپس آگئے اور آپکے شفیق ماموں نے آپکا داخلہ حسین آباد انٹر کالج کے درجہ پنجم میں کرا دیا لیکن کچھ ہی عرصے کے بعد آپ نے اپنے ماموں سے خواہش ظاہر کی کہ علم دین حاصل کرنے کیلئے وہ انکا داخلہ کسی دینی مدرسے میں کرا دیں چنانچہ ۱۹۴۳ میں آپکا داخلہ سلطان المدارس کے درجہ سوئم میں ہوگیا اور آپ نے بر صغیر کی اس عظیم درسگاہ سلطان المدارس میںدرجئہ سوئم سے صدرالافاضل تک تعلیم حاصل کی ۔
اساتذہ کرام
جناب مولانا سید محمد جابر صاحب قبلہ بہار ، جناب مولانا سید محمد حسن صاحب قبلہ لکھنوی ، جناب مولانا سید محمد عادل صاحب قبلہ ، جناب مولانا سید خادم حسن صاحب قبلہ ، جناب مولانا سید احمد صاحب قبلہ ، جناب مولانا سید ابن حسن صاحب قبلہ نونہروی ، جناب مولانا سید عبد الحسین صاحب قبلہ ، جناب مولانا سید کلب عابد صاحب قبلہ ، جناب مولانا سید محمد صاحب قبلہ ، جناب مولانا سید احمد علی صاحب قبلہ ، جناب مولانا سید محسن نواب صاحب قبلہ ، جناب مولانا حیدر محمد صادق صاحب قبلہ اور جناب مولانا سید حسین صاحب قبلہ (قدس اللہ اسرارھم ) ۔
باب مدینۃ العلم کی جانب روانگی و وطن واپسی
سلطان المدارس سے صدرالافاضل اور لکھنو یونیورسٹی سے اپنی تعلیم مکمل کرکے ۱۹۵۷ میں عازم نجف اشرف ہوئے وہ حوزہ جسکی ہوا امیرالمومنین حضرت علی بن ابیطاب علیھما السلام کے گنبد مبارک سے مس ہوکر نجف کی فضا میں منتشر ہوتی ہے ، وہ حوزہ نجف کہ جسے دنیا کے تمام حوزوں کی ماں کہا جاتا ہے ، وہ نجف کہ جہاں سونا عبادت شمار ہوتا ہے ذرا تصور کیجئے جہاں کا سونا عبادت ہے وہاں درس و تدریس کا کیا ثواب ہوگا خاص کر وہ قدیم زمانہ کہ جب نجف کا حوزہ اپنے عروج پر تھا اس زمانے میں فخرالعلماء نے باب مدینۃ العلم پر مزید علم و معرفت کے حصول کیلئے سر تسلیم خم کردیا اور غربت و مفلسی کے باوجود اپنے تعلیمی سلسلے کو جاری و ساری رکھا اور اس وقت کی عظیم شخصیتوں سے کسب علم کیا آقائے شیخ محمد علی بربری ، آقائے مرزا مسلم خراسانی ، آقائے سید نصر اللہ مستنبط ، آقائے شیخ علی فلسفی ، آقائے شیخ حسین رشتی ،آقائے سید اسد اللہ ،آیۃ اللہ العظمیٰ آقائے سید محسن الحکیم ،آیۃ اللہ آقائے سید حسین حمامی ، آیۃ اللہ آقائے سید محمود شاہرودی ، استاد المراجع آیۃ اللہ العظمیٰ آقائے سید ابوالقاسم خوئی ، آیۃ اللہ آقائے عبد اللہ شیرازی ( قدس اللہ اسرارھم ) سے اپنی جھولی میں علم و معرفت کے موتی اکٹھا کرکے اپنے وطن ہندوستان ۱۹۶۱ میں واپس آگئے اور خدمت دین میں مرد مجاہد کی صورت مشغول ہوگئے ۔
فخرالعلماء میدان عمل میں
نجف اشرف میں قیام کے دوران ہی فخر العلماء اس بات کی طرف بخوبی متوجہ تھے کہ علم کے ساتھ ساتھ عمل ضروری ہے لہذا نجف اشرف میں قیام کے دوران ہی ادارہ عالیہ تبلیغ و اشاعت کی بنیاد رکھی اور ہندوستان واپس لوٹنے کے بعد خدمت دین میں مصروف ہوگئے
