زبیر عالم

بلا شبہ راحت اندوری ہمارے دور کے مقبول شاعروں میں ہیں ۔بہ حیثیت استاد اپنے سفر کا آغاز کرنے والے راحت اندوری نے بہت کم عرصے میں پاپولر شاعر کی حیثیت سے اپنی پہچان بنائی۔ایک وقت ایسا بھی آیا کہ راحت نے درس وتدریس سے نکل کر اپنے آپ کو صرف مشاعروں کے لیے وقف کر دیا۔راحت اندوری ابھی چاق و چوبند نظر آتے ہیںکیا پتا ان کی اگلی منزل کیا ہو،اس لیے اس سلسلے میںکوئی حتمی بات نہیں کہی جا سکتی ہے۔
سر دست ہمیں ان کے مستقبل قریب میں کسی اور طرف نکل جانے یا نہ نکلنے سے سروکار نہیں ہے۔آج کی ہماری گفتگو کا محور و مرکز ان کی شاعرانہ خصوصیات خاص طور پر’’ راحت اندوری کی شاعری میںقدروں کا احساس ‘‘ہے ۔تو آئیے ہم سب سے پہلے یہ جاننے کی کوشش کریں کہ قدریں کیا ہیں۔
مشرقی معاشرے میں خاص طور پر بر صغیر میں ابتدا سے ہی چند ایسی نمایاں خوبیاں ہر دور میں موجود رہی ہیں جن کا سیدھے طور پر واسطہ زندگی کرنے کے عمل سے تھا۔بہ الفاظ دیگر صدیوں سے رواں دواں انسانی زندگی میں سماج کے مختلف طبقوں کے مابین ایک طرح کا باہمی اشتراک تھا کہ معاشرے میں وہ کیا اصول و ضوابط یا طریقہ کار ہوں جن کی مدد سے سماجی تانے بانے کو بحسن و خوبی چلایا جا سکے۔صدیوں پر محیط تجربے نے ہمارے اسلاف کو کچھ مشترک بنیادیں فراہم کیں اور جس کی بنا پر آج ہم اس مقام پر پہنچے ہیں کہ کچھ استثنائی صورتوں کو چھوڑ کر پر سکون زندگی گزار رہے ہیں۔
فی الوقت مجھے ان تمام باتوں سے بہت زیادہ سروکار نہیں ہے۔میری گفتگو کا دائرہ صرف ان امور تک محدود ہے جس میں پرانی نسل اور نئی نسل کے درمیان ایک خلا کا احساس بالکل سطح پر نمایاں ہے۔ نئی نسل اور پرانی نسل کے درمیان یہ خلا یا لا تعلقی کا احسا س کیوں ہے؟ اس کے اصل اسباب کیا ہیں؟ ماہرین اس ضمن میں مختلف خیموں میں تقسیم نظر آتے ہیں ۔کچھ کاکہناہے کہ نئی نسل چونکہ پہلے کی نسل کی بہ نسبت زیادہ بیدار اور تیز ہے نیز مختلف قسم کی سماجی رابطوں کے آلات کے زریعے نہ صرف اپنے آس پاس سے بہتر طور پر واقف ہے بلکہ عالمی پیمانے پر دن بہ دن رونما ہونے والے حادثات و واقعات سے بھی اپنے آپ کو ہم آہنگ کرتی ہے،اس لیے ان کے اورپرانی نسل کے درمیان فرق کا ہونا کوئی حیرت کی بات نہیں ہے۔
اس کے بر عکس دوسرے گروہ کا یہ کہنا ہے کہ نئی نسل کے درمیان سے وہ احساس غائب ہوتا جا رہا ہے جس کی مدد سے ہمارے بزرگ اپنے چھوٹوں کی تربیت کرتے تھے۔یہی سبب ہے کہ ان قدروں سے نا آشنا نسل سرے سے تربیت یافتہ ہوتی ہی نہیں ہے اور جس کا نتیجہ بڑوں اور چھوٹوں کے درمیان مختلف سطحوں پر اختلاف کی صورت میں نمایاں ہو رہا ہے۔حالانکہ ایسا نہیں کہا جا سکتا کہ یہی وہ دو وجوہ ہی صرف اس صورت حال کی ذمے دار ہیں۔راقم کے نزدیک اور بھی مسائل ہیں جن کی تلاش و تفتیش سے مذکور ہ مسئلے کی تفہیم آسان ہو سکتی ہے۔مثال کے طور پر سماج کے بدلتے ہوئے تناظر کو ہی صرف وقت کے مختلف موڑ پر رکھ کر نئی نسل اور پرانی نسل کے مابین رویے اور اشیا کو دیکھنے کے نظریے کا تجزیہ کیا جائے تو مطلع بہت حد تک صاف ہو جا ئے گا۔
