Friday, February 27, 2026
spot_img
HomeMuslim Worldانور جلالپوری کی شاعری کا ایک اجمالی مطالعہ

انور جلالپوری کی شاعری کا ایک اجمالی مطالعہ

حبیب ہاشمی کلکتہ

شاعری میں استعاراتی نظام، اسلوبیاتی انفرادیت، ہنر مندی اور مشاطگی یہ چند عوامل اگر شاعر کے قلم کا اثاثہ ہوں تو بیشک وہ اچھا شاعر ہے، اور اسے تسلیم کرنا اخلاقی اور ادبی فریضہ ہے۔ ہر چند کہ انور جلالپوری نے مشاعروں کی نظامت ونقابت میں اپنا وقت زیادہ صرف کیا ہے جو ان کی اقتصادی اور معاشی مجبوری تھی جس سے ہمیں کوئی دلچسپی نہیںہونی چاہئے۔ بلکہ دیکھنا یہ ہے کہ مندرجہ بالا مشروط عوامل ان کی شاعری میں کسی تناسب اور مقدار میں موجود ہیں۔
بتائیں آؤ ہم روداد صحرا
ہمارے پاؤں میں چھالے بہت ہیں
مندرجہ بالا شعر میں ’’روداد صحرا‘‘ علامت نگاری کی ایک اچھی مثال ہے جو ترکیبی علامت ہے۔ اور شعر کے دوسرے مصرعہ میں ’’چھالے‘‘ قطعاً استعارہ ہے۔ اس طرح شعر میں علامت نگاری کے ہمراہ استعارہ متوازی لکیر کی طرح سفرکر رہا ہے۔ بعض ذہن یہ سوچنے پر مجبور ہوسکتا ہے کہ شعر میں بعد ہے یا دولخت ہے۔ دراصل یہی بعد شعر کا صحیح حسن ہے۔ شعر میں یہی ابہام اجمال کی صنعت پیدا کرتا ہے۔ انورؔ اگر چاہتے تو اس شعر کو وضاحتی لباس دے سکتے تھے۔ مگر شعرا کہرا ہوکر رہ جاتا اور معنی آفرینی کے محاسن پیدا نہ ہوتے۔ انھیں تناظر میں بین السطور کے اشعار دیکھئے:
ہوا ہو تیز شاخوں سے پتے ٹوٹ جاتے ہیں
ذرا سی دیر میں برسوں کے رشتے ٹوٹ جاتے ہیں
دل کسی کا ہو، مقدس ہے حرم کی مانند
اس عمارت کو گرانے کی سزا پاؤگے
اب کے موسم میں مرے چاہنے والوں کی قسم!
اتنا پتھر مرے سر پر کبھی برسا ہی نہیں
کبھی پھولوں، کبھی خاروں سے بچنا
سبھی مشکوک کرداروں سے بچنا
بغض اور نفرت کی کس جانب سے آئی ہے ہوا
اے خدا اس شہر میں پہلے یہ بیماری نہ تھی

جہاں تک اسلوبیاتی انفرادیت کا تعلق ہے، تو مجھے یہ کہنے میں ذرا بھی اغماز وتامل نہیں کہ انورؔجلالپوری کا اپنا اسلوب ادا ہے جو سیدھا سادھا تو ہے مگر فکر کی وسعت اور گہرائی ان کے اسلوب کو منفرد بناتی ہے۔ ہر چند کہ ان کی آواز کہیں کہیں بعض معاصرین سے ٹکرا کر بارگشت کی مصنوعی صورت حال پیدا کرتی ہے۔ لیکن جن آوازوں سے ٹکراتی ہے وہ آوازیں انور جلالپوری کی آواز کے ساتھ زیادہ دور تک نہیں جاتیں اور اپنے کھوکھلے پن، بے ہنری، افکاروخیال کی یکسانیت اور سطحیت کی وجہ سے سانسیں توڑ دیتی ہیں۔ ایسا اس لئے کہ انور جلالپوری کا مطالعہ ومعلومات کمال عروج تک پہنچا ہوا ہے۔ انورؔ ایک ذہین، سنجیدہ اور باصلاحیت شاعر ہیں۔ ان کے لہجے میں چند لہجوں کی دھمک ضرور ہے مگر وہ پھر بھی اپنے لہجے اور اسلوبیاتی انفرادیت کے اعتبار سے تنہا نظر آتے ہیں۔ ان کی شاعری کو انفرادیت بخشنے میں ان کی سادہ لوحی، شرافت نفسی اور ان کے سینے میں دوسروں کے غموں میں دکھتا ہوا دل ہے۔ وہ زندگی کے رموز وانجام سے بخوبی واقف ہیں۔ میں نے ان کی گفتگو میں کبھی تلخی نہیں پائی ہے، وہ اقبال کے درج ذیل اشعار پر سختی کے ساتھ عمل پیرا ہیں۔
وصل کے اسباب پیدا ہوں تری تحریرسے
دیکھ! کوئی دل نہ دکھ جائے تری تقریر سے
پاک رکھ اپنی زباں تلمیذ رحمانی ہے تو
ہو نہ جائے دیکھنا تیری صدا بے آبرو
انورجلالپوری ان شاعروں میں سے نہیں ہیں جنھوں نے ہمارے بنیادی ادب کا مطالعہ ہی نہیں کیا یا جو ادب دیکھ کر ادب خلق کرنے کے عادی ہیں۔ دراصل یہی طریقہ کار ہمارے آج کے ادب کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ اور پاکستان کے نام نہاد شعرا کو یہ کہنے کا موقع فراہم کررہا ہے کہ پاکستان کی شاعری ہندوستان کی شاعری کے مقابلے میں اچھی ہے۔ حالانکہ ایسا کچھ نہیں ہے۔ یہاں مطالعہ سے مراد صرف ورق گردانی یا چمکیلے اشعار کو یاد کرلینا نہیں ہے، بلکہ مطالعہ سے مراد تقابلی اجتہاد، تنقیدی شعور اور فنی حسن وقبح کے تنوع میں ایک الگ راہ ہموار کرنے کی کوشش ہے۔ انور جلالپوری کا مطالعہ وسیع تر ہے، انھوں نے میرؔ، سوداؔ، غالبؔ اور اقبال کو خصوصیت سے پڑھا ہے اور اپنے شعری شعور کے آئینے کو اپنے نادر خیالات کی شبنم سے دھو کر سورج بنایا ہے۔ ظاہر ہے سورج سے لاکھ رخ پھیراجائے مگر ا س کی تمازت سے بچنا ناممکن ہے۔ ان کے چند اشعار کو آپ دیکھیں اور خود فیصلہ کریں کہ میرا کہنا کہاں تک صداقت پر مبنی ہے:۔
تمہیں یہ ضد ہے کہ شاعری میں تم اپنے اسلاف سے بڑے ہو
اگر یہ سچ ہے تو پھر سنادو بس ایک ہی شعر میرؔ جیسا
وہ جس کو پڑھتا نہیں کوئی بولتے سب ہیں
جناب میرؔ بھی کیسی زبان چھوڑ گئے
دل کہیں، ذہن کہیں، جسم کہیں، روح کہیں
آدمی ٹوٹ کے بکھرا کبھی ایسا تو نہ تھا
زمیں، فلک مہروماہ وانجم، یہ گل یہ غنچے کہاں سے آئے
کوئی جو پردے ہی میں نہیں ہے تو پھر یہ جلوے کہاں سے آئے
ابھی زندگی کی حقیقتیں، میرے یار تجھ پہ نہیں
ابھی دوستوں میں حسد نہیں، ابھی دشمنوں میں جلن نہیں
حسد بھی ایک بیماری ہے پیارے
ہمیشہ ایسے بیماروں سے بچنا
اپنا غم سارے زمانے کو سنائیں کس لئے
پتھروں کے سامنے آنسو بہائیں کس لئے
جو شخص زمانے کے خداؤں سے لڑا ہے
سقراطؔ ہوا ہے کبھی سولی پہ چڑھا ہے
اللہ کرم کر! کہ بہت تیز ہوا ہے
غربت ہے، سیہ رات ہے، صرف ایک دیا ہے
انور جلال پوری کے یہاں انانیت بھی ہے، مگر ان کی انا ایک خوشگوار محدود دائرے میں گردش کرتی ہے اور انھیں انا پرستی سے محفوظ رکھتی ہے۔ انا تقاضۂ شاعری ہے لیکن انا پرستی خصائل فرعونیت ہے۔ شاعر کی انا اسے عام اور معمولی آدمی سے بالا تر بناتی ہے مگر انا پرستی اسے غلط جہتوں کی طرف لے جاتی ہے، اور وہ منفی رویوں کا مریض ہوجاتا ہے، اسے دنیا کی کسی شے یا آدمی میں کوئی خوبی نظر نہیں آتی اور وہ اپنے سے اچھا کسی کو نہیں سمجھتا اور یہ سوچ اس کے لئے تباہ کن ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ انور جلالپوری اپنی جائز انا کے ساتھ اپنا شاعرانہ سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وہ معاشرے میں خرابیاں اور اچھائیاں دونوں دیکھتے ہیں، وہ صرف اپنی ذات میں نیکی نہیں دیکھتے بلکہ دوسروں میں بھی انھیں یہ محاسن نظر آتے ہیں۔ ان کی آنکھیں غبار انانیت سے میلی نہیں ہیں۔ بلکہ مثبت رویوں کے نگینے ان کی آنکھوںکی پتلیوں میں جڑے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب وہ معاشرے کی برائیوں کو حیطۂ خامہ میں لاتے ہیں تو اعتدال پسند ہوکر اور تہذیبی دائرے میں رہ کر لاتے ہیں اور ان کی تنقید سوہان روح نہیں ہوتی بلکہ زخموں پر مرہم پاشی کرتی ہے۔ ان کی شاعری کو پڑھ کر نہ ذہن بوجھل ہوتا ہے اور نہ جھنجھلاہٹ کا شکار ہوتا ہے۔ بلکہ صحتمند رجحانات پیدا کرنے کی سعی جمیلہ کرتاہے۔
انورؔ جلالپوری کی شاعری کے تعلق سے میں نے جو گفتگو کی ہے، وہ قصیدہ خوانی نہیں ہے، اہل نگاہ اور انصاف پسند لوگ خود فیصلہ کریں گے کہ میری باتیں کس قدر صداقت اور ایمانداری پر محمول ہیں۔ انور کے یہاں افکارومواد کے ہمراہ حسن ادا بھی ہے جسے فنکارانہ صلاحیت کا نام دیاجاتا ہے۔ ان کا لہجہ سپاٹ، بیانیہ اور صحافتی نہیں ہے۔ ان کی شاعری میں عصریت، کرب وغم اور ایک خاص قسم کی نشتریت ہے جو تہذیب اور شاعرانہ تملک کے ساتھ ہے۔ ان کے یہاں بے شمار اچھے اشعار کی موجودگی اس بات کے ثبوت ہیں کہ ان کی سوچوں کے ساتھ ساتھ ان کی مشق بھی اچھی ہے۔ ہاں کہیں کہیں ان سے چوک ضرور ہوئی ہے اور یہ چوک زبان وبیان اور محاورے کے تصرفات کی ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ان کے کلام میں معائب ہیں، بلکہ غلطی ہے اور غلطی تو بشری تقاضا ہے۔ انور جلالپوری کی شاعری کلام معبود تو ہے نہیں جس میں غلطی کا احتمال نہ ہو، بلکہ ان کی شاعری کلام عبد ہے۔ کلام معبود اور کلام عبد میں افتراق اور امتیاز تو لازمی عمل ہے۔
انور جلال پوری کے چند اشعار کا خصوصی مطالعہ کیجئے اور ان کی شاعرانہ عظمت کی داد دیجئے:
کوئی گرتی ہوئی دیوار دیکھو اور پھر سوچو
کسی مجبور کا کیسے سہارا ختم ہوتا ہے
یہ دنیا خشک وتر کا نام ہے سنتے ہیں بچپن سے
سمندر اب ضرو ر آئے گا صحرا ختم ہوتا ہے
حمایت اور ہمدردی تو خوشحالی کے جلوے ہیں
مصیبت کی گھڑی میں سب سہارے ٹوٹ جاتے ہیں
جو اپنی خوش لباسی پر ہیں نازاں!
حقیقت میں وہی ننگے بہت ہیں!
ہم کاشی، کعبہ کے راہی، ہم کیا جانیں جھگڑا بابا
اپنے دل میں سب کی الفت، اپنا سب سے رشتہ بابا
پہلے لوگوں میں محبت تھی، ریاکاری نہ تھی
ہاتھ اور دل دونوں ملتے تھے اداکاری نہ تھی
آج میں نے اس سے اپنے غم کا شکوہ کردیا
ایک لغزش زندگی بھر کی عبادت کھاگئی
کبھی پھولوں، کبھی خاروںسے بچنا
سبھی مشکوک کرداروں سے بچنا
ہماری تاریخ کے سفر میں مسافر ایسا بھی اک ہوا ہے
جو کاواں کا تھا میرؔ لیکن سفر میں تھا راہ گیر جیسا
اب تو یہ احساس بھی باقی نہیں ہے دوستو!
کس جگہ ہم مضمحل تھے اور کہاں اچھا لگا
وہ جن لوگوں کا ماضی سے کوئی رشتہ نہیں ہوتا
انھیں کو مستقبل کا اندازہ نہیں ہوتا
مجھے امید ہی نہیں یقین بھی ہے کہ آج کے بدلتے ہوئے ماحول اور معاشرے کے تناظر میں مندرجہ بالا اشعار قارئین کے دلوں کی تہوں میں اترتے چلے گئے ہوں گے۔ بلاشبہ انور جلالپوری کی شاعری توجہ چاہتی ہے۔


RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular