
صدیقی صائم الدین نوجوان قلم کاروں میں ہیں۔ان کے مقالات اور مضامین اردو کے رسائل وجرائد میں شائع ہوتے رہتے ہیں ۔وہ محقق ،نقاد ہونے کے ساتھ ساتھ تخلیق کار بھی ہیں ۔ ان کی اب تک دو کتابیں منصہ شہود پر آچکی ہیں ۔زیر تبصرہ کتاب ’’دریچہ‘‘ صدیقی صائم الدین کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ ہے ۔یہ کتاب دو حصوں پر مشتمل ہے۔پہلے حصے میں شعری مضامین ہیں جبکہ دوسرے حصے میں نثری ۔
پہلا حصہ ’’مضامین متعلق نظم‘‘ کے عنوان سے ہے جس میں کل ۱۱ مضامین ہیں۔ابتدائی تین مضامین خواجہ حیدرعلی آتش،حسرت عظیم آبادی اور سرور جہان آبادی کے بارے میں ہیں ۔ ان مضامین میں جہاں نقد و احتساب کا فریضہ انجام دیا گیا ہے وہیں صدیقی صائم الدین نے ان شعرا کے ابتدائی حالات اوران کے اہم سوانحی گوشوں کو بھی پیش کیا ہے ۔ ان شعرا کے تجزیے میں اہم شعری میلانات اور مضامین کی نمایاںجہتوں کوپیش کیاگیا ہے ۔مطالعہ کے دوران براہ راست متن سے حوالہ دے کر اپنے دعووں کی دلیل فراہم کی گئی ہے اور کہیں کہیں اشعار کی عمدہ تعبیر و تشریح بھی کی گئی ہے ۔البتہ غزل کے ان اہم شعرا کے مطالعہ میں پیش رو تنقیدی تحریروں سے براہ راست استفادہ نہیں کیا گیا ہے اور غالباً اسی لیے ابتدئی تینوں مضامین میںکسی طرح کا کوئی حوالہ نہیں ہے ۔آتش کے بارے میں انہوں نے لکھا ہے کہ ’’ الغرض آتش کے پاس عشق ہو کہ تصوف۔دونوں ہی بدرجہ اتّم موجود ہیں‘‘(ص ۳۳) واضح رہے کہ بدرجہ اتم کا ’’ت‘‘ کتاب میں مشدد ہے۔
شعری حصے میں ترقی پسند تحریک سے وابستہ شعرا ء فیض احمد فیض ،مجاز،سردار جعفری،جذبی،مخدوم محی الدین اور جانثار اختر وغیرہ کی شاعری کا مطالعہ کیا گیا ہے ۔فاضل مصنف نے التزام کے ساتھ ان شعرا کے اہم سوانحی گوشوں اور کوائف کا ذکر کیاہے ۔شعری سفر کے آغاز سے آخری وقت تک ان کے یہاں کس طرح کی تبدیلی واقع ہوئی اور کن پہلووں پر زیادہ توجہ دی۔ فاضل مصنف نے شعری متن سے اپنی بات کو مدلل کیا ہے ۔ادب کی تفہیم اور تجزیے کی یہ کاوش ان کے تنقیدی و شعور کا پتہ دیتی ہے۔ البتہ موضوعات کے عناوین کے انتخاب میں سہل اور عام فہم الفاظ کا استعمال زیادہ بہتر ہوتا ہے۔
زیر تبصرہ کتاب کے مشمولات میں ایک مضمون ’’اذہاب ذہن معین احسن جذبی‘‘ کے عنوان سے ہے ۔مصنف کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ جذبی نے اپنی شاعری کو سطحیت کا شکار نہیں ہونے دیا ۔
اختر الایمان کی شاعری سے جہاں انہوں نے سماجی حسیت کا نقشہ پیش کیا ہے وہیں یہ بھی لکھا ہے کہ ان کے یہ اشعار بے حسی کی تصویر ہیں مگر ان میں روشنی کے بجائے امید کی کرن ہے۔انہوں نے مختلف مذہبی،تہذیبی اور سماجی علامتوں کے توسط سے اس جدوجہد کا نقشہ کھینچا ہے جس کے متلاشی تو سب ہیں مگر عمل پیرا کم ہی ہوتے ہیں ۔
کتاب کا دوسرا حصہ ’’ مضامین متعلق نثر‘‘ کے عنوان سے ہے۔نثری حصہ محض تین مضامین پر مشتمل ہے ۔ ’’مولانا ابوالکلام آزاد اور تقسیم ہند ‘‘ کے عنوان سے ایک مقالہ ہے اس میں تقسیم ہند سے متعلق مولانا کے نظریات کو بیان کیا گیا ہے۔صائم الدین نے اس کے لیے ہماری آزادی کو اپنے مطالعہ کا بنیادی ماخذ بنایا ہے ۔اس کے علاوہ دریچہ کے ایک مضمون ’’عصمت چغتائی حیات اور ادبی خدمات‘‘ سے عصمت چغتائی کی زندگی کے ہمہ جہت پہلو مزید ان کی ادبی خدمات سے بخوبی واقفیت ہوتی ہے۔
زیر تبصرہ کتاب کا آخری مضمون ’’ افسانہ رقص ناتمام میں نسوانی مسائل کی عکاسی‘‘ ہے ۔اس افسانے میں عزیز احمد نے عورتوں پر ہو نے والے مظالم اور ان کی کیفیات کو موضوع بنایا ہے ۔اس کے علاوہ سماج کا ایک مسئلہ لڑکیوں کی ان کی مرضی کے بغیر شادی بھی ہے ۔عزیز احمد کے بیشتر افسانے اپنی مثال آپ ہیں مگر افسانہ رقص ناتمام میں عزیز احمد نے اپنے منفرد اسلوب اور جادوبیانی سے نسوانی کردار کو جس طرح سے قاری کے سامنے پیش کیا ہے اس کی نظیر بہت کم ملتی ہے۔اس اہم افسانے کاصائم الدین نے عمدہ تجزیاتی مطالعہ کیا ہے اور اس کے نسوانی مسائل کو بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے ۔
صدیقی صائم الدین جواں سال قلم کار ہیں ان سے ادبی دنیا کہ توقعات وابستہ ہیں ۔یقیناً اس کتاب کے مطالعہ سے ان کے تنقیدی شغف کا خاطر خواہ اندازہ کیا جاسکتا ہے۔امید کی جاتی ہے کہ وہ اپنے مطالعہ کو اور مہمیز کریں گے اور شعر وادب کی تفہیم و تعبیر کا بہتر سے بہتر فریضہ انجام دیں گے۔
atharhusainmanuu.edu.in