(۱ ) ادارہ عالیہ تبلیغ و اشاعت
جیسا کہ ذکر کیا گیا کہ اس ادارے کی بنیاد فخرالعلماء نے نجف اشرف میں قیام کے دوران ہی رکھ دی تھی اور پھرہندوستان لوٹنے کے بعد اس میں مزید وسعت دی اور وقت اور قوم کی ضرورتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے خدمت دین انجام دیتے رہے ۔ سرکار فخر العلماء کی رحلت کے بعد انکے فرزند اکبر اور ادارے کے حالیہ جنرل سکریٹری حجۃ الاسلام مولانا مرزا جعفر عباس صاحب قبلہ نے اپنے والد کے ادھورے خواب کو حقیقت میں بدلنا شروع کیا اور مذکورہ ادارہ کے تحت مختلف زبانوں میں مختلف کتابوں اور ماہنامہ مدینۃ العلم کی طباعت و اشاعت شروع کی اسکے ساتھ ساتھ لکھنو اور ممبئی میں نصف قیمت پر کتابوں کی فراہمی کی ، مساجد میں مکاتب کا قیام ، امام جماعت اور مبلغین کی فراہمی میں ادارہ آج بھی مشغول ہے ۔
(۲ ) حوزہ علمیہ جامعۃ التبلیغ ۔ ۱۵ اکتوبر ۱۹۷۲ کا وہ مبارک دن جس دن اس حوزہ علمیہ کا قیام ہوا ابتداء میں کچھ عرصے تک یہ مدرسہ امام بارگاہ غفرانمآب اور شریعت کدہ فخرالعلماء واقع رستم نگر درگاہ میں چلتا رہا بعدہ فخر العلماء نے اسے اپنی آبائی ملکیت مصاحب گنج میں منتقل کردیا اور الحمد للہ آج تک یہ عظیم درسگاہ اسی مکان پر سرکار فخر العلماء کے فرزندان حجۃ الاسلام مولانا مرزا جعفر عباس صاحب قبلہ کہ جو حالیہ جنرل سکریٹری ہیں اور حجۃالاسلام مولانا مرزا رضاعباس صاحب کی زیر ادارت پورے ہندوستان سے آنے والے طلاب علوم دینیہ کیلیئے قیام ، طعام و دیگر سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ خدمت دین میں مشغول ہے۔ حوزہ علمیہ میں ابتداء سے شمس الافاضل تک کی تعلیم دی جاتی ہے اور یہاں سے علم حاصل کرکے سیکڑوں کی تعداد میں طلاب حوزہ علمیہ نجف اشرف عراق ، حوزہ علمیہ قم المقدسہ ، حوزہ علمیہ سیدہ زینب ؑ میں مزید کسب علم کر رہے ہیں
( راقم کو بھی اسی مذکورہ حوزہ علمیہ میں تعلیم کا شرف حاصل ہوا ، مدرسہ اسلامیہ کجہوا سیوان بہار سے ابتدائی تعلیم کے بعد بقیہ تعلیم کیلئے اسی مدرسے میں داخلہ لیا اور ۲۰۰۶ نجف اشرف آنے تک وہیں بحیثیت طالبعلم رہا اکثر میں اپنی ان دونوں درسگاہوں اور اپنے اساتذہ کے متعلق کہا کرتا ہوں کہ نجف اشرف تک آنے میں میرا کوئی ذاتی کمال نہیں بلکہ خدا کے احسان اور اہلبیت ؑکے کرم کے بعدماں کی آغوش سے لیکر ان دونوں درسگاہوں کا کمال ہے کہ جسکا سلسلہ آغوش نجف سے آملا خدا سے دعا ہے کہ یہ شرف مجھ جیسے گنہگار سے کبھی سلب نہ ہو اور نجف کی پاک وادی کے شرف سے مشرف ہوتا رہوں )
(۳ ) مبلغ و خطیب منبر حسینی اور مدافع عزائے امام حسین ؑ
سرکار فخرالعلماء منبر حسینی سے تبلیغ دین میں ہمیشہ لگے رہے خود خطابت کرتے تھے لیکن اسکے ساتھ ساتھ عزائے حسینی کے فروغ کیلئے جا بجا تبلیغی مجالس کے سلسلے کو۱۹۷۴ میں شروع کیا کئی سال تک یہ سلسلہ امام بارگاہ غفران مآب میں چلتا رہا اسکے بعد اسے ہندوستان کے مختلف شہروں تک وسعت دی
مجھے تو شرف نہیں ملا کہ فخرالعلماء کو سن پاتے لیکن مرحوم کی برسی کی مجلس میں مرحوم کے عزیز دوست اور سرکار فخر العلماء کی رحلت کے بعد انکے تمام اداروں کی سرپرستی کرنے والے محسن ملت سرکار خطیب اکبر حجۃ الاسلام علامہ مرزا محمد اطہر صاحب ( طاب ثراہ )سے سنا ہے کہ ایک سال ماہ محرم الحرام کا پورا عشرہ انہوں نے اہمیت اشک عزا کے حوالے سے خطاب کیا تھا۔ایسی دوستی جسکی مثال بہت کم ملتی ہوگی ایک شہنشاہ مصائب کہا گیا تو دوسرا خطیب اکبر آج بھی منبر پر مومنین کی نگاہیں فخرالعلماء اور خطیب اکبر کو ڈھونڈتی ہیں اور ڈھونڈتی رہینگی ۔
(۴ ) ممبئی میں عالمی دینی تعمیری کانفرنس کا انعقاد
اس کانفرنس کے انعقاد کا مقصد جسے خود فخر العلماء نے بیان کیا تھا وہ یہ تھا کہ پوری دنیا سے دین و مذہب کے ہمدرد جمع ہوں اور قوم جن مشکلات اور مصیبتوں میں مبتلا ہے اس پر تبادلئہ خیال کے بعد اسکا دائمی حل ڈھونڈ کر اسے ختم کرنے کی کوشش کی جائے اس کانفرنس میں شرکت کرنے والی شخصیتوں سے ہی فخر العلماء کی مقبولیت اور انکے متعلق بھروسے اور اعتماد کا پتہ لگ جاتا ہے شرکت کرنے والوں میں سید محمد فضل اللہ ( ظاہر ہے موصوف کی مشارکت انکے بعض آراء کے ظاہر ہونے سے قبل ہے ) ، آقائے شیخ علی کورانی (ایران ) ، آقائے سید محمد علی شیرازی ( ایران ) ، آقائے سید مقصود علی رضوی ، آقائے سید فاضل الحسینی ، آقائے سید مکی المیلانی ،
کمانڈر سید قاسم حسین انگلینڈ ، آقائے سید علی حسین افریقہ ، آقائے تقی حیدر عدن ،آقائے سید عبد الامیر صفی الدین انگلینڈ جیسی عظیم شخصیتیں تھی اور اس کانفرنس کی صدارت آقائے سید محمد الموسوی نے فرمائی تھی جسمیں دو دنوں تک پانچ موضوعات پر بحث کی گئی حجاب، اقتصادیات ، تعلیم ، اخلاق، علماء اور عوام کے درمیان رابطہ ان موضوعات سے بھی فخر العلماء کے اخلاص اور قوم و ملت کا وہ درد جو انکے سینے میں تھا اسکا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔
آخری شام
۶ جنوری ۱۹۸۵ کی وہ شام کہ جب حوزہ علمیہ جامعۃ التبلیغ میں تعمیری کام کے ضمن میں ایک ہال کی چھت کا کام چل رہا تھا اور بار بار مزدوروں سے کہتے رہے کہ بہر صورت آج یہ کام پورا ہوجائے اور چھت کا کام جب مکمل ہوگیا تو اس وقت مدرسے کے موجودہ طلاب کو جمع کیا ساتھ خورد و نوش کے بعد گھر تشریف لے گئے ۔مدرسے سے گھر کی طرف جو قدم نکلا وہ قدم دوبارہ خود مدرسے نہ آسکا ۷ جنوری کو اس دار فانی کوالوداع کہہ گئے اور پھر روتی آنکھوں نے اسی علمی درسگاہ میں سپرد خاک کردیا فانا للہ و انا الیہ راجعون مومنین سے فخر العلماء اور خطیب اکبر کی ارواح طیبہ کے ایصال ثواب کیلئے سورہ فاتحہ کی تلاوت کی درخواست ہے ۔

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular