انور جلال پوری میں ایک نیک انسان کی تمام خوبیاں موجود تھیں:ڈاکٹردنیش شرما
اردو رائٹرس فورم کے زیر اہتمام آل انڈیا کیفی اعظمی اکادمی میں تعزیتی جلس
ہ ڈاکٹر ہارون رشید
لکھنؤ۔۴؍جنوری۔انور جلال پوری کا ترجمہ’ اردو شاعری میںگیتا‘ اصل سے بہتر ہے۔اس لئے کہ اب سنسکرت کو سمجھنے والے بہت کم ہیں اور انور جلال پوری نے جس زبان میں ترجمہ کیا وہ نہایت سادہ اور آسان ہے۔انور جلال پوری کے انتقال سے ایسا لگا کہ جیسے دورانِ مشاعرہ شمعِ محفل گل کر دی جائے۔ان خیالات کا اظہار گورنر اتر پردیش رام نائک نے آل انڈیا کیفی اعظمی اکیڈمی واقع پیپر مل کالونی نشاط گنج میں کیا۔شری رام نائک عالمی شہرت یافتہ شاعر ،ناظم،مترجم،مصنف،دانشور اور دردمند انسان انور جلال پوری کے سانحۂ ارتحال پر اردو رائٹررس فورم کے زیر اہتمام ہونے والے تعزیتی جلسہ میں اپنے تعزیتی تاثرات کا اظہار کر رہے تھے۔انھوں نے اپنا سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا کہ نئے سال کے موقع پر ساری دنیا میں ایک جشن کا ماحول ہوتا ہے ابھی اس جشن کی خماری کم بھی نہیں ہونے پائی تھی کہ ۲؍جنوری کی صبح نہایت افسوسناک خبر آئی کہ انور جلال پوری نہیں رہے۔گورنر نے کہا کہ انور جلال پوری نے گیتانجلی ،اور گیتا کے تراجم کے توسط سے اردو ہندی کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کا لائق صد مبارکباد کارنامہ انجام دیا۔انھوںنے اس موقع پر گیتا کے کچھ اقتباس اصل سنسکرت اور اس کا ترجمہ پڑھتے ہوئے کہا کہ انور جلال پوری نے ایسا ترجمہ کیا ہے جو اصل سے بہتر ہے۔ایسا اعلیٰ کام کرنے والا شخص ہمارے درمیان سے چلا گیا ہے۔ اس نے جو پونجی دی ہے اس کا مثبت استعمال سب کو کرنا چاہئے یہی مرحوم کے تئیں سچاخراج ہے۔انھوں نے کہا کہ ایک موقع پر مرحوم نے میری کتاب پر ہونے والے مذاکرے میں جو تقریر کی وہ میرے لئے یادگار ہے۔
اترپردیش کے نائب وزیر اعلی ڈاکٹر دنیش شرما نے اپنی تعزیت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انور جلال پوری میں ایک نیک انسان کی ساری خوبیاں موجود تھیں۔میں نے متعدد بار ان کا کلام سنا ہے وہ جب بولتے تو ایسا لگتا تھا کہ کوئی در یا ر واں ہے۔انھوں نے کہا کہ انسان کا کام اسے زندہ رکھتا ہے۔ایک قلم کار کے لفظ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔اپنے قلم سے جو کچھ انھوں نے لکھ دیا اس کے حوالے سے وہ ہزاروں سال جئیں گے۔انور جلال پوری قرآن اور گیتا پر یکساں مہارت رکھتے تھے۔انھوں نے کہا کہ میں کسی قسم کے اعلان کو مناسب نہیںسمجھتا لیکن ہماری کوشش ہوگی کہ کچھ ایسا کیا جائے جس سے انور جلال پوری کے نام کو زندہ رکھا جا سکے۔
ڈاکٹر عمار رضوی نے کہا کہ انور جلال پوری اپنی تخلیقات اور تراجم کے حوالے سے اردو ہندی ادب میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ان کی زندگی کبھی نہ ختم ہونے والی زندگی ہے۔انھوں نے نائب وزیر اعلی سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ وہ جلال پور میںانور جلا پوری کے نام سے ایک ڈگری کالج قام کرنے کے سلسلے میں کوئی اعلان بھی فرمادیں۔ڈاکٹر عمار رضوی نے ’’اردو شاعری میں گیتا‘‘ سے کچھ اقتباس پڑھ کر مرحوم کو اپنا خراج پیش کیا۔

اتر پردیش حکومت میںوزیرڈاکٹر ریتا بہوگنا نے صاف اردو میں اپنے تعزیتی کلمات پیش کئے انھوں نے کہا کہ لکھنؤ ایسی شخصیات سے محروم ہوتا جا رہا ہے جنھوں نے اسکی شناخت اور شہرت میں اضافہ کیا ہے۔انور جلال پوری کا کوئی دائرہ نہیں تھا لسانی،مذہبی،مسلکی یاعلاقائی کسی قسم کا تعصب ان کے اندر نہیں تھا۔انھوں نے جس زبان اور تہذیب کے لئے کام کیااس کو زندہ اور تابندہ رکھنے کے لئے پرعزم ہونا چاہئے۔پروفیسرفضل امام نے کہا کہ انور جلال پوری کا سانحۂ ارتحال ایک المناک حادثہ ہے۔وہ شخص نہیں ایک شخصیت تھے۔ان کے جانے سے جو دکھ ہوا ہے اسے بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔وہ ذہنی تعصبات سے پاک تھے کم سے کم لفظوں میں بڑے سے بڑا مفہوم بیان کر دینے کے ہنرسے بخوبی واقف تھے۔انھوں نے فن نظامت کو معراج عطا کی۔پروفیسر شارب ردولوی نے کہا کہ انور جلالپوری کے انتقال سے صرف اردو ادب کا ہی نہیں بلکہ ہندوستانی ادبیات کا نقصان ہوا ہے۔فارسی،سنسکرت،عربی سے اردو میں ترجمے کئے۔ یہ وہ زبانیں ہیں جن میں ہندوستانی تہذیب کی جڑیں ہیں۔گیتا اور گیتانجلی کے ترجمے پہلے بھی ہوئے ہیں لیکن ترسیل اور مفہوم کو منتقل کرنے کی صلاحیت انور کے ترجمے میں زیادہ ہے۔ان کے ترجمے سلیس اور رواں ہیںاس لئے وہ بہتر ہیں۔انھوں نے کہا میں صرف ان کے خانوادے سے نہیں بلکہ پوری اردو دنیا سے تعزیت کا اظہار کر رہا ہوں۔لکھنؤیونیورسٹی میں شعبہ اردو کے سربراہ ڈاکٹر عباس رضا نیر نے انور جلال پوری سے اپنے رشتوں اور قربتوں کا ذکر کرتے ہوئے ان کے حالات زندگی اوران کی شخصیت کے تشکیلی مراحل کا تفصیل سے ذکرکیا اور کہاکہ انور جلال پوری نے تمام کارناموں کے علاوہ دو اور اہم کام بھی کئے ایک یہ کہ انھوں نے جلال پور میں مرزا غالب کے نام سے تعلیمی ادارہ قائم کیا جو اب انٹر کالج بن چکا ہے اور دوسرا اہم کام انھوں نے مدرسہ بورڈ کے چئیرمین کی حیثیت سے یہ کیا کہ مدرسے کے نصاب میں انگریزی ،سائنس اور حساب کو بھی شامل کیا تاکہ مدرسے سے فارغ التحصیل طلبہ عصری علوم کی روشنی سے بے بہرہ نہ رہیں۔ ان کے علاوہ ڈاکٹر ہری پرکاش ،حسن کاظمی،سلمیٰ حجاب ،احسن اعظمی ،پرویز ملک زادہ اورڈاکٹر منصور حسن خاں نے بھی اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔
وقار رضوی (کنوینر اردو رائٹرس فورم) نے اظہار تشکر کرتے ہوئے سامعین کے اٹھ جانے پر افسوس کا اظہار کیا انھوں نے کہا اب جتنے لوگ بچ گئے ہیں وہی دراصل انور جلال پوری کی تعزیت میں آئے ہیں اور جو لوگ گورنر اور نا ئب وزیر اعلی کے جانے کے بعدخود بھی چلے گئے وہ لوگ صرف گورنر اور نائب وزیر اعلی سے ملنے کی لالچ ہی میں آئے ہوں گے ۔انھوں نے انور جلال پوری کے بارے میں کہا کہ میرا ایک ہاتھ کٹ گیا ۔اب ان کا بدل کوئی نہیں ہے۔وقار رضوی نے اپنا ایک پروگرام یاد کرتے ہوئے کہا کہ جب میں نے ٹیچرس ڈے کے موقع پر کیمسٹری والوں کے لئے خصوصی پرگرام کیا تھا تو اس کی نظامت انور جلال پوری ہی کر رہے تھے اور اس خوبصورتی سے کر رہے تھے کہ بعد میں کیمسٹری والوں نے مجھ سے کہا کہ جب کوئی انور صاحب کا پروگرام ہو تو ہمیں ضرور بلائیے گا۔ان کی خوبی یہ تھی کہ جب وہ علی ڈے پر بولتے تو لوگ کہتے کہ ان سے اچھا کوئی شیعہ نہیں بول سکتا،جب وہ گیتا پر بولتے تو لوگ کہتے کہ ان سے بہتر کوئی پنڈت بھی نہیں بول سکتا۔ ظاہر ہے وہ صرف عقیدت کی بنا پر نہیں بلکہ مطالعہ کی بنیاد پر حقیقت کی روشنی میں بولتے تھے۔ان کی جگہ اب کوئی نہیں لے سکتا ہاں یہ ضرور ہے کہ جلال پور کا نام جن اونچائیوں پر انھوں نے پہونچایا اب وہاں سے آگے کا کام ڈاکٹر عباس رضا نیر جلال پوری کا ہے ۔انھوں نے اس موقع پر گورنر رام نائک،ڈاکٹردنیش شرما اور ڈاکٹر ریتا بہوگنا کوانور جلال پوری کی ترجمہ کی ہوئی کتابیں’’اردو شاعری میں گیتا‘‘اور’’گیتانجلی‘‘ پیش کیں۔
تعزیتی جلسہ میںپروفیسر ماہ رخ مرزا، پروفیسر صابرہ حبیب،پروفیسر سید شفیق اشرفی،ولایت جعفری،سراج مہدی،،ڈاکٹر رخسانہ لاری،سعید مہدی(بانی سکریٹری آل انڈیا کیفی اعظمی اکادمی)ڈاکٹر عارف ایوبی،ڈاکٹر ثوبان سعید،ڈاکٹر سلطان شاکر ہاشمی،ڈاکٹر طارق قمر،ایچ ایم یاسین،ڈاکٹر عبدالقدوس ہاشمی،احمد عرفان علیگ،ظفر علی نقوی،اشوک باجپئی،سلام صدیقی،عائشہ صدیقی،زین چاند پوری،خالد فتحپوری،محمد علی ساحل،یاسر جمال انصاری،اجے کمار سنگھ،فرقان بیگ،رحمت لکھنوی،قمر سیتاپوری،منظر الحق منظر لکھنوی،عبدالودود انصاری،شاہانہ عباسی،صفیہ قدوائی،شہلا غانم،غزالہ انورکے علاوہ مختلف شعبہ حیات کی مقتدر شخصیات بڑی تعداد میں موجود تھیں۔
٭انور جلال پوری کے نام سے ان کے وطن میں ڈگری کالج کھولا جائے:عمار رضوی:
٭صرف اردو ادب نہیں بلکہ ہندوستانی ادبیات کا نقصان ہے:پروفیسر شارب ردولوی
٭انور جلال پوری نے فن نظامت کو معراج کمال تک پہونچایا:پروفیسر فضل امام
٭ہر طرح کے مذہبی، مسلکی، لسانی اور علاقائی تعصب سے پاک تھے:ڈاکٹرریتا بہوگنا





