سنبل،
موبائل کی گھنٹی بجلی ٹرن ٹرن، کہکشاں نے فون کو رسیو کیا۔ امّی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ۔ ہیلو کہکشاں بیٹی وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ کیسی ہو، جی امّی الحمداللہ آپ کی دعائیں ہیں اور امّی آپ بتائیے آپ کیسی ہیں۔ آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے۔ ہاں سب ٹھیک ہے، بہت دن ہوئے تم سے بات نہ ہوسکی اور ایک اور کام تھا بتائیے امّی کیا کام ہے۔ بس کچھ پوچھنا ہے ۔ جی امّی بتائیے۔ کہکشاں کیا تمہیں موسیٰ ؑ کا وہ قصہ معلوم ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ میں بڑا عالم ہوں پھر ان کو اس بات پر سرزنش کیا گیا تھا کہ آپ سے زیادہ علم والا ایک بندہ ہے ۔ کہکشاں امّی کی بات کاٹتے ہوئے بولی۔ جی امّی موسیٰؑ کا وہ قصہ سورئہ کہف میں تفصیل سے ہے ۔ چلئے میں آپ کو پورا قصہ سناتی ہوں۔ تو امّی آپ دل کے کانوںسے سنئے (کہکشاں ہنستے ہوئے)۔ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم بنی اسرائیل میں کھڑے ہوکر تقریر کی تو موسیٰ سے پوچھا گیا کہ سب لوگوں میں بڑا عالم کون ہے؟ موسیٰ علیہ السلام نے کہا میں بڑا عالم ہوں تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عتاب فرمایا کیونکہ انہوں نے علم کو اللہ کے حوالہ نہیں کیا تب اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ ایک میرا بندئہ خدا ہے اس کو میں نے ایک خاص قسم کا علم عطا کیا ہے اور ہم نے خاص رحمت سے نوازا ہے۔ وہاں جہاں دو دریا (فارس اور روم کے سمندر) ملے ہیں وہ تجھ سے زیادہ علم والا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا ’اے پروردگار میں ان تک کیسے پہونچوں گا؟ حکم ہوا کہ ایک مچھلی زنبیل (تھیلا) میں رکھ کے پھرجب تم اسے تھیلے سے گم پائو تو وہ بندہ وہیں ملے گا۔ بس موسیٰ علیہ السلام روانہ ہوئے اور اپنے ساتھ جوان خادم یوشع بن نوع کو لے لیا اور دونوں نے ایک مچھلی زنبیل میں رکھ لی جب دونوں ایک پتھر کے پاس پہونچے تو دونوں اپنے سر اس پر رکھ کر سوگئے اتنے میں مچھلی زنبیل سے نکل بھاگی اور دریا میں اس نے اپنا سرنگ بنالیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے اپنے خادم سے کہا میں برابر چلتا رہوں گا جب تک وہاں جہاں دو دریا ملتے ہیں یونہی برسوں چلتا رہوں گا پھر وہ دونوں ایک رات، دن میں جتنا باقی تھا اس میں چلتے رہے جب صبح ہوئی تو موسیٰ علیہ السلام نے اپنے خادم سے کہا ناشتہ لائو بایقین ہم سفر سے تھک گئے۔ تو اس وقت ان کے خادم نے کہا کیا آپ نے نہیں دیکھا جب ہم پتھر کے پاس ٹھہرے تھے تو مچھلی نکل بھاگی اور میں اس کا ذکر کرنا بھول گیا اور شیطان ہی نے مجھے بھلا دیا کہ میں اس کا ذکرکرتا۔ موسیٰؑ نے کہا یہی وہ جگہ ہے جس کی ہمیں تلاش تھی۔ آخر وہ دونوں کھوج لگاتے ہوئے اپنے پائوں کے نشانات پر لوٹے جب اس صخرہ کے پاس پہونچے تو دیکھا ایک شخص ہے اپنا کپڑا لپیٹے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے ان کو سلام کیا خضرؑ نے کہا تمہاری سرزمین میں سلام کہاں؟ پھر موسیؑ نے کہا میں موسیٰؑ ہوں۔ حضرت خضرؑ نے کہا بنی اسرائیل کے موسیٰؑ؟ انہوں نے جواب دیا ، ہاں۔ پھر کہا میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں اس شرط پر کہ آپ کو جو علم کی باتیں سکھلائی گئی ہیں وہ آپ مجھ کو سکھلادیں ۔ خضرؑ نے کہا تم میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کرسکوگے ۔ اے موسیٰ علیہ السلام بات یہ ہے کہ اللہ نے ایک قسم کا علم مجھے دیا ہے جسے تم نہیں جانتے اور تم کو ایک علم دیا ہے اسے میں نہیں جانتا۔ موسیٰؑ نے کہا اگر خدا چاہے تو آپ مجھ کو صبر کرنے والا پائوگے۔ میں آپ کے حکم میں خلاف ورزی نہیں کروں گا ۔ حضرت خضرؑ نے کہا اگر تم میرے ساتھ رہنا چاہتے ہو تو مجھ سے کوئی بات نہ پوچھنا جب تک کہ خود اس کا ذکر میں تم سے نہ کروں۔
چنانچہ دونوں سمندر کے کنارے پیدل چلے ان کے پاس کشتی نہ تھی کہ سمندر پار کر جائیں۔ اتنے میں ایک کشتی ان کے پاس سے گزری۔ انہوں نے کشتی والوں سے بات کی کہ انہیں کشتی میں سوار کرلیں کشتی والوں نے خضرؑ کو پہچان لیا اور انہوں نے دونوں کو بے کرایہ ہی سوار کر لیا ۔ اتنے میں ایک چڑیا آئی اور کشتی کے کنارے بیٹھ گئی پھر سمندر میں اس نے ایک یا دو چونچیں ماریں اسے دیکھ کر خضرؑ نے کہا۔ اے موسیٰ ؑ میرے اور تمہارے علم نے اللہ کے علم میں سے کچھ کم نہیں کیا مگر جتنا پانی کہ اس چڑیا کی چونچ نے سمندر سے لیا پھر خضرؑ نے کشتی میں سوراخ کرڈالا۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا کیا آپ نے اس کشتی میں اس لئے سوراخ کیا ہے کہ سواریوں کو غرق کر دیں یہ تو آپ کی بڑی عجیب بات ہے تو خضرؑ نے کہا۔ کیا میں نے نہ کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہ کر سکوگے۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا۔ آپ اس پر میرا مواخذہ نہ فرمائیے جو بھول مجھ سے ہوئی پھر دونوں چلے یہاں تک کہ ایک لڑکے سے ملے تو خضرؑ نے اس کا سر اکھیڑ دیا اس کو مار ڈالا ، موسیٰ نے کہا آپ نے بے گناہ جان کو مار ڈالا۔ بیشک آپ نے ایک غیر معقول حرکت کی تو خضرؑ نے کہا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کرسکوگے؟ موسیٰ نے کہا اچھا ٹھیک ہے اگر اس کے بعد بھی میں آپ سے کسی چیز کے متعلق سوال کروں تو آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھئے گا۔ پھر دونوں چل دئیے۔ یہاں تک کہ وہ ایک گائوں والوں کے پاس پہنچے تو ان سے کھانا طلب کیا۔ انہوں نے مہمانی کرنے سے انکار کردیا پھر انہوں نے وہاں ایک دیوار دیکھی جو گرنے والی تھی تو خضرؑ نے اسے اشارے سے سیدھی کردی ۔ موسیٰ نے کہا اگر آپ چاہتے تو ان سے اس پر گائوں والوں سے مزدوری لے سکتے تھے۔
حضرت خضرؑ نے کہا بس مجھ میں اور تم میں جدائی کی گھڑی آن پہونچی۔ لیکن جن باتوں پر تم صبر نہ کرسکے میں تم کو ان کا راز بتاتا ہوں :
(۱) وہ جوکشتی تھی تو چند غریب لوگوں کی تھی جو دریا میں کشتی چلا کر گزر بسر کرتے تھے تو میں نے چاہا کہ کشتی کو عیب دار کردوں کیونکہ سامنے ہی ایک بادشاہ تھا جو زبردستی ہر اچھی کشتی کو چھین لیا کرتا تھا۔
(۲) اور وہ جو لڑکا تھا اس کے ماں باپ دونوں مومن تھے تو ہمیں اندیشہ ہوا کہ وہ لڑکا سرکشی اور کفر میں ان کو گرفتار نہ کردے۔ وہ بداخلاق تھا تو ہم نے چاہا کہ ان کا رب اس لڑکے کی جگہ دوسرا بچہ عطا فرمادے جو پاکیزگی میں اس سے بہتر ہو اور محبت کرنے میں اس سے زیادہ ہو۔
(۳) اور دیوار کا معاملہ یہ ہے کہ وہ دو یتیم لڑکوں کی تھی جو شہر میں ہیں اور اس دیوار کے نیچے ان کا خزانہ مدفون تھا اور ان کا باپ نیک آدمی تھا تو ان کے رب نے چاہا کہ جب وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور اپنا خزانہ نکال لیں۔ تمہارے رب کی مہربانی سے اور یہ سب کام میں نے اپنی طرف سے نہیں کئے۔
یہ ان باتوں کی حقیقت ہے جن پر تم صبر نہ کرسکے۔ تو امّی بتائیے کیسا لگا سن کر بیٹی بہت اچھا۔ سچ میں اللہ تعالیٰ کی ہر چیز میں کچھ نہ کچھ مصلحت ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کو وہ چیزیں عطا کرتا ہے جو اس کے لئے بہتر ہو وہ چیز نہیں جو اس کو پسند ہو۔ ٹھیک ہے امّی اب میں فون رکھتی ہوں۔ دعائوں میں یاد رکھئے گا۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہqq
اے سال دوم،مسلم گرلس





