سیدنطام علی

سابق صدر جمہوریہ اور میزائل مین کے نام سے مشہور بھارت رتن ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام نے ہندوستان کو 2020 ء تک ترقی یافتہ ملک بنانے کا ہدف مقرر کیا تھا لیکن اب جبکہ اس میں دو سال کا عرصہ رہ گیا ہے دور دراز تک نہیں لگتا کہ ہندوستان آئندہ دس برسوں میں بھی ترقی یافتہ ملک بنے گا۔ ملک میں ریل گاڑی آمد و رفت کا ابھی سب سے سستا اور آسان ذریعہ ہے لیکن ریلوے کہیں سے ترقی پذیر ہونے کے موڈ میں نہیں ہے۔ ملک میں اس وقت 28 ہزار ریلوے پھاٹک ہیں اور اس میں سے 9 ہزار غیرچوکیدار والے ہیں۔ ان غیرچوکیدار والے پھاٹکوں پر ہر ماہ ملک کے الگ الگ حصوں میں حادثے ہوتے رہتے اور لوگ موت کے منھ میں جاتے رہتے ہیں لیکن مرکزی حکومت اس طرف توجہ نہیں دیتی۔
جمعرات کو کشی نگر میں ایک غیرچوکیدار والے ریلوے پھاٹک پر ایک اسکولی وَین ٹرین سے ٹکرا گئی جس میں 13 معصوم بچوں کی دردناک موت ہوگئی اس میں ایک ہی کنبہ کے تین بہن بھائی اور چار لوگوں کے دو دو بچے بھی ہیں۔ اس حادثے میں اسکولی وَین ڈرائیور کا قصورسب سے زیادہ ہے جو حادثے کے وقت ایئرفون لگائے تھا جبکہ بچے چیخ رہے تھے کہ ٹرین آنے والی ہے لیکن ڈرائیور نے اسے سنا ہی نہیں، کیونکہ وہ ایئرفون لگائے تھا۔ گذشتہ سال ستمبر میں وزیر ریل پیوش گوئل نے کہا تھا کہ ایک سال میں سبھی غیرچوکیدار والے پھاٹکوں پر لوگ تعینات کردیئے جائیں گے لیکن اعلان کے سات ماہ گذرنے کے باوجود بھی ایک بھی پھاٹک پر کوئی آدمی تعینات نہیں کیا گیا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ریلوے کو انسانی زندگی کی کوئی قیمت نہیں معلوم یا اس کو اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ پہلے کہا گیا تھا کہ سیٹیلائٹ سے اس کی نگرانی کی جائے گی لیکن اس پر بھی کوئی کام نہیں ہورہا ہے۔ ویسے اس کے لئے جتنا ذمہ دار ریلوے ہے اتنا ہی ہم سب ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ریل گاڑی آرہی ہے اور چند لمحوں کیلئے ریل لائن پار کرنے لگتے ہیں۔ اگر کوئی دماغی طور سے کمزور آدمی یہ کام کرتا رہتا ہے تو سمجھ میں آتا ہے لیکن تعلیم یافتہ لوگ یہ کام کرتے نظر آتے ہیں۔ 26 اپریل کو کشی نگر میں جو دردناک حادثہ ہوا اس میں سبھی بچے آٹھ سے بارہ سال کی عمر کے بھی تھے۔ جن والدین کے بچے دردناک حادثے میں ہلاک ہوئے ان کی ساری زندگی تڑپتے گذرے گی۔ حکومتیں غلطیوں سے سبق لیتیں لیکن ملک کی حکومتیں کسی غلطی سے سبق نہ لینے کی قسم کھاچکی ہیں۔ حادثے ہوتے رہے ہیں معصوم مرتے رہے۔
ملک کا کروڑوں اربوںکا نقصان ہوتا رہے لیکن چند لائن کی اظہار غم کرکے حکومت میں بیٹھے لوگ اپنا فرض پورا کرلیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان 9 ہزار غیرچوکیدار والے ریلوے پھاٹک پر اگر آدمی تعینات ہوجائے تو کتنا خرچ آئے گا جبکہ اس سے ہزار گنا زیادہ وجے مالیہ، نیرو مودی بینکوں کا مارکر بیرون ممالک میں عیش کی زندگی گزارتے ہیں۔ دوسرے ممالک میں اس طرح کا ایک بھی واقعہ ہوجاتا ہے تو وہاں کے لوگ اقتدار میں بیٹھے لوگوں کی نیند حرام کردیتے ہیں لیکن اقتدار میں بیٹھے لوگوں کی ہی طرح ہی ملک کا عام آدمی بھی بے حس ہوگیا ہے جو چند لمحوں بعد ہی ایسے حادثوں کو بھول جاتا ہے اور اس کا کوئی ردعمل تک نہیں ہوتا۔ آزادی کے 71 سال بعد بھی ہم اُسی پرانی روش پر چل رہے ہیں۔ اسکول و کالجوں کی بس میں حفاظت کے کوئی انتظامات نہیں ہوتے نہ ہی اسکول کا کوئی اٹینڈنٹ بس میں ہوتا ہے۔ اگر اسکول کا اٹینڈنٹ بس میں ہوتا تو وہ اسکول کی گاڑی ڈرائیور کو غیرچوکیدار والے ریلوے پھاٹک نہ پار کرنے دیتا۔
اسکول و کالجوں میں جو بس و ماروتی وین لگی ہوتی ہیں وہ زیادہ تر کھٹارہ ہوتی ہیں اور اس میں بچے جانوروں کی طرح بھرے ہوتے ہیں۔ یہی نہیں جو رکشے بھی اسکولی بچوں کو لے کر جاتے ہیں وہ بھی ایک رکشے پر چھ سے سات بچوں کو پٹرے لگاکر بٹھا لیتے ہیں زیادہ تر ڈرائیوروں کے پاس ڈرائیونگ لائسنس نہیں ہوتا نہ تو کبھی محکمہ نقل و حمل کے لوگ اور نہ ہی اسکول و ٹریفک پولیس کے لوگ ان چیزوں کی جانچ کرتے ہیں۔ اسی طرح اسکولوں کا حفاظتی انتظامات کا بھی حال ہے۔ حادثہ کے چند دن بعد سی سی ٹی وی کیمروں کی بات اٹھتی ہے لیکن دیکھا یہ جارہا ہے کہ راجدھانی لکھنؤ تک میں آدھے سے زیادہ اسکول و کالجوں میں سی سی ٹی وی کیمرے نہیں لگے ہیں تو دور دراز کے ضلعوں و گاوئوں کے اسکول و کالجوں کا کیا حال ہوگا۔ ہر طرف لاپروائی و بدحواسی کا عالم ہے۔
㨄㨄㨄㨄





