Wednesday, February 25, 2026
spot_img
HomeMuslim Worldاسلوب کا تغیر پسندیدگی کا باعث

اسلوب کا تغیر پسندیدگی کا باعث

प्ले स्टोर से डाउनलोड करे
 AVADHNAMA NEWS APPjoin us-9918956492—————–
अवधनामा के साथ आप भी रहे अपडेट हमे लाइक करे फेसबुक पर और फॉलो करे ट्विटर पर साथ ही हमारे वीडियो के लिए यूट्यूब पर हमारा चैनल avadhnama सब्स्क्राइब करना न भूले अपना सुझाव हमे नीचे कमेंट बॉक्स में दे सकते है|

ڈاکٹر معصوم رضا

محکمۂ اطلاعات و رابطہ عامہ اترپردیش سے شائع ہونے والے ’’نیادور‘‘ کا ماہ ستمبر2017کے شمارہ کو دیکھنے کے بعد اس بات کے ایقان میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے کہ حکومت اترپردیش اردو زبان و ادب کوفروغ دینے کی خاطر خواہ سعی کر رہی ہے۔ نیا دور کے ایڈیٹر سہیل وحید کی کوششوں سے ادب سے جڑے معروف صاحبان قلم کے مضامین ’’نیادور‘‘کی زینت میں اضافہ کا باعث ہی نہیں بن رہے بلکہ قارئین کو بھی ’’نیادور‘‘ میں دلچسپی کا سامان فراہم کر رہے ہیں۔ اگر شمارہ کے عنوانات کی بات کی جائے تو اس میں وہ تمام جواہر پا رے موجود ہیں جوایک ادبی مجلہ میں ہونے چاہئے خصوصی گوشہ میں یوپی کے گورنر رام نائک اور ان کی اردو دوستی کے مضامین شامل ہے جس میں پہلا مضمون خود ’نیادور‘ کے ایڈیٹر سہیل وحید کا ہے جو در اصل گورنر سے ہونے والی ایک گفتگو ہے۔ اس مضمون کو پڑھنے سے گورنر کی اردو دوستی آشکار ہوتی ہے۔ شہر لکھنؤ میں اردو زبان و ادب کے تعلق سے ہونے والی تمام تقاریب میں گورنر کی شرکت اس بات کی عکاس ہے کہ وہ صرف اردو کا زبانی احترام ہی نہیں کرتے بلکہ اس کے فروغ کی از بس کوشش بھی کرتے ہیں۔ اسی گوشہ میں وقار رضوی ایڈیٹر روزنامہ ’اودھ نامہ‘ کا بھی ایک مضمون شامل کیا گیا ہے جس میں مضمون نگار نے ’’اردو دوست گورنر جناب رام نائک‘‘ کی اردو کے حوالے سے کی جانے والی فعالیت پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے اور بتایا ہے کہ راج بھون میں گورنر کے توسط سے اردو زبان کو فروغ دینے کے لئے کس کس طرح کی کوششیں عمل میں آئی ہیں جن میں 69سال کی تاریخ میں پہلی بار گورنر ہائوس سے شائع ہونے والی سالانہ رپورٹ کا ہندی زبان کے ساتھ ساتھ اردو میں بھی شایع ہونا قابل ذکر ہے۔ یہی نہیں گورنر کی لکھی ہوئی کتا ب ’’ چریویتی چریویتی‘‘ کا اردو ترجمہ جو ’چلتے رہو چلتے رہو‘ کے عنوان سے شائع ہوا وہ بھی گورنر کی اردو دوستی کی مثال ہے۔ گورنر کی اردو کے تعلق سے اس گرم جوشی کو دیکھتے ہوئے مضمون نگار نے صحیح ہی لکھاہے کہ
’’اپنی اس اردو دوستی سے وہ (گورنر) اردو والوں کے دلوں میں اس طرح رچ بس گئے کہ اب تو اردو والوں کا کوئی بھی پروگرام ان کے بغیر ادھورا لگتا ہے ‘‘
اسی گوشہ میں گورنر کی کتاب چریویتی چریویتی سے ایک اقتباس ’’سوئے ٹوپی والے کا سبق‘‘ ان کی زندگی کی کچھ جھلکیاں دکھاتا ہوا اسی شمارہ میں جلوہ گر ہے۔
مضامین کے گوشہ میں نیلوفر حفیظ کا مضمون ’مغل دور میں فن صحافت کا ارتقا‘ ایک تاریخی اور معلوماتی مضمون ہے۔ ساتھ میں عبیداللہ ناصر کا مضمون ’’سوشل میڈیا کے مثبت اور منفی پہلو‘‘ بالکل حقائق پر مبنی مضمون ہے جو سوشل میڈیا کے منفی استعمال کو بیان کر کے نوجوان پڑھنے والوں کو اس طرف متوجہ کرنے کا فریضہ انجام دے رہا ہے کہ ایک کلک کے ذریعہ سماج کی پر امن فضا کو منافرت کے زہر سے آلودہ کرنے کا یہ شنیع کام کرنے سے گریز کریں۔ دوسرامضمون بھی کم و بیش اسی طرح کا ہے جس میں الکٹرانک میڈیا کے حوالے سے گفتگو کی گئی ہے۔
شمارہ میں شامل مختلف افسانہ، کہانی اور غزلیں اردو ادب کے دل دادگان کے لئے تسکین ذوق کا موقع فراہم کر رہی ہیں وہیں نئے تخلیق کا روں کے لئے ایک معیاری پلیٹ فارم بھی۔

مرزا جعفر حسین کا مضمون بھی لکھنؤ کی قدیم تاریخ کو تازہ کرتا ہوا شمارے میں موجود ہے۔ اس طرح کے مضامین سے نئی نسل کو گزشتہ لکھنؤکی بازیافت کروانے کی یہ سعی قابل تحسین ہے۔
’’نیادور‘‘ کی جانب سے کی جانے والی ایک اچھی پہل یہ بھی ہے کہ وہ ہندوستان کی دوسری زبانوں میں تخلیق ہونے والے ادب پاروں کو اردو زبان کے قارئین تک پہنچانے کا کام بھی بطریق احسن انجام دے رہا ہے اس سلسلے میں حمیددلوائی کے مراٹھی ناول ’’ایندھن‘‘ کی قسط اور عبدالخالق رشید کی پشتو زبان کی کہانی ’’بسمل‘‘ کا اردو ترجمہ شمارے میں شامل کیا گیا ہے۔ یہ کوشش ادب کے طالب علموں کے لئے مفید ہے اس لئے کہ مختلف زبانوں کے ادبی رجحانات سے آشنا ہونے کا موقع اس طرح میسر ہوتا ہے۔
’’نیادور‘‘ میں شامل قارئین کے خطوط کا مطالبہ بھی اس بات کا عکاس ہے کہ نیادور کا بدلا ہوا اسلوب قارئین کی دلچسپی کو بڑھانے کا باعث ہوا ہے۔ سہیل وحید کی قیادت میں انکا پورا عملہ جو نیادور کو مفید اور دلچسپ بنانے کے لئے لائق تبریک و تحسین ہیں۔

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img
- Advertisment -spot_img

Most Popular