ابھی مجھے ان خیالات میں کون صحیح ہے اور کون غلط،اس سے کوئی بحث نہیں ہے۔راحت اندوری صاحب اپنے کلام کی روشنی میںان دونوں حاوی گروہ میں کس جانب کھڑے نظر آتے ہیں اس کا تجزیہ ان کے کلام کی روشنی میں پیش کیا جارہا ہے تاکہ سامعین بھی راحت اندوری کے تعلق سے کسی نتیجے پر پہنچ سکیں۔
آئے دن کے ہونے والے ہنگاموں میں پچھلے کئی برسوں سے امن و آشتی کا پیکر سمجھے جانے والے مذہبی طبقہ بھی اب ماحول بگاڑنے والوں میں شامل ہو گئے ہیں۔پچھلے دنوں میں یہ سمجھ رہا تھا کہ دنیا کے کم و بیش تمام مذاہب بنیادی طور پر انسان کو صالح اور نیک بنانے کا کام انجام دیتے ہیں مگر حالیہ بلکہ کچھ دہائیوں سے مسلسل ہو رہی شورش ہمارا ذہن اس جانب بھی منتقل کرتی ہے کہ صدیوں کا بنا بنایا نظام اب جنگ زدہ ہوتا جا رہا ہے۔جن پر سماج اور معاشرے کی ذہن سازی کا انحصار تھا ان کی صفوں میں وہ عناصر بھی پناہ لیے ہوئے ہیں جن کو صرف موقع کی تلاش ہوتی ہے۔زرا سا ماحول نے کروٹ لی کہ ایسے لوگ اپنے سازشی ذہن کے ساتھ نفرت کو ہوا دینے میں مشغول ہو جاتے ہیں پھر نتیجہ کیا بر آمد ہوتا ہے اس سے ہم آپ سب واقف ہیں۔ آج کا شاعر ان طاقتوں کی ریشہ دوانیوں کو بہتر طور پر سمجھتا ہے اور اس کے اندر کا شاعر بیدار ہوتا ہے تو کہتا ہے کہ:
سب کو رسوا باری باری کیا کرو
ہر موسم میں فتوے جاری کیا کرو
جب جی چاہے موت بچھا دو بستی میں
لیکن باتیں پیاری پیاری کیا کرو
وہ دیکھ مے کدے کے راستے میں
کوئی اللہ والا جا رہا ہے
عبادتوں کا تحفظ بھی اب ان کے ذمے ہے
جو مسجدوں میں سفاری پہن کے آتے ہیں
یہاں لچھمن کی ریکھا ہے نہ سیتا ہے مگر پھر بھی
بہت پھیرے ہمارے گھر کے اک سادھو لگاتا ہے
مذکورہ تمام اشعار مذہبی طبقے کے نمائندہ سمجھے جانے والے افراد کے بدلتے کردار پر ایک مبسوط تبصرے کا حکم رکھتے ہیں اور اس بات کی وضاحت بھی کہ اس طبقے نے کس طرح پرانے دنوں کی اچھائی کو اپنی برائی کے زریعے سیاہ کیا ہے۔
راحت اندوری کو اپنے معاشرے سے یہ بڑی شکایت ہے کہ اب وہ فرشتہ صفت لوگ نہیں رہے جن کی مدد سے ان کی دنیا،دنیا کی طرح تھی۔وہ لوگ جو اپنے چھوٹوںکی کوتاہی پر بڑی شفقت کے ساتھ تنبیہ کرتے تھے اور اس کے پس پشت کا فرما مقاصد سے بھی آشنا کراتے تھے۔ سماج کے ڈھونگیوں کو ان کے منھ پر ہی دو بات کہہ دینا ایسے لوگوں کی دیانت داری اور راست گوئی کا لازمی حصہ سمجھا جاتا تھا مگر وقت نے آج ایسے دن بھی دکھائے ہیں کہ ڈھونگ آج کے دور کا سب سے بڑا سچ اور کامیاب نسخہ سمجھ لیا گیا ہے۔اس قسم کی سرگرمیوں کے طفیل جاہ و جلال حاصل کرنے والے افرادسماج کے ان لوگوں پر حاوی ہو رہے ہیں جن کی صداقت شعاری کبھی بطور مثال بیان کی جاتی تھی۔راحت نے اس صورت حال پر نظر کی ہے اور متعدد اشعار کے زریعے اپنے خیالات کو سامعین تک پہنچایا ہے:
اٹھی نگاہ تو اپنے ہی رو بہ رو تھے ہم
زمیں آئینہ خانہ تھی چار سو ہم تھے
اندھیرے چاروں طرف سائیں سائیں کرنے لگے
چراغ ہاتھ اٹھا کر دعائیں کرنے لگے
ترقی کر گئے بیما ریوں کے سوداگر
یہ سب مریض ہیں جو اب دوائیں کرنے لگے
عجیب رنگ تھا مجلس کا خوب محفل تھی
سفید پوش اٹھے کائیں کائیں کرنے لگے
میں ثابت کس طرح کرتا کہ ہر آئینہ جھوٹا ہے
کئی کم ظرف چہروں کو اتر جانے کی جلدی تھی
مٹتی قدریں ہر دور کے تخلیق کار کے لیے مسئلہ تھیں اور آج بھی حقیقی تخلیق کار اس مسئلے سے دوچار ہے۔پریشانی یہ ہے کہ ان قدروں کو کس طرح نشان زد کیا جائے۔ زمانے کی کروٹوں کے ساتھ بہت سی باتیں ہمارے شعور کا حصہ بنیں تو بہت سی باتوں کو ہم نے یوں ہی نظر انداز کر دیا۔دور حاضر کا فن کار اس صورت حال سے دو چار ہے کہ وہ کس بات کو بہتر کہے اور کس کو نہیں ۔اس ضمن میں کم و بیش تمام فن کاروں کے کلام میں ایک طرح کے موازنے کا عمل موجود ہے۔اشیا اور اس سے متعلق امور کے موازنے سے وہ صورتیں ابھرتی ہیں کہ سامعین حیرت زدہ ہو جاتے ہیں۔میرا خیال ہے کہ اس قسم کے خیالات کی مدد سے شاعر صرف حیرت میں ڈال دینا چاہتا ہو بغیر کسی بصیرت کے تو ایسی صورت حال کو مستحسن قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔اس کے بر عکس کوئی تخلیق کار اپنے خیالات کی ادائیگی میں کتنا ہی حیرت کاری کا انداز رکھتا ہولیکن بصیرت کے ساتھ ہو تو اس کی تعریف کرنی چایئے۔راحت صاحب کےکلام میں اس طرح کے اشعار جا بجا ملتے ہیں جو اپنے اندر احساس کی سطح پر نیا پن رکھنے کے ساتھ ساتھ دیرپائی کے عناصر سے بھی مزین ہیں:
میری خواہش ہے کہ آنگن میں نہ دیوار اٹھے
میرے بھائی مرے حصے کی زمیں تو رکھ لے
ہوائیں باز کہاں آتی ہیں شرارت سے
سروں پہ ہاتھ نہ رکھیں تو پگڑیا ں اڑ جائیں
اس بستی کے لوگوں سے جب باتیں کیں تو یہ جانا
دنیا بھر کے جوڑنے والے اندر اندر بکھرے ہیں
خود کو پتھر سا بنا رکھا ہے کچھ لوگوں نے
بول سکتے ہیں مگر بات ہی کب کرتے ہیں
تو جو چاہے تو ترا جھوٹ بھی بک سکتا ہے
شرط اتنی ہے کہ سونے کی ترازو رکھ لے
سطور بالا میں پیش کیے گئے اشعار اس بات پر صداقت کی مہر لگاتے ہیں کہ اب کچھ بھی پہلے جیسا باقی نہیں رہا ۔حساس انسان کے لیے یہ لازم سا ہو گیا ہے کہ وہ فن کاروں کے مانند ہی مقابلے اور موازنے کے عمل میں مصروف رہے۔راحت اندوری کی شاعری سامعین کو ہمارے دور کی ان حقیقت سے آشنا کراتی ہے جس میں ہم یا تو صورت حال سے واقف ہو نے کے بعدبھی خاموش ہیں یا گزرنے والے لمحات میں تازیانے کی طرح چوٹ پہنچانے والے معاملات کو محسوس ہی نہیں کر پاتے ۔راحت اندوری کی شاعری کا بیشتر حصہ اپنے مطالعہ کے لیے حساس ذہن چاہتا ہے۔
جے این یو،نئی دہلی





