Friday, February 27, 2026
spot_img
HomeMuslim Worldبیج ڈالے بغیر فصل کاٹنے کی تیاری

بیج ڈالے بغیر فصل کاٹنے کی تیاری

حفیظ نعمانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آزاد ہندوستان کی تاریخ میں ہمیں یاد نہیں کہ کبھی الیکشن سے ایک سال پہلے حکومت کے سربراہ اور ہر وزیر نے ہر کام چھوڑکر صرف الیکشن کی تیاری شروع کردی ہو۔ یہ ضرور ہوا ہے کہ ایک سال پہلے سے حکومت ان مطالبات میں سے جو چار سال تک اٹھتے رہے ہوں ان میں سے بے ضرر مطالبات کو منظور کرکے اپنے لئے ماحول بنانا شروع کرتی رہی ہے۔ یا ریل کے کرایہ میں اضافہ ٹیکس میں اضافہ یا وہ تمام قدم اس وقت تک روک دیتی رہی ہے جس سے عوام ناراض ہوجائیں۔ لیکن موجودہ مودی سرکار نے سب کام چھوڑکر صرف 2019 ء مشن شروع کردیا ہے اس کے لئے لاکھوں پوسٹر بینر اور ہزاروں ہورڈنگ یا ٹی وی چینل کے اشتہاروں پر کروڑوں روپئے خرچ کرنے کے علاوہ ہر ووٹر سے دوبدو ملاقات کرنے کا پروگرام بنایا ہے جس کے لئے समर्थन और सम्पर्क یعنی ملنا اور مدد مانگنا کا پروگرام بنایا ہے جس میں پارلیمنٹ کا ہر ممبر اب صرف اپنے حلقہ میں ووٹر سے ملے گا اور مدد مانگے گا اور ہر کسی کو مل کر بتائے گا کہ حکومت نے آپ کے اور آپ کے بچوں کیلئے کیا کیا ہے؟ فارسی کی ایک مشہور مثل ہے ’’مشک آنست کہ خود بگوید نہ کہ عطار بگوید‘‘ مشک وہ اصلی ہوتا ہے جو خود بولتا ہے وہ نہیں جسے فروخت کرنے والا عطار (دُکاندار) اصلی بتائے۔ ہم نے اپنی اتنی عمر میں صرف ایک بار مشک دیکھنا چاہا وہ جن صاحب کے پاس تھا وہ اندر سے لائے اور اس کے اوپر لپٹا ہوا کاغذ اتارنا شروع کیا اور جب پندرہ بیس کاغذ اتار دیئے تو پورے ماحول میں خوشبو پھیل گئی بعد میں انہوں نے کہا کہ اگر آپ خالص مشک کو ہاتھ میں لے کر سونگھ لیں گے تو کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ ہم نے انہیں روک دیا کہ بس اسے لپیٹ دیجئے۔
مودی جی کی سرکار کا ہر آدمی اور پارلیمنٹ کا ہر ممبر صرف ایک سال یہ بتائے گا کہ حکومت نے چار سال میں آپ کے لئے کیا کیا ہے؟ حیرت اس بات پر ہے کہ جسے بتایا جائے گا اسے خود نظر کیوں نہیں آیا؟ اگر اس کے گائوں میں نہیں ہوا تو ان میں سے کسی ایک گائوں میں جہاں ان کی رشتہ داریاں ہیں وہاں سے خبر کیوں نہیں آئی؟ اگر کوئی میرے پاس آیا تو اس کو بتائوں گا کہ نوٹ بندی کے بعد ہمارے پریس کا کام آدھا رہ گیا تھا اس لئے کہ ہر نیتا کے پاس ایک رقم ایسی ضرور ہوتی تھی جس کا حساب صرف اس کے پاس ہوتا تھا اور وہ آنے والے الیکشن سے پہلے اپنے حلقہ میں پڑنے والی عیدگاہوں اور ان مسجدوں میں جہاں عید کی نماز ہوتی ہے وہ اپنی طرف سے دل کی گہرائیوں سے ہر بھائی کو عید مبارک کے پرچے لاکھوں کی تعداد میں بٹواتے تھے اور ہندو بھائیوں کو ہولی اور دیوالی کی مبارکباد کے اشتہار چھپواکر بانٹتے تھے۔
ان کے علاوہ اور نہ جانے کتنے کام ہوتے تھے جس میں لمبی رقم خرچ ہوتی تھی اور ان کے پوسٹر دعوت نامے اور خطبہ استقبالیہ اور خطبہ صدارت چھپتے تھے۔ نوٹ بندی نے سب بند کردیا۔ اس کے بعد جی ایس ٹی نے وہ مار ماری کہ جو کچھ بچا تھا وہ اس نے لے لیا۔ ہمارا وہ بیٹا جو پریس کا مالک ہے وہ نوٹ بندی سے پہلے صبح 9 بجے سلام کرکے جاتا تھا اور رات کو اکثر ملاقات نہیں ہوتی تھی کیونکہ ہم گیارہ بجے ضرور سوجاتے ہیں۔ مودی جی نے اپنی حکومت میں یہ کیا ہے کہ وہ بیٹا اب دوپہر بارہ بجے تک گھر رہتا ہے اور جب پریس جاتا ہے تو شام کو عام طور پر 6 بجے گھر آجاتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ دوسرے پریسوں کا اس سے بھی برا حال ہے۔ ہمارے نواسوں کی دُکانوں کا بھی یہی حال ہے کہ پہلے وہ صرف اتوار کے دن ہم سے ملنے آتے تھے۔ اور خوش تھے کہ صبح دس بجے دُکان کھولنا مشکل ہوجاتا ہے ٹھیک سے دُکان کھل بھی نہیں پاتی کہ خریدار کہنے لگتے ہیں کہ بھیا ہمارا مال پہلے نکلوا دیجئے۔ اور اتوار کے دن بھی ہم حساب کتاب کرنے کے لئے دُکان جاتے ہیں تو خریدار آجاتے ہیں اور شام ہوجاتی ہے۔
مرکزی حکومت کے وزیر پارلیمنٹ کے ممبر آر ایس ایس کے منجھے ہوئے جادوگر غریب اور جاہل کسانوں کو کیا بتائیں گے اور کیا دکھائیں گے؟ 2014 ء میں مودی جی نے سمپرک (सम्पर्क) کیا تھا اور نہ سمرتھن (समर्थन) مانگا تھا۔ بس یہ دکھایا تھا کہ کانگریس نے کیا کیا نہیں کیا۔ اور ہم سب کو معلوم تھا کہ مودی جی سچ کہہ رہے ہیں تو سب نے ووٹ دے دیا اور اب راہل گاندھی، شرد پوار، شرد یادو، اکھلیش یادو، مایاوتی اور تمام بی جے پی کے مخالف لیڈر جب بتائیں گے کہ 2014 ء میں مہنگائی کتنی تھی جس کے خلاف تم نے بی جے پی کو ووٹ دیا تھا اس وقت پیٹرول، ڈیزل اور پکوان گیس کا سلنڈر کتنے کا تھا اور اب کتنے کا ہے؟ یا پانچ سال پہلے کتنے روپئے میںایک ڈالر ملتا تھا جس کے لئے مودی جی نے کہا تھا کہ روپئے کی عزت گرادی اور اب کتنے کا ہے جو ملک کی عزت بڑھ گئی۔ مودی جی کو جب ووٹ دیا تھا تو اس سال یا اس سے پہلے سال کتنے نوجوانوں کو سرکاری نوکری ملی تھی اور کتنوں کو روزگار اور مودی جی نے نعرہ دیا تھا کہ ہر سال دو کروڑ نوجوانوں کو روزگار دوں گا اور اب وہ کہہ رہے ہیں کہ پکوڑے بناکر بیچو یہ بھی روزگار ہے اور ان کی پارٹی کے ایک وزیراعلیٰ کہتے ہیں کہ لاکھوں کمانا ہے تو پان کی دُکان کھولو۔ حیرت ہے کہ مودی جی نے خود ہی اپنے لئے الیکشن کو مشکل بنایا ہے اور اب سمپرک (सम्पर्क) اور سمرتھن (समर्थन) کرنے چلے ہیں۔ اگر انہوں نے جو کچھ 2014 ء میں کہا تھا اس کا چوتھائی بھی کردیا ہوتا تو مارچ میں کھڑے ہوتے اور اپریل میں موٹے موٹے ہار پہن کر کرسی پر آکر بیٹھ جاتے۔ اب وہ راہل کے ان ہتھیاروں کا مقابلہ بھی نہیں کرپائیں گے جنہیں مودی جی اب تک کھلونہ کہتے آئے ہیں۔
بی جے پی کا یہ پرانا ہتھیار ہے کہ جب آگے کا راستہ بند نظر آتا ہے تو وہ ایک گنوار لڑکی کی طرح روتی ہوئی آر ایس ایس کے گھر کی کنڈی بجاتی ہے اور روتی ہے کہ مجھے بچائو۔ ہم نے دیکھا ہے کہ وہاں سے فوج آتی ہے اور وہ ہندو ہندو گاتی بجاتی گائوں گائوں گھومتی ہے کم عقل عورتوں پر اس کا اثر بھی ہوتا ہے لیکن جب آندھی چلتی ہے تو وہ بھی کچھ نہیں کرپاتے۔ اگر نوٹ بندی نے گائوں کو چھوڑ دیا ہوتا تو مودی جی کو کچھ کرنے کی ضرورت نہ پڑتی مگر انہوں نے تو لہنگے کے نیفے میں اپنے پتی اور بیٹوں سے چھپائے ہوئے روپئے بھی نکلوا دیئے تو اب وہ کس منھ سے سمرتھن (समर्थन) مانگنے جارہے ہیں۔ افسوس ہے کہ یہ ہندوستان ہے جس کی رگوں میں آج بھی غلامی دوڑ رہی ہے ورنہ ان کے ساتھ جو حکومت نے کیا ہے دوسرا ملک ہوتا تو سمرتھن (समर्थन) مانگنے والوں کو گنڈاسہ لے کر گائوں کی سرحد تک دوڑاتے۔
Mobile No. 9984247500
خخخ

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